انیس سال بعد انصاف ملا، مگر وہ نہ رہا

انیس سال بعد انصاف ملا، مگر وہ نہ رہا

اسلام آباد : انصاف میں تاخیر کا مطلب ہے کہ انصاف ہی نہیں دیا گیا،آپ نے فلموں میں سنا ہو گا کہ عدالت میں کیس کئی نسلوں تک چلتا رہا اور انصاف نہ مل سکا

پاکستان میں بھی ایک بے قصور شہری مظہر حسین 19 سال قتل کے مقدمہ میں قید رہا اور نظام عدل کا ایسا شکار ہوا کہ 19 سال بعد عدالت نے اسے بے قصور قرار دیتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیاتاہم پتا چلا کہ مظہر حسین تودوسال قبل انصاف کی امید میں دوران قید مر چکا ہے۔

قتل کے الزام میں جیل میں قید مظہر حسین 19 سال بعد بے گناہ نکلا جو دو سال پہلے ہی زندگی کی بازی ہار گیا۔سپریم کورٹ نے 19 سال بعد بے گناہ قرار پانے والے مظہر حسین کو دو دن قبل رہا کرنے کا حکم دیدیا گیا۔جب رہائی کا فیصلہ دیا گیا تو ملزم کی طرف سے کوئی عدالت میں موجود نہ تھا۔

کھوج لگانے پر معلوم ہوا کہ مظہر حسین دو سال قبل مر چکا تھا۔1997 میں خواجہ مظہر حسین کی گرفتاری کے وقت ا±س کے بیٹے کی عمر 8 سال تھی۔تین سال والد نے مقدمے کی پیروی کی، پھر وہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا۔انصاف کے حصول کی آس لگائے مظہر حسین 2014 میں ابدی نیند سو گیا۔