قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، سینئر صحافی اسد کھرل نے اہم سوالات اٹھادیئے

قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، سینئر صحافی اسد کھرل نے اہم سوالات اٹھادیئے

لاہور (تہلکہ ٹی وی خصوصی رپورٹ) وزیراعظم میاں نوازشریف کے دوراقتدار میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر وفاقی وزراء کا تو جیسے معمول ہی بن گیا ہو، اس مہم جوئی میں سینیٹر مشاہد اللہ، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق اور وفاقی وزیراطلاعات و نشریات بھی پیش پیش نظر آرہے ہیں، علاوہ ازیں وزیراعظم کے اتحادی مولانا شیرانی، محمود خان اچکزئی بھی اس دوڑ میں کسی سے کم نہیں، سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل نے اہم سوالات اٹھادیئے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ قومی سلامتی کےاداروں کیخلاف بولنے پرالطاف حسین پرپابندی لگا دی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ خواجہ آصف،سعدرفیق ،مشاہدہ اللہ،پرویزرشید، اچکزئی،مولانا شیرانی پرپابندی کون لگائے گا۔

خواجہ آصف ،خواجہ سعد رفیق کی قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی کس کے اشاروں پر؟ سنیٹرمشاہد اللہ کو پاک فوج کیخلاف سکرپٹ کہاں سے ملا؟

وزیراعظم نواز شریف نے پاک فوج کیخلاف اسمبلی میں تقریر پر بطور انعام خواجہ آصف کو پانی و بجلی کے علاوہ وزارت دفاع کا اضافی قلمدان سونپ دیا

وزیراطلاعات ونشریات سینیٹرپرویز رشیدکی اجتماع میں فوج کیخلاف ہرزہ سرائی کیا محض اتفاقیہ یاڈان کی سٹوری سے قبل حکومتی مائنڈ سیٹ ظاہر کیا گیا

وزیراعظم ہائوس میں مریم سفدر کی سربراہی میں قائم میڈیا سیل،وزرا اور حکومت کے اتحادی محمودخان اچکزئی اورمولانا شیرانی کس کی زبان بولتے ہیں ؟

قومی سلامتی کےاداروں کیخلاف بولنے پرالطاف حسین پرپابندی،خواجہ آصف،سعدرفیق ،مشاہدہ اللہ،پرویزرشید، اچکزئی،مولانا شیرانی پرپابندی کون لگائےگا