سوات کے اخبارات اور صحافی غیر محفوظ کیوں؟

سوات کے اخبارات اور صحافی غیر محفوظ کیوں؟

خیبر پختو نخوا (مانیٹرنگ ڈیسک)  خیبر پختونخوا کے وادی سوات میں 2009 کی فوجی کارروائیوں اور ملالہ یوسف زئی پر طالبان حملے کے بعد مقامی انتظامیہ نے ضلع بھر کے تمام بڑے اخبارات اور بعض سینئر صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کےلیے پولیس کی سکیورٹی دی تھی تاہم حالیہ دنوں میں ان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جس سے اخباری مالکان اور صحافی برادری خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہے۔

سوات میں 2009 میں ہونے والے فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقہ کالعدم تنظیموں سے صاف کرا دیا گیا تھا۔ تاہم یہ آپریشن اس حد تک انتہائی موثر رہا کہ اس کے باعث شدت پسندوں سے وادی کا قبضہ چھڑا لیا گیا لیکن اس کے بعد علاقے میں ہدف بنا کر قتل کے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو بدستور کئی سالوں سے وقفوں وقفوں سے جاری ہے۔ ان ٹارگٹ کلنگ کے حملوں میں بیشتر سکیورٹی فورسز کے اہلکار، پولیس اور مقامی امن کمیٹیوں کے افراد نشانہ بنائے جاتے رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے ان واقعات پر قابو پانے کی خاطر امن کمیٹیوں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ سوات کے تمام بڑے مقامی اخبارات اور صحافیوں کو بھی پولیس کے محافظ فراہم کر دیئے تھے تاکہ ان پر ممکنہ حملوں کو روکا جاسکے۔ تاہم حالیہ دنوں میں تمام اخبارات اور صحافیوں سے پولیس کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے جس سے مقامی اخباری مالکان خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

سوات کے سب سے پرانے مقامی اردو اخبار روزنامہ شمال کے مالک اور سینئیر صحافی غلام فاروق کا کہنا ہے کہ سوات بھر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہےجسکی وجہ سے اب بھی زیادہ تر لوگ فجر اور عشا کی نمازیں مسجدوں میں پڑھنے کی بجائے گھروں میں ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر سے سکیورٹی واپس لینے کے بعد اب ان کے اخبار کا تمام عملہ خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگا ہے۔ غلام فاروق کے مطابق اس سلسلے میں مینگورہ تھانے میں ان کی طرف سے رپورٹ درج کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے انکار کردیا جبکہ ضلعی پولیس سربراہ کو بھی اس ضمن میں مطلع کردیا گیا ہے۔ ‘

سوات کا شمار صوبے کے ان بڑے شہروں میں ہوتا ہے جہاں پشاور کے بعد سب سے زیادہ اخبارات اور رسائل شائع ہوتے ہیں۔ سوات میں طالبان کے عروج اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران چار صحافی اپنی زندگیاں گنوا چکے ہیں جن میں موسیٰ خان خیل، عبدالعزیز شاہین، قاری شعیب اور سراج الدین شامل ہیں جبکہ ایک سینیئر صحافی شیرین زادہ کی ہمشیرہ ان کے گھر پر فائرنگ سے ہلاک ہوگئی تھیں۔

اس کے علاوہ سوات کے صحافیوں کو وقتاً فوقتاً مسلح تنظیموں کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط بھی ملتے رہے ہیں۔

سوات کے ایک اور سینئیر صحافی اور مقامی اخبار نوسیوں کے نمائندے شیرین زادہ کا کہنا ہے کہ کچھ سال پہلے انہیں بھی پولیس کی طرف سے ایک محافظ دیا گیا تھا جو اب ان سے واپس لے لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سوات میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی تو پھر وہ کیوں کر سکیورٹی گارڈ کا مطالبہ کرتے۔ان کے بقول ہدف بناکر قتل کے واقعات مسلسل ہورہے ہیں جسکی وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ حالات مکمل طورپر درست ہوگئے ہیں ۔

ادھر دوسری طرف سوات کے ضلعی پولیس سربراہ سلیم مروت نے رابطہ کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کےلیے یہ ممکن نہیں کہ ہر ہر اخبار کو سکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ ان کے اپنی ضروریات بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات پریس کلب تمام صحافیوں کا ادارہ ہے لہذا وہاں باقاعدہ سکیورٹی دی گئی ہے لیکن ہر صحافی یا ہر اخبار کو تحفظ فراہم کرنا مشکل ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اخباری مالکان کو تحفظ کی ضرورت ہے تو پولیس ان کو ایک طریقہ کار کے تحت اسلحہ رکھنے کی اجازت دے سکتی ہے اور اس ضمن میں مالکان کو مطلع بھی کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان گذشتہ کچھ عرصہ سے صحافیوں کےلیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی اور کمزور صحافتی تنظیموں کے باعث صحافیوں کے مشکلات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

بی بی سی