لاہورہائیکورٹ : الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ، اٹارنی جنرل وضاحت کیلئے طلب کر لیا

لاہورہائیکورٹ : الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ، اٹارنی جنرل وضاحت کیلئے طلب کر لیا

لاہور(نمائندہ تہلکہ ٹی وی)  ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ نے ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت کی غیرسنجیدگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو وضاحت کیلئے طلب کر لیا۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے آفتاب ورک سمیت دیگر کی طرف سے ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے، وفاقی حکومت کو ایم کیو ایم پر پابندی اور الطاف حسین کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواستیں دی گئیں۔ لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے، کمرہ عدالت میں موجود وزارت داخلہ کے سیکشن افسر نے بنچ کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر وزارت قانون سے رائے مانگی ہے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کی طرف سے وزارت قانون کو بھجوائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا اور وفاقی حکومت کی وکیل سٹینڈنگ کونسل حنا حفیظ اللہ خان سے استفسار کیا کہ کیا۔ انہوں نے وزارت داخلہ کی ان دستاویزات کا جائزہ لیا ہے جس پر سٹینڈنگ کونسل نے کہا کہ وہ اس فائل کو نہیں پڑھ سکیں جس پر فل بنچ نے سٹینڈنگ کونسل کے رویے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا وفاقی حکومت کی یہ سنجیدگی ہے کہ وزارت داخلہ کی فائل پر انتہائی عام طریقے سے نوٹنگ کی گئی ہے۔ یہ عمل ظاہر کرتاہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے، سٹینڈنگ کونسل نے موقف اختیار کیا کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔

واضح جواب جمع کرانے کیلئے وقت دیا جائے، عدالت نے وفاقی حکومت کی وکیل کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی سترہ اکتوبر کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تو وفاقی حکومت کی وکیل نے کہا کہ وہ مصروفیت کے باعث پیش نہیں ہو سکیں گے لہذا یہ حکم واپس لیکر وزارت داخلہ کو جواب جمع کرانے کی مہلت دی جائے جس پر درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ اورنج ٹرین کیس میں اٹارنی جنرل طلب نہ کرنے کے باوجود پیش ہوتے رہے ہیں تو پھر اس اہم کیس میں کیوں پیش ہونے سے کترا رہے ہیں، فل بنچ نے تمام دلائل سننے کے بعد اٹارنی کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیدیا