بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی

تحریر : علی بابر چوہدری 
اس ملک  کو اقتصادی راہداری کا نیا خواب دکھایا جارہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس کے بنتے ہی پاکستان کا ہر شہری خوشحال ہوجائے گا۔ جس ملک میں کرپشن کے
گدھ چاروں طرف منڈلا رہے ہوں ، وہاں ایک نہیں دس اقتصادی راہداریاں بھی بنالی جائیں اس ملک کی غربت دور نہیں ہوسکتی۔ بلکہ ویسے ہی جیسے نہر سویز مصر کی غربت دور نہ کرسکی۔
کتنے لوگ، خاندان اور گروہ ہیں جو روز اس گلے سڑے نظام کے تسلسل کی بات کرتے ہیں۔ روز دعائیں کرتے ہوں گے، مزاروں پر چڑھاوے اور دیگیں چڑھاتے ہوں گے۔ تبصرہ نگاروں کو سرمایہ فراہم کرتے ہوں گے کہ اس جمہوری نظام خصوصاً موجودہ حکومت کے بقا کی بات کرو۔ اسی گلے سڑے جمہوری نظام کا کما ل یہ ہے کہ وزیراعظم فارغ ہوسکتا ہے لیکن سوئٹزر لینڈ میںجمع دولت پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا۔

کیا کمال کی منطق ہے کہ قوم کشمیر کی آزادی کے لیے متحد ہوجائے لیکن کرپشن کے خلاف متحد نہ ہو۔ کس قدر بدقسمت ہوتی ہے وہ قوم جو جنگ پر روانہ ہو اور اس

کے لیڈروں پر کرپشن کے الزامات ہوں۔ جس قوم کو ترقی کے خواب گزشتہ سترسال سے دکھائے جارہے ہوں اور اس کے دامن میں غربت و افلاس آئے۔
میڈیا نے گزشتہ تقریباً ایک سال سے پانامہ کے کرپشن اسکینڈل کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ ورنہ اس ملک میں سوئس اسکینڈل، کوٹیکنا، بی ایم ڈبلیو اینکلس اور سرے محل جیسے اسکینڈل وقت کی دھول میں اپنی موت مرگئے۔ عمران خان کو قومی یک جہتی کے کھوکھلے نعرے کی مار ماری جارہی ہے۔ اس ملک میں یکجہتی کی ضرورت ہے، کشمیر کی آزادی سے پہلے کرپشن سے آزادی کے لیے یکجہتی کی۔ ورنہ یاد رکھیں کرپشن کے لیے کچھ بھی داؤ پر لگایا جاسکتا ہے۔