تولیدی علاج سے پیدا ہونے والے لڑکوں کو بھی مسائل ہوتے ہیں

تولیدی علاج سے پیدا ہونے والے لڑکوں کو بھی مسائل ہوتے ہیں

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ لڑکے جن کے والد کو ناقص مادۂ منویہ (سپرم) کی وجہ سے علاج کی ضرورت پڑی تھی، جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو ان کے سپرم کا معیار بھی ناقص ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ناقص تولیدی صلاحیت والدین سے ان کے بیٹوں میں منتقل ہوتی ہے۔ تاہم ایک برطانوی ماہر نے کہا ہے کہ یہ تحقیق اس لحاظ سے تسلی بخش ہے کہ بیٹوں کے نتائج ہوبہو ان کے والدین کے نتائج جیسے نہیں تھے۔ تولید کے طریقے ICSI میں اچھے معیار کا ایک سپرم منتخب کر کے اسے براہِ راست عورت کے بیضے میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ یہ تکنیک 1990 کی دہائی کی اوائل میں وضع کی گئی تھی اور اس سے ان مردوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جن کے سپرم تعداد میں کم ہیں، ان کی شکل ٹھیک نہیں ہے یا وہ مناسب طور پر حرکت نہیں کر پاتے۔ 2013 میں 37566 جنین ICSI کے طریقے سے منتقل کیے گئے تھے۔

حالیہ تحقیق برسلز یونیورسٹی، جہاں ICSI کا طریقۂ کار متعارف کروایا گیا تھا، کی ایک ٹیم نے کی۔ اس کے دوران 18 سے 22 سال کی عمر کے 54 مردوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کا تقابل اسی عمر کے 57 دوسرے مردوں کے ساتھ کیا گیا جو نارمل طریقے سے پیدا ہوئے تھے۔ ICSI کے طریقۂ کار کے تحت پیدا ہونے والے مردوں کے سپرم کا ارتکاز آدھے کے لگ بھگ تھا جب کہ متحرک سپرم، جو اچھی طرح سے تیر سکتے ہیں، کی مقدار بھی کم تھی۔ اس کے علاوہ اسی عمر کے عام مردوں کے مقابلے میں ان کے سپرم کی تعداد آدھی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے سپرم کی تعداد عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے سپرم کی ‘نارمل’ تعداد، یعنی ڈیڑھ کروڑ فی ملی لیٹر، سے کم ہونے کے امکانات تقریباً تین گنا زیادہ تھے۔ مرکزی تحقیق کار پروفیسر آندرے فان سٹائرٹیگم نے کہا کہ یہ اس نظریے کی جانچ پڑتال کا پہلا موقع ہے کہ باپ کے سپرم کا ناقص معیار بیٹوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا: ‘یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مردانہ بانجھ پن میں جینیاتی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے علاوہ دوسری چیزیں بھی خلل انداز ہوتی ہیں۔