چینی پودے سے خون کے کینسرکے علاج میں بڑی کامیابی

چینی پودے سے خون کے کینسرکے علاج میں بڑی کامیابی

ہانگ کانگ : چین کی ایک نباتاتی دوا کے ذریعے خون کے ایک خاص قسم کے سرطان (اکیوٹ میلوئیڈ لیوکیمیا) کو بڑی کامیابی سے ختم کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔

یہ تحقیق یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے ماہرین نے کی ہے اور ان کے مطابق چینی حکیم ایک عرصے سے اسے استعمال کررہے ہیں تاہم اسے دیگر دواؤں کے ساتھ ملاکر بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

یہ مرض خون کے سرطان کی شدید ترین کیفیت ہے اور ایسے مریضوں کو ایک خاص قسم کے پودے ’’پلیم ییو‘‘ درخت سے کشید کی گئی ایک دوا ہوموہیرنگ ٹونِن دی گئی تو یہ مرض دور ہوگیا مگر اس کے ساتھ کینسر ختم کرنے کی روایتی دوائیں بھی کھلائی گئی تھیں۔

یہ کینسر خون کے سفید خلیات کا سرطان ہے جو بہت مشکل سے جان چھوڑتا ہے۔ اس مرض میں مبتلا 24 مریضوں کو جب دوا دی گئی تو 20 میں یہ مرض جڑ سے ختم ہوگیا۔ ان میں سے ایک 76 سالہ خاتون کو صرف 5 ماہ تک یہ دوا دی گئی تھی اور ایک سال تک انہیں سرطان نہیں ہوا۔ اس دوا کو عمررسیدہ افراد پر آزمایا گیا اور اس سے قبل لیوکیمیا کی اس بیماری کا علاج نہ تھا۔

اس کے علاج کے لیے جس درخت سے مدد لی گئی ہے اس کا حیاتیاتی (بائیلوجیکل) نام سیفالوٹیکسس ہیرنگٹونی ہے اور جاپان اور چین میں اسے پلم ییو بھی کہتے ہیں۔ اس سے بنائی گئی دوا سے وہ پروٹین بننا بند ہوگئے جو رسولیوں کو بڑھاتے ہیں۔