یاہو نے امریکی حکومت کے لیے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا کھنگال ڈالا

یاہو نے امریکی حکومت کے لیے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا  کھنگال ڈالا

کیلیفورنیاّ (فارن ڈیسک) ای میل سروس فراہم کرنے والی مشہور امریکی کمپنی یاہو نے 2015 میں امریکی حکومت کے کہنے پر اپنے کروڑوں صارفین کا ای میل ڈیٹا خفیہ طور پر کھنگالا۔

یاہو کی جانب سے اس خبر کے جواب میں صرف اتنا کہا گیا کہ وہ ’’قانون کی پابندی کرنے والی کمپنی‘‘ ہے لیکن مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یاہو نے امریکہ کی نیشنل سیکیوریٹی ایجنسی (این ایس اے) اور ایف بی آئی کےلئے پچھلے سال ایک خاص سافٹ ویئر بنایا تھا جو کسی بھی پیغام (ای میل) کے متن میں موجود مخصوص الفاظ شناخت کرکے متعلقہ پیغام کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

یاہو نے اپنے کروڑوں صارفین کا ای میل ڈیٹا کھنگالنے کےلئے یہ سافٹ ویئر اس طرح استعمال کیا کہ جیسے ہی کوئی صارف اپنے یاہو ای میل اکاؤنٹ سے ای میل بھیجتا یا اس پر ای میل وصول کرتا، یہ سافٹ ویئر فوری طور پر اس پیغام  کے متن کا جائزہ لیتا اور دیئے گئے مخصوص الفاظ (کی ورڈز) کے اس ای میل میں موجود ہونے یا نہ ہونے کا پتا چلاتا۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا زیادہ مخصوص الفاظ اس ای میل میں موجود ہوتے تو یہ خودکار نظام اس ای میل اور متعلقہ صارف کو ’’مشکوک‘‘ کے طور پر نشان زد کردیتا لیکن چونکہ یہ سارا عمل خفیہ رکھا گیا تھا اس لئے صارف کو اس چھان بین کے بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا۔

این ایس اے، ایف بی آئی، سی آئی اے، پنٹاگون اور امریکہ کے دوسرے انٹیلیجنس ادارے گزشتہ چند سال سے مسلسل یہ زور دیتے آرہے ہیں کہ ’’قومی سلامتی‘‘ کی خاطر انہیں انٹرنیٹ پر موجود افراد کے نجی اور خفیہ ڈیٹا تک رسائی ملنی چاہئے؛ خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک سے کیوں نہ ہو۔ اسی لئے 2008 میں ’’فارن انٹیلیجنس سرویلینس ایکٹ‘‘ میں ترامیم کے ذریعے امریکی انٹیلیجنس/ سیکیوریٹی اداروں کو اختیار دیا گیا کہ وہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سے متعلق سہولیات فراہم کرنے والی کسی بھی کمپنی سے اس کے صارفین کا کسی بھی قسم کا نجی ڈیٹا طلب کرسکیں یا اس تک رسائی حاصل کرسکیں؛ تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ دہشت گردی سے بچا جاسکے۔

اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروایا جارہا ہے جس کے تحت امریکہ کی متعدد آئی ٹی کمپنیاں اپنے کروڑوں صارفین کا ڈیٹا، جو آن لائن سرورز پر محفوظ ہے، امریکی انٹیلیجنس اداروں کو فراہم کرچکی ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقعہ ہے جب کسی کمپنی کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ اس نے ’’حقیقی وقت‘‘ (real time) میں اپنے صارفین کی بھیجی اور وصول کی جانے والی ای میلز کھنگالی ہیں؛ اور وہ بھی خفیہ طور پر۔