کشمیر کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مشترکہ اجلاس آج

کشمیر کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مشترکہ اجلاس آج

اسلام آباد ( نمائندہ تہلکہ ٹی وی ) کشمیر کو تقسیم کرنے والی متنازع لائن آف کنٹرول پر حالیہ کشیدگی کے تناظر میں وفاقی کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی کے خصوصی اجلاسوں کے بعد  پارلیمان کا خصوصی مشترکہ اجلاس بدھ کو منعقد ہو رہا ہے۔

یہ اجلاس بلانے کا فیصلہ وزیراعظم نے انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوؤں کے بعد کیا تھا۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ انڈیا یہ اقدامات اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی حالیہ خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے کر رہا ہے۔ مشترکہ اجلاس میں کشمیر کا معاملہ ہی ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس انڈین فوج کے مظالم کا شکار کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بلایا گیا ہے۔

 پارلیمان میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت کے چیئرمین عمران خان نے منگل کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اس اجلاس میں کسی خاص پیش رفت کی امید نہیں۔ اس اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نواز شریف نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات خصوصاً کشمیر کے حوالے سے ہم سب اکھٹے ہیں۔ ان کا کہنا تھا انڈیا اپنی جارحیت سے کشمیر کی تحریک کو کچل نہیں سکتا۔