2016 کیمسٹری کا نوبل انعام سالماتی مشینیں تیار کرنے والے 3 سائنسدان

2016  کیمسٹری کا نوبل انعام سالماتی مشینیں تیار کرنے والے 3 سائنسدان

اسٹاک ہوم ( ٹیکنالوجی) رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے اس سال کے نوبل انعام برائے کیمیا کا اعلان کردیا ہے جو سالماتی مشینیں تیار اور ڈیزائن کرنے والے تین سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔

ان میں سے جین پیری ساویج کا تعلق یونیورسٹی آف اسٹراسبرگ، فرانس سے، سر جے فریزر اسٹوڈارٹ کا تعلق نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی، امریکہ سے، جبکہ برنارڈ ایل فرنگا کا تعلق ہالینڈ کی یونیورسٹی آف گروننجن سے ہے۔ ایک چھوٹی سی سالماتی لفٹ، مصنوعی پٹھے اور خردبینی موٹریں؛ یہ ہیں وہ کارنامے جو اس سال کیمیا کا نوبل انعام حاصل کرنے والے تینوں سائنسدانوں نے انجام دیئے ہیں۔ نوبل انعام کی رقم (جو 930,000 امریکی ڈالر کے مساوی ہے) ان تینوں ماہرین میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔ اوپر بیان کی گئی تمام چیزوں کا تعلق حرکت سے ہے اور سالماتی پیمانے پر ایسی مشینیں تیار کرنا کہ جن کی حرکت ہم اپنی ضرورت کے مطابق کنٹرول کرسکیں، بہت ہی مشکل کام ہے۔ ساویج، اسٹوڈارٹ اور فرنگا، تینوں نے الگ الگ کام کرتے ہوئے یہ مشکل کام کر دکھایا۔

انہوں نے ایسے سالمات (مالیکیولز) تیار کئے جن کی حرکت کنٹرول کی جاسکتی ہے اور جو بہت معمولی توانائی دینے پر مطلوبہ کام انجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو ایک نئے انقلاب سے ہم کنار کرنے میں برقی آلات کی اختصار کاری (miniaturization) کا کردار اہم ترین رہا ہے بالکل اسی طرح بہت مختصر پیمانے پر سالمات کی حرکت کو قابو میں کرنے اور اپنی ضرورت کے تابع بنانے کی بدولت کیمیا میں امکانات کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔

جین پیری ساویج نے 1983 میں حلقے جیسی شکل والے دو سالمات کو آپس میں جوڑ کر ایک سالماتی زنجیر تیار کی جسے حرکت دی جاسکتی تھی۔ 1991 میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے فریزر اسٹوڈارٹ نے سالماتی چھلے اور سلاخ پر مشتمل ایک متحرک نظام تیار کیا جس میں چھلا اس سلاخ پر اسی طرح گھوم سکتا تھا جیسے پہیہ اپنے ایکسل کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنیادی ڈیزائن کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے ایک سالماتی لفٹ، ایک سالماتی پٹھا (عضلہ) اور سالمات پر مبنی کمپیوٹر چپ بھی ایجاد کی۔

برنارڈ فرنگا بھی پیچھے نہ رہے اور 1999 میں انہوں نے ایک سالماتی روٹر بلیڈ کو ایک ہی سمت میں مسلسل گردش دینے میں کامیابی حاصل کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے سالماتی موٹر کی مدد سے شیشے کے ایک ایسے سلنڈر کو گردش دی جو جسامت میں اس موٹر سے دس ہزار گنا بڑا تھا۔ انہوں  نے ایک عدد ’’نینوکار‘‘ یعنی نینومیٹر پیمانے کی سالماتی کار بھی تیار کی۔