سلمان بٹ پی ایس ایل میں کارکردگی دکھانے کیلئے بے چین

سلمان بٹ پی ایس ایل میں کارکردگی دکھانے کیلئے بے چین

کراچی: رواں سال محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سلمان بٹ اور محمد آصف بھی قومی ٹیم میں واپسی کیلئے پر تول رہے ہیں جہاں دونوں کھلاڑی پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن کی گولڈ اور سلور کیٹیگریز میں شامل ہیں۔

2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں میں سزا قومی ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ نے ڈان سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ میں خدا کا بہت شکرگزار ہوں اور یہ موقع فراہم کرنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے کسی فرنچائز کی نمائندگی کرنے کا موقع ملے۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں لگی پابندی کے خاتمے کے بعد سلمان بٹ اس وقت شہ سرخیوں میں آئے جب حال ہی میں ختم ہونے والے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں انہوں نے چار نصف سنچریوں کی مدد سے 70 کی زائد اوسط سے رنز اسکور کیے۔

تاہم سلو اسکورنگ ریٹ کی وجہ سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا خصوصاً ٹی ٹوئنٹی کپ کے سیمی فائنل میں جب انہوں نے 55 گیندوں پر ناقابل شکست 55 رنز بنائے اور ان کی ٹیم کو کراچی بلوز کے ہاتھوں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

میچ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان بٹ نے کہا کہ مجھے سلو اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن اگر آپ غور کریں تو اس صورتحال میں میرے پاس آہستہ کھیلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ ہم اپنی پوری مڈل آرڈر بیٹنگ لائن سے محروم ہو چکے تھے۔

‘میرے اور طلعت کے بعد بیٹنگ لائن میں صرف باؤلرز بچے تھے۔ آپ ایسی صورتحال میں کیا کر سکتے تھے۔ مصباح الحق گزشتہ کچھ سالوں سے ایسا کر رہے ہیں اور ان پر ٹک ٹک کی چھاپ لگ چکی ہے’۔

سلمان بٹ نے ڈومیسٹک کرکٹ میں میں بلے بازوں کو درپیش مشکلات حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اوپنر کی حیثیت سے ہمیں کنڈیشنز دیکھ کر کھیلنا پڑتا ہے۔ جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو جانا بہت آسان تھا لیکن میں ٹیم کیلئے وہاں کھڑا رہا۔ میں محصوس کرتا ہوں کہ مجھے لمبی اننگ کھیلنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بائیں ہاتھ کے بلے باز نے سوال کیا کہ ناقدین اس وقت کہاں تھے جب انہوں نے راولپنڈی میں لاپور بلوز کیلئے کھیلتے ہوئے 152 کے اسٹرائیک ریٹ سے 84 رنز بنائے۔

سلمان بٹ نے ڈومیسٹک سطح پر سلو اور غیر معیاری وکٹوں کو پاکستانی بلے بازوں کے سلو اسٹرائیک ریٹ کی وجہ قرار دیا۔ جدید دور کی کرکٹ میں وہی بلے باز کامیاب ہیں جو خود کو صورتحال کے مطابق ڈھال سکے۔

‘آئی پی ایل میں اوسط اسکور تقریباً 170 رنز ہے۔ ہم نے پی ایس ایل میں انہی بلے بازوں کو سائن کیا لیکن وہ شارجہ اور دبئی میں تیار کی گئی وکٹوں کی وجہ سے کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ آپ نے دیکھا کہ کرس گیل بھی ناکام رہے کیونکہ جب وہ بیٹنگ کیلئے آتے تو مخالف ٹیم اسپنرز متعارف کرا دیتی تھی۔

تاہم سابق کپتان نے قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں پی ایس ایل میں میچز جتوانے میں کامیاب رہتا ہوں تو پھر میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کیوں نہیں کر سکتا۔ آپ کو مجھ سے اچھی کارکردگی کی توقع رکھنی چاہیے اور مجھے امید ہے کہ میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہوں گا۔