چینل 92 کی اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار کی زبان بندی، پس پردہ کہانی سامنے آگئی

چینل 92 کی اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار کی زبان بندی، پس پردہ کہانی سامنے آگئی

لاہور (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) بھارتی میڈیا میں سرجیکل سٹرائیک اور پاکستانی میڈیا کیلئے کلبھوشن کا ذکر ممنوع ہوگیا ، چینل 92 کی اینکر پرسن ڈاکٹر ماریہ ذوالفقارکے پروگرام ہم دیکھیں گے میں مورخہ 2اکتوبر کو حکومت کو خارجہ پالیسی اور کلبھوشن کے حوالے سے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع نے تہلکہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ اہم وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہم بیوروکریٹ کی جانب چینل انتظامیہ پر دباؤ ڈالا گیا کہ اگر وفاقی اور پنجاب حکومت سے اشتہارات لینے ہیں اور اپنے بزنس کا تحفظ کرنا ہے تو مذکورہ اینکر پرسن کو آف ائیر کردو، جس پر چینل مالکان کی جانب سے ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار کی زبان بندی کردی گئی۔چینل مالکان کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے دیئے گئے ٹاسک کے مطابق اینکر پرسن کو یہ تاثر دیا گیا کہ آپ کو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر کام کرنے سے تاحکم ثانی او ایس ڈی بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : اینکرز کی زبان بندی سے چینلزکی بندش اور بھاری جرمانوں کی پس پردہ کہانی، تہلکہ ٹی وی کی زبانی

صحافت میں بھی او ایس ڈی کی ٹرمنالوجی کس نے متعارف کروائی ؟

تہلکہ ٹی وی کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحافت میں او ایس ڈی کی ٹرم نوازلیگ کی حکومت نے پہلی مرتبہ متعارف کروائی گئی ہے۔عام طور پر او ایس ڈی کی ٹرم آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی کے طور پر استعمال ہوتی ہے لیکن صحافت میں ن لیگ کی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کی میڈیا منیجرز نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کیساتھ بھی سرکاری افسروں والا سلوک کرنا شروع کردیا اور پہلی دفعہ یہ چیز دیکھنے میں آئی جب ایک چینل کے رپورٹر کے علاوہ ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر کو او ایس ڈی بنادیا گیا، یہ اقدامات مذکورہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان نے نواز لیگ کی حکومت اور ان کے میڈیا منیجرز کی خواہشات پر اٹھائے۔ او ایس ڈی بنائے جانیوالے صحافی چینل اور اخبار میں آتے تو رہے لیکن ان کی زبان بندی کیساتھ ساتھ ان کی جانب سے آنے والی رپورٹیں ردی کی ٹوکری کی نذر کی جاتی رہیں اور جب تک انہوں نے ن لیگ کے راہنماؤں کو معافی نامے اور آئندہ حلف دے کر اپنے مالکان کو ن لیگ کی حکومتی شخصیات اور میڈیا منیجرز کی جانب سے فون نہ کروالیے اس وقت تک ان کی خبریں بند رہیں۔

یہ بھی پڑھیئے : حق گوئی کرنیوالے ممتاز صحافی و اینکرپرسن کا گلا گھونٹنے کی تیاریاں شروع