ایران نے جاسوس امریکی ڈرون جیسا طیارہ تیار کرلیا

ایران نے جاسوس امریکی ڈرون جیسا طیارہ تیار کرلیا

 

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’’سیما نیوز‘‘ نے یکم اکتوبر 2016 کو ایک ویڈیو جاری کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ایران نے امریکہ کے غیر انسان بردار طیارے (یو اے وی) ’’آر کیو 170 سینٹینل‘‘ کی مقامی نقل تیار کرلی ہے جسے ’’صاعقہ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

دفاعی ویب سائٹ ’’آئی ایچ ایس جینز‘‘ نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پروڈکشن لائن میں دکھائے گئے درجن بھر سے زیادہ ’’صاعقہ‘‘ یو اے ویز کا بغور جائزہ لینے پر پتا چلتا ہے کہ ایران نے ’’سینٹینل‘‘ کی ایک نہیں بلکہ دو نقلیں تیار کی ہیں۔ ویڈیو کا یہ حصہ ایرانی دفاعی تیاریوں سے متعلق سیما نیوز کی ایک دستاویزی فلم کا حصہ ہے جس میں ایرانی افواج کے ایئرواسپیس ڈویژن کی تازہ ترین کامیابیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

آئی ایچ ایس جینز نے مزید لکھا ہے کہ بظاہر یہ تمام یو اے ویز تقریباً مکمل حالت میں ہیں جن کی مجموعی تعداد 13 ہے؛ جن میں دو ایسے ہیں جنہیں امریکی ’’سینٹینل‘‘ کی ہوبہو نقل کہا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں سامنے کی طرف سے ہوا کے داخلے کےلئے ایک عدد جالی (grilled air intake) موجود ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں ایک ایک جیٹ انجن نصب کیا گیا ہوگا۔ باقی  کے 11 ’’صاعقہ‘‘ میں ہوا کے داخلے والی جالی خاصی چھوٹی ہے جو عموماً پسٹن انجن یا ٹربوپروپ انجن والے یو اے ویز کی امتیازی علامت ہوتی ہے۔

لاک ہیڈ مارٹن کی مشہورِ زمانہ تجربہ گاہ ’’اسکنک ورکس‘‘ کا تیار کردہ ’’آر کیو 170 سینٹینل‘‘ امریکی فضائیہ کے استعمال میں ہے۔ اگرچہ اس کے بارے میں بھی زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں لیکن وکی پیڈیا کے مطابق اس کے بازؤوں کا پھیلاؤ 66 فٹ تک ہوسکتا ہے جبکہ اس کا جیٹ انجن اب تک ایک راز ہے۔ اندازہ ہے کہ اس کا زیادہ سے زیادہ وزن 8,500 پاؤنڈ تک ہوسکتا ہے اور شاید یہ دورانِ پرواز زیادہ سے زیادہ 50,000 فٹ کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔

دسمبر 2011 میں ایران نے اپنی فضائی حدود میں پرواز کرنے والا ایک امریکی آر کیو 170 یو اے وی سالم حالت میں گرالیا تھا جسے شدید امریکی اصرار کے باوجود واپس نہیں کیا تھا؛ ’’صاعقہ‘‘ اسی کی نقل ہے۔