امریکی صدارتی انتخابات کا دوسرا مباحثہ بھی ہلیری کلنٹن کے نام

امریکی صدارتی انتخابات کا دوسرا مباحثہ بھی ہلیری کلنٹن کے نام

واشنگٹن: نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے لئے ڈیمو کریٹس اور ریپبلکن پارٹی کے امیدواروں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والا دوسرا مباحثہ بھی ہلیری کلنٹ کے نام رہا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدارتی انتخابات کے لئے ڈیمو کریٹس اور ریپبلکن امیدواروں کے درمیان دوسرا ٹی وی مباحثہ ہوا جس میں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دوسرے الزامات کی خوب بوچھاڑ کی اور دونوں کے درمیان گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

مباحثے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خواتین کے بارے میں نامناسب گفتگو کی ویڈیو کے حوالے سے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ویڈیو ٹرمپ کی فطرت کی عکاسی کرتی ہے، ٹرمپ نے آج تک خواتین کی عزت نہیں کی جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا جتنی عزت وہ خواتین کی کرتے ہیں اتنی کوئی اور نہیں کر سکتا، خواتین کے حوالے سے نامناسب گفتگو پر معافی مانگتا ہوں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کے شوہر اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے بارے کہا کہ میں نے توصرف خواتین سے متعلق باتیں کیں لیکن بل کلنٹن نے توعملی طور پر خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مباحثے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے چند خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جنہوں نے بل کلنٹن پر ہراساں کرنے اور زیادتی کرنے کے الزامات لگائے۔

مباحثے کے دوران ہلیری کلنٹن کی جانب سے سرکاری کام کے لیے ذاتی ای میل استعمال کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈونلڈٹرمپ نے کہا یہ بات سامنے آنے کے بعد ہلیری کلنٹن نے 33 ہزارای میلز ڈیلیٹ کیں، اگر امریکا کا صدر بنا تو مقدمہ چلا کر ہلیری کو جیل میں ڈالوں گا۔ ٹرمپ کے الزام پر ہلیری نے جواب دیا کہ ان کی ای میل سے کوئی حساس مواد غلط ہاتھوں میں نہیں گیا تاہم ای میلز کے معاملے پر شرمندہ اور قوم سے معافی مانگتی ہوں۔

امریکا میں مسلمانوں کے حوالے سے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے لیے لڑنے والے مسلمانوں کا مذاق اڑایا، انہوں نے مسٹر اور مسز خان سے معافی تک نہیں مانگی جس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدر ہوتے توعراق جنگ شروع ہی نہ کرتے اور مسلمان فوجی کی جان نہ جاتی۔ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے آج تک اپنے ایک بھی تبیان بھی معافی نہیں مانگی، انہیں امریکی صدر بننے کا اہل نہیں سمجھتی۔

شام میں خانہ جنگ کے حوالے سے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ شام میں حالات بہت کشیدہ ہیں، روس کی کوشش ہے کہ حلب تباہ ہو جائے، روس امریکا کی صدارتی مہم پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے، امریکی صدر براک اوباما کی بہت عزت کرتی ہوں، انہیں کمزور مالیاتی نظام ملا لیکن اس کے باوجود ہم بحران سے نکل کر آئے تاہم ٹرمپ ہمیں پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا جواب میں کہنا تھا کہ امریکا کو ترقی کی راہ پر دیکھنا چاہتا ہوں، شام کی جنگ دنیا پر چھوڑ دینی چاہیئے اور امریکا مزید 4 سالوں کے لئے  براک اوباما کو برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مباحثے کے میزبانوں پر جانبداری کا الزام بھی لگایا گیا جب کہ دونوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ تک نہ ملائے۔ مباحثے میں شریک 57 فیصد لوگوں نے ہلیری کلنٹن کی حمایت کی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 34 فیصد عوام کی حمایت حاصل ہوئی۔