پنجاب میں 8 برس کے دوران خفیہ فنڈز کا بے دریغ استعمال

پنجاب میں 8 برس کے دوران خفیہ فنڈز کا بے دریغ استعمال

لاہور (حسن رضا) پنجاب میں 8 برس کے دوران خفیہ فنڈز کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سب اچھا ہے کی رپورٹوں، من پسند اقدامات اور اپوزیشن جماعتوں کے اندرونی فیصلوں سے قبل از وقت آگاہی کے لئے 1 ارب 11 لاکھ 85 ہزار روپے سرکاری خزانے سے جاری ہوئے۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 10 کروڑ سے زائد فنڈز مبینہ طور پر چند حکومتی عہدیداروں کے قریبی عزیزوں کے دوروں، ان کے خلا ف چلنے والے معاملات کو دبانے، اپنے لئے ہمدردی حاصل کرنے اورحکومت کے بہترین اقدامات کی تعریفیں کر نے پرخرچ کئے گئے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2013 اور سال 2014 میں خفیہ فندز کی مد میں 14 کروڑ 94 لاکھ 23 ہزار روپے استعمال کیے گئے ہیں۔ سی سی پی او لاہور کو 85 لاکھ روپے دیئے گئے جو اپوزیشن جماعتوں کے خلاف استعمال ہوئے۔ ایس اینڈ ڈی اے جی کو کروڑوں، آئی ایند سی ڈیپارٹمنٹ کو لاکھوں روپے دیئے گئے ہیں۔ رواں سال 5 کروڑ 90 لاکھ کے فنڈز استعمال کیے جاچکے ہیں اور مزید دس کروڑ کیلئے معاملات زیر غور ہیں۔ مقامی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی خفیہ فنڈز سے کئی افراد کو کنٹریکٹ پر تعینات کررکھا ہے۔

اس حوالے سے محکمہ خزانہ کے ڈرایکٹربجٹ خالد محمود کا کہنا ہے کہ خفیہ فنڈز کہاں استعمال ہوتا ہے ،کچھ نہیں بتا سکتے تمام تر خفیہ فنڈز وزیر اعلیٰ کے حکم پر جاری کئے جاتے ہیں۔ حکومتی ترجمان زعیم قادری کا کہنا ہے کہ خفیہ فنڈز امن وامان کی بہتری کے لئے استعمال ہوتا ہے، ریکارڈ موجود ہے لیکن اس کا آڈٹ نہیں کروایا جاسکتا۔