پاکستان نے 3 ہزار میگاواٹ بجلی دینے کی ایرانی پیشکش ٹھکرا دی

پاکستان نے 3 ہزار میگاواٹ بجلی دینے کی ایرانی پیشکش ٹھکرا دی

اسلام آباد: ایران نے توانائی مسائل حل کرنے کے لیے 3 ہزار میگاواٹ تک ٹرانسمیشن پاور لائن کی تعمیرکی تجویز پیش کر دی جسے پاکستان نے مسترد کردیا ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کا دورہ کیا اور چیئرمین بی او آئی ڈاکٹر مفتاح اسماعیل اور سیکریٹری اظہر علی چوہدری سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ایرانی سفیر نے بتایا کہ امریکی پابندیاں ہٹنے کے بعد ایران پاکستان سے سرمایہ کاری اور تجارت میں اضافہ چاہتا ہے، دونوں ملکوں کے ایک جیسے کلچر، مذہب، زبان اور روایتی اقدار ہیں جوپاکستان اور ایران کو دیگر ممالک سے زیادہ نمایاں کرتی ہیں، ایران افغانستان کو پاکستان سے 4 گنا زیادہ اشیا کی برآمدات کر رہا ہے۔

انہوں نے تجارت میں اضافے کے لیے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تجارت میں اضافے کے لیے روڈ میپ تیارکرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پہلے ہی ہو چکے ہیں۔ انھوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں بھی اپنی دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ پاکستان میں توانائی کی کمی ہے۔

اس سلسلے میں انھوں نے ایران 500سے 3 ہزار میگاواٹ تک کی ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر میں دلچسپی کا اظہار کیا جس پر چیئرمین مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر اور توانائی کی خریداری بلوچستان سے مشکل ہے کیونکہ بلوچستان کے ایریا میں آبادی کم ہے اور بجلی کے استعمال کی صلاحیت نہیں ہے اور بلوچستان سے دوسرے صوبوں تک بجلی نہیں پہنچائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت کے فروغ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔