پنجاب کیلئے ایکشن نہ پلان، صرف بیان، تحقیقاتی وتجزیاتی رپورٹ

پنجاب کیلئے ایکشن نہ پلان، صرف بیان، تحقیقاتی وتجزیاتی رپورٹ

لاہور (رضی طاہر) عالمی برادری پاکستان سے مطالبہ کررہی ہے کہ جیش محمد، مسعود اظہر، حافظ سعید،لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے۔یہ انکشاف گزشتہ ہفتے ایک اجلاس میں سیکرٹری خارجہ نے کیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی سول حکام ان گروپس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ انہیں رہا کرانے کے لیے پس پردہ کوششیں شروع کردیتی ہے۔ ڈان نیوز کی اس رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی سے اس مکالمے نے میرے سمیت سب کو حیران و ششدر کردیا ہے، یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں ہے کہ ان تمام کالعدم تنظیمات کا گڑھ پنجاب ہے، ذیل میں کچھ اہم فیصلوں اور انکشافات کا ذکر کررہے ہیں تاکہ یہ بات سمجھی جاسکے کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے اور نہ توڑنے میں کس کی ناکامی ہے۔

پنجاب میں نو گوایریاز کا انکشاف ‘ کاروائی کیوں نہ ہوسکی ؟

وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ 29مارچ 2016کویہ دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب میں کوئی نو گو ایریا نہیں ہے، نہ ہی دہشتگردوں کا کوئی مضبوط نیٹ ورک یہاں کام کررہا ہے، جبکہ اس سے ایک ماہ قبل ہی چھوٹو گینگ کے منظر عام پر آنے ، کچے کے علاقے میں نو گوایریا ہونے اور اس کی گرفتاری کیلئے پنجاب پولیس کی ناکامی سب کے سامنے آچکی تھی، جس پر وزیرقانون پنجاب کا یہ کہنا کہ نو گوایریا نہیں ، قابل تسلیم بیان نہیں ہے۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا 23اگست 2016کو بیان جاری کیا تھا کہ پنجاب میں کوئی نوگوایریا نہیں ہے ، لیکن اپنے ہی اس بیان کی نفی انہوں نے ایک سرکاری حکم نامے میں کردی۔پولیس ذرائع کے مطابق 11ستمبر2016کو آئی جی پنجاب کی جانب سے آر پی اوز کو ایک مراسلہ جاری کیا گیا جس میں نوگو ایریاز کی تفصیلات طلب کی گئیں۔سوال یہ ہے کہ اگر نو گو ایریا نہیں ہیں تو چھوٹو گینگ کہاں سے نمودار ہوا، اگر نو گو ایریا ہیں تو پھر اس کے خلاف پولیس کی ناکامی تو چھوٹو گینگ آپریشن کے وقت ہی سامنے آچکی ہے تو رینجرز کو طلب کرنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے ؟

یہ بھی پڑھیئے : پنجاب میں نوگو ایریاز، آئی جی پنجاب نے تفصیلات طلب کرلیں

پنجاب ایپکس کمیٹی کے فیصلے ۔۔۔۔ عملدرآمد کیوں نہ ہوسکا ؟

پنجاب ایپکس کمیٹی کے 26نومبر2015کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا، اس اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پنجاب جو آبادی کے لحاظ سے 52فیصد ہے، میں نو گوایریاز کا انکشاف کیا گیا تھا، مزید رپورٹ میں فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا، جن کے تانے بانے 60سے70فیصد فرقہ وارانہ دہشتگردی سے ملتے ہیں۔ پنجاب کے نو گوایریاز میں چائینہ پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کیخلاف سازشوں کی تیاری کا بھی خوفناک انکشاف اس رپورٹ میں سامنے آیا جس کے مطابق بیرونی عناصر سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے پنجاب میں منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ رپورٹ میں پنجاب میں متحرک فرقہ وارانہ تنظیمیں غازی برادرزاور آئی ایس آئی ایس کا بھی سنسنی خیز انکشاف ہوا تھا۔ ایپکس کمیٹی پنجاب نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پنجاب پولیس کے پاس اتنے ذرائع، واضح سمت اور وسائل نہیں ہیں کہ وہ ان سے نمٹ سکے، اور اسی وجہ سے حالیہ آپریشن میں ناکام ہوچکی ہے۔ لہذافی الفور رینجرز کوپنجاب بلایا جائے۔اپیکس کمیٹی نے تجویز کیا تھا کہ کسی علاقے کی نشاندہی اور وقت کے تعین کے بغیر رینجرز کو اختیارات دیئے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس پر کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کس کی ذمہ داری تھی ؟

یہ بھی پڑھیئے : پنجاب حکومت نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ، دستاویزی ثبوت سامنے آگئے

پنجاب میں رینجرز کے محدود اختیارات ۔۔۔ سمری ردی کی ٹوکری کی نذر

مورخہ 7 ستمبر2016، محکمہ داخلہ پنجاب نے رینجرز تعیناتی کی سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کی تھی،وزارت داخلہ نے صوبے میں رینجرز کو پاکستان رینجرز آرڈیننس کے تحت 60 روز کے لیے اختیارات دینے کی تجویز دی اور رینجرز کو جے آئی ٹیز میں نمائندگی دینے کی سفارش کی گئی تھی۔تاہم اس سمری کو بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کردیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیئے : رینجرز کو اختیارات دینے میں پنجاب حکومت متذبذب

دہشتگردوں کے 70فیصد مالی مددگار ۔۔۔ پنجاب سے !!

مورخہ 26ستمبر2016کو سٹیٹ بینک نے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 2100اکاؤنٹس کو منجمند کیا، سٹیٹ بینک کی طرف سے منجمند کیے جانیوالے2100اکاؤنٹس میں سے1443اکاؤنٹس کا تعلق بھی پنجاب سے نکلا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کے70فیصد مالی مددگاروں اور سہولت کاروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نیکٹا نے جو کام 18 ماہ کی تاخیر سے شروع کیا وہی کام قومی ایکشن پلان کی منظوری کے فوری بعد شروع ہو جاتا تو 18 ماہ کے درمیانی عرصہ میں دہشتگردی کے واقعات سے بچا جا سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے : نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد نہ ہونےکا اقدام ہائیکورٹ میں چیلنج

سوال یہ ہے ؟

ڈان نیوز کی اوپر دی گئی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کا ڈی جی آئی ایس آئی سے سوال پریشان کن ہے ، لیکن ان تمام سوالات کا جواب دینا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری ہے اور آئی ایس پی آر کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ ڈان کی اس رپورٹ سے متعلق وضاحت کرے ، یہ الزام چھوٹا نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے باعث تشویش ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں کب آپریشن شروع ہوگا ؟ کب نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل ہوگا؟ کیا اسے آرمی چیف کی ناکامی سمجھیں یا پھر وزیراعلیٰ پنجاب کو مورد الزام ٹھہرائیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ پاکستان کی ناکامی ہے ، اور ہمیں اگر دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو پنجاب میں موجود دہشتگردوں کی نرسریوں کو ختم کرنا ہوگا۔