وزیراعلیٰ کی جلدبازیاں، ایل ڈی اے کی پھرتیاں، اورنج ٹرین منصوبہ کھٹائی میں، خمیازہ مقبول کالسنز کو بھگتنا پڑگیا

وزیراعلیٰ کی جلدبازیاں، ایل ڈی اے کی پھرتیاں، اورنج ٹرین منصوبہ کھٹائی میں، خمیازہ مقبول کالسنز کو بھگتنا پڑگیا

لاہور (تہلکہ ٹی وی خصوصی رپورٹ) حکومت پنجاب، ٹریفک انجینئرنگ اینڈ ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور نیسپاک کی نااہلی کا خمیازہ، اورنج لائن منصوبے پر کام کرنیوالی کمپنی میسرز مقبول کالسنز (جوائنٹ وینچر) کو بھگتنا پڑگیا، ایل ڈی اے اور ٹیپا حکام کا سیکیورٹی گارڈز، پولیس اور پنجاب پولیس سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کے ہمراہ دھاوا، کنٹریکٹر کی چاروں سائٹس پر زبردستی قبضہ، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی جلدبازی اور ایل ڈی اے اور نیسپاک کی غلط منصوبہ بندی، ناقص حکمت عملی کے باعث سرکاری خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ، منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ، اے آر وائی نیوز پر سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل اورسینئر صحافی عارف حمید بھٹی تفصیلات سامنے لے آئے۔

ایل ڈی اے کی پھرتیاں ، ٹھیکہ منسوخی سے قبل ہی نیا ٹینڈر جاری کردیا

اے آر وائی نیوز پر نشر ہونیوالی خبر کے مطابق مقبول کالسنز کومورخہ 3 اکتوبر کو شام پانچ بجے ایل ڈی اے سے کام بند کرنے کا کہا گیا، اسی رات مقبول کالسنز کی چاروں سائٹس اور مشینری پر زبردستی قبضہ  کرلیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس موقع پر سٹاف کو ڈرانے دھمکانے کیلئے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب اسی روز ایل ڈی اے کے چیف انجیئنر اسرار سعید کراچی پہنچے اور انہوں نے سٹیٹ بینک سے دباؤ ڈلوا کر نجی بینک سے میسرز مقبول کالسنز کی پرفارمنس سیکیورٹی کی رقم مبلغ 90 کروڑ روپے، قواعد و ضوابط کے برعکس غیر قانونی طور پر زبردستی ایل ڈی اے کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروائی، مورخہ 4 اکتوبر کوئی ہی ایل ڈی اے نے اسی منصوبے کے نئے ٹینڈر کا اشتہار بھی اخبارات میں جاری کردیا۔  سائٹ پر قبضے اور پرفارمنس سیکیورٹی کی ایل ڈی اے کے اکاؤنٹس میں منتقلی کا کام 3 اکتوبر کو ہوا، قواعد و ضوابط کے مطابق یہ اقدام ٹھیکہ منسوخی کا لیٹر کنٹریکٹر کو موصول ہونے کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا تھا۔ لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ  5 اکتوبر کو مقبول کالسنز کو بذریعہ ٹی سی ایس کنٹریکٹ منسوخی کا لیٹرموصول ہوتا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ لیٹر چار اکتوبر کو ڈسپیچ کیا گیا تاہم اس پر دانستہ طور پر تاریخ یکم اکتوبر کی دی گئی اور تمام غیر قانونی اقدامات مکمل کرنے کے بعد ایل ڈی اے نے یہ لیٹر کنٹریکٹر کو ڈسپیچ کیا، تاکہ عدالت سے کنٹریکٹر سٹے آرڈر بھی نہ لے سکے۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف کی جلدبازیاں، خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ۔ ۔ ۔  ذمہ دار کون؟ 

واضح رہے اورنج ٹرین منصوبے کا کنسلٹنٹ نیسپاک ہے، مقبول کالسنز کو پلرز اور بلاکس کا ٹھیکہ ستمبر 2015 میں دیا گیا تھا، جس کا ڈیزائن ہنگامی بنیادوں پر ایک ماہ قبل اگست میں بنایا گیا تھا۔ ٹھیکے کی مالیت 18 ارب تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی طور پر بننے والے اس ڈیزائن میں اب تک متعدد تبدیلیاں ہوچکی ہیں، جس کے باعث ابتدائی ڈیزائن کی شکل تقریباً تبدیل ہوچکی ہے۔ ایل ڈی اے نے کنسلٹنٹ نیسپاک کو سختی سے ہدایت جاری کی ہوئی تھیں کہ ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باوجود تخمینہ لاگت میں اضافہ نہیں ہونا چاہیئے، اس میں مزید ڈرامائی صورتحال تب پیدا ہوئی جب چینی کمپنی میسرز نورینکو نے نیسپاک کے ڈیزائن میں مزید خامیاں نکال کر تبدیلیاں کردیں۔  جس کے باعث کنٹریکٹر فرم کیلئے مزید مشکلات پیدا ہوگئیں۔

میسرز مقبول کالسنز کا عدالت میں کیا موقف اپنایا ؟

 میسرز مقبول کالسنز (جے وی) کی جانب سے عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ کہ ایل ڈی اے اور حکومت پنجاب نے ان کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر منسوخ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس کے مقررہ کام سے زیادہ کام کرنے، ڈیزائن میں تبدیلیوں اور دیگر مدات میں کے باعث تقریباً 6 ارب روپے کے واجب الادا رقم ایل ڈی اے اور حکومت پنجاب سے دلوائی جائے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایل ڈی اے کی جانب سے ڈیزائن میں بار بار تبدیلی سے تاخیر ہوئی۔ سیاسی مفاد کیلئے منصوبے میں غیر حقیقی نوعیت کے اہداف رکھے گئے۔ مذکورہ اہداف کو تکنیکی طور پر حاصل کرنا ناممکن تھا۔ ایل ڈی اے نے اپنی نااہلی اور غفلت کو چھپانے کیلئے کنٹریکٹر فرم میسرز مقبول کولسنز (جے وی) کی پرفارمنس سیکیورٹی ایک ہی روز میں غیر قانونی طور پر اپننے اکاؤنٹ میں منتقل کروا کر کمپنی کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔ جس پر عدالت نے کمیشن مقرر کرتے ہوئے حکم دیا کہ کام کی پیمائش وغیرہ کرکے اس بات کا جائزہ لے اور تخمینہ لگائے کہ اب تک کتنا کام ہوچکا ہے اور کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

میسرز مقبول کالسنز (جے وی) کے کام کا ایک جائزہ 

ذرائع نے بتایا کہ مقبول کالسنز کا ٹھیکہ 14 کلومیٹر تک محیط تھا، ان میں سے کام کیلئے ابتدائی طور پر صرف 4 کلومیٹر جگہ ملی، متعدد جگہوں کی لینڈ ایکوزیشن نہیں ہوئی اور بعض کے سٹے آرڈر اور یوٹیلیٹیز کے مسائل تھے، ان وجوہات کی بنا پر باقی ایریاز کافی تاخیر سے میسرزمقبول کالسنز کو کام کرنے کیلئے مل سکے۔ میسرز مقبول کالسنز کی جانب سے 4430 کے قریب پلرز کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ چکا تھا۔ جبکہ ٹوٹل 4500  پلرز بنانے تھے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بنیادی ٹینڈر میں دی گئی پیمائش کے مطابق 16 سے20 میٹر کی گہرائی کا کہا گیا تھا جبکہ کئی جگہوں پر40 سے 52 میٹر کی بورنگ (پائلنگ) کی گئی۔

یاد رہے کہ اورنج ٹرین میں کام کرنیوالی دوسری مسابقتی کمپنی حبیب کنسٹرکشن سروسز کو تقریباً 13 ارب سے زائد کی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں۔ اس کا کام تقریباً 58 فیصد ہوچکا ہے۔ اس نے650 بلاکس میں سے 70 کے قریب بلاکس بنائے ہیں جبکہ مقبول کالسنز کا کام 52 فیصد ہوچکا تھا، انہیں ابھی تک تقریباً 10 ارب کی ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا واحد کام ہے جس کی وجہ سے ان دو کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بنیادی طور پر ان کمپنیوں نے یارڈز کا کام مکمل کردیا ہے، مقبول کالسنزکے یارڈز کے کام پر تقریباً 2 سے اڑھائی ارب کے اخراجات آئے ہیں، مذکورہ یارڈز کے نیچے سول ورکس اور اوپر بلاکس کا کام ہونا باقی تھا، یارڈز کی تعمیر کے بعد اب تیزی سے بلاکس کا کام شروع ہوچکا تھا۔ تاہم اچانک پنجاب حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے اور کسی وارننگ لیٹر یا منسوخی کے لیٹر کی کنٹریکٹر کو موصولی سے قبل ہی رات کی تاریکی میں بھاری پولیس نفری کے ہمراہ مقبول  کالسنز کی سائٹس پر دھاوا بول کر سائٹس اور مشیری پر قبضہ کرلیا۔

مقبول کالسنز کے ٹھیکے کی منسوخی کیوں؟ پس پردہ کہانی کیا

سینئر صحافی عارف حمید بھٹی اور سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل نے اے آر وائی نیوز میں انکشاف کیا کہ مذکورہ فرم کا ٹھیکہ اسلئے منسوخ کیا گیا کیونکہ وہ حکومت پنجاب اور ایل ڈی اے کے متعلقہ حکام کی خواہشات کے مطابق کمیشن اور کک بیکس نہیں دے پارہی تھی اور اس ٹھیکے کی منسوخی کے بعد اب ایسی منظور نظر فرم کو ٹھیکہ دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں تاکہ متعلقہ حکومتی شخصیات اور حکام کو منہ مانگے کک بیکس اور کمیشن مل سکیں۔

پنجاب حکومت اور ایل ڈی اے  توہین عدالت کے مرتکب، مگر کیسے ؟

 معروف قانون دان اظہر صدیق نے تہلکہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے پر حکم امتناہی جاری کررکھا ہے، جس کے خلاف پنجاب حکومت، ایل ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں نے سپریم کورٹ سےلاہور ہائیکورٹ کا سٹے آرڈر خارج کرنے کی  استدعا کی جس کو سپریم کورٹ نے بھی مسترد کردیا اور قرار دیا کہ وہ زمینی حقائق اور دستاویزات کا بغور جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ ایسی صورت میں ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود نیا ٹینڈر جاری کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔