پارلیمنٹ میں مشاہد اللہ خان کی تقریرپر، مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘ کے نعرے

پارلیمنٹ میں مشاہد اللہ خان کی تقریرپر، مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘ کے نعرے

اسلام آباد (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشاہد اللہ خان نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ تو پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’’جو مودی کا یار ہے ۔ غدار ہے غدار ہے‘‘ کے نعرے لگانے شروع کردیئے ۔

اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ کل بھوشن جیسا بڑا افسر آج تک کبھی ہاتھ نہیں آیا، ایسے اقدامات ہوں کہ پتاچلے حکومت نے قومی یکجہتی کی ضرورت کا احساس کیا، اگر مودی کے ہاتھ ایسا شخص لگ جاتا تو وہ اسے اقوام متحدہ لے جاتا لیکن نواز شریف نے اپنے خطاب میں اس نام تک نہیں لیا، جس دن وزیراعظم کل بھوشن کا نام لیں گے تب وہ سمجھیں گے کہ  انہوں نے مودی کوصحیح پشیمان کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ مودی سرکار اور بھارتی حکومت دباؤکا شکار ہے، کشمیر دنیا کا واحد اٹوٹ انگ ہےجہاں فوج لگی ہے، اعتزاز احسن اور خورشید شاہ نے بھی وزیراعظم کی تقریر کی تعریف کی، آپ کہتے ہیں 2018 میں پیپلزپارٹی کا وزیراعظم ہوگا، کہا گیا کہ کلبھوشن کا نام نہیں لیاگیا، 2018 تو کیا 2028 میں بھی آپ کا وزیراعظم نہیں بنے گا ،یہ کہتےہیں نوازشریف پاناما پیپرز میں اپنے آپ کو کلیئر کریں۔

اسپیکر کی جانب سے مشاہد اللہ خان کو کشمیر پر بات کرنیکی ہدایت کی لیکن وہ اپنی بات کرتے رہے، اسی دوران پیپلز پارٹی کے ارکان نے ’’جو مودی کا یار ہے ۔ وہ غدار ہے غدار ہے‘‘ کے نعرے لگانے لگے۔ جس پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ یہ خود کوجمہوریت پسند پارٹی کہتے ہیں ان کے تماشے دیکھیں، انہیں یہ بتانا ہوگا کہ انہیں چھلانگیں مارنا کس نے سکھایا ، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سکھوں کی فہرستیں بھارتی انٹیلی جنس چیف کو دی گئیں ، اتنا جوش خالصتان کی تحریک کےاڈے تباہ کرتے ہوئے دکھاتے،بینظیر بھٹو شہید کا فہرستیں دیے جانے پر شکریہ ادا کیا گیا۔

مشاہد اللہ خان کی تقریر پر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں پہلے سے امکان نظر آرہا تھا کہ گالی گلوچ بریگیڈ توپیں چلائے گا اور ان توپوں کا رخ ان کی جانب ہوگا۔ حکومت الزام نہیں لگاتی پرچہ دے دیتی ہے، گالی گلوچ بریگیڈ کے پاس الزام رہ جاتے ہیں، جب کچھ نہیں ملتا تو ایل پی جی یا سکھوں کی فہرستیں کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں کہا تھا الزام نہ لگائیں مقدمہ چلائیں، انہیں کوئی ڈرا یا غائب نہیں کرسکتا، وہ نہ پہلے بھاگے تھے اور نہ اب بھاگیں گے، پرویز مشرف کی سب سےزیادہ مخالفت انہوں نے کی۔۔