درس کربلا

درس کربلا

تحر یر:اے بی مجاہد  

کربلا بھی عجب استعارہ ہے ، ایک ایسا استعارہ جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ اعلیٰ انسانی جذبات اور کیفیات کا کوئی رنگ ایسا نہیں جوکربلا سے مستعار نہ لیاگیا ہو ۔ ایثار وقربانی ، عزم واستقلال ، شرافت ونجابت ، تسلیم ورضا اور فکروعمل کی وحدت جیسی اعلیٰ اقدار کربلا کی خاک کو چوم کر ہی اخلاقی معراج سے سرفراز ہوتی ہیں ۔ کربلا ایک مکتب ، ایک دبستان بلکہ ایک مکمل نظام ہے اور اس کے تہہ در تہہ حقائق اور معارف صدیوں سے عقل انسانی کو متحیر و مسخر کرتے چلے آرہے ہیں ۔ کربلا کی مقصدیت اور معنویت کا یہ اعجاز ہے کہ وہ ہر بار پھر اپنی ہمہ گیریت کا اعتراف کروائے بغیر نہیں رہتی ۔ کربلا مابعد الطبعیاتی کرداروں کے مافوق الفطرت طرز عمل کا اظہار نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسانوں کی نظریاتی آویزش کا ایسا عدیم المثال مظاہرہ ہے کہ ایک طرف الٰہی نمائندے اپنے مقصد کی سچائی کی لافانی روشنی میں مطمئن وشادماں اور فاتحانہ انداز میں کھڑے ہیں تو دوسری طرف شیطانی نمائندے و گروہ اپنے مکرو فریب کے سہارے اسلحے اور دہشت گردی کے ہتھیار کے باوجود بھی شکست کے حصار میں لرزاں اور تاریخ کے فیصلے سے خوفزدہ اور ہراساں نظر آتے ہیں ۔ یہ نواسۂرسولﷺ کے مقدس لہوُ کا اعجاز ہے کہ صدیوں کی مسافت کے باوجود بھی کربلا کا درس ایثار وقربانی اور حریت فکرکی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے ۔ پیامِ کربلا ایک ایسا درس ہے جو جبرواستبداد کی قوتوں کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ بخشتا ہے ۔ کربلا کے ریگزار کو معطر کرنے والا سید الشہداء کا مقدس و متبرک لہو ایک ایسی سچائی ہے جس کی ابدیت اور آفاقیت زمان و مکان کی ناگزیر محدودیتوں سے ماورئ ٰہو کر ایک ایسی توانا اثرانگزیز نوامیں تبدیل ہوچکی ہے جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے اور نہ ہی زمانہ مٹا سکتا ہے کیونکہ ریگزارِ کربلا پر خاندان عصمت وطہارت کے تشنہ لبوں نے اپنے خون سے جو داستان صدق و وفارقم کی اس نے ہر عہد میں اپنی سچائی کا لوہا منوایا ہے ۔ آج بھی ہمیں اپنے سامنے ایک نئی کربلا سجی نظر آرہی ہے ۔ شیطان کے نمائندے اور یزید کے چیلے آج بھی دین کے نام پر مکرو فریب ، دہشت گردی ، خود کش حملوں اور جبرو استبداد کے جدید یزیدی ہتھیاروں سے انسان ، انسانیت ، مسلمان اور اسلام پر بیک وقت حملہ آور ہورہے ہیں۔ 61ہجری کے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب واہل بیت پر ظلم و ستم ڈھانے اور قتل وغارت گری کرنے والا یزیدی گروہ مسلمان تھا تو آج کے کربلائے وقت کے موجودہ ہنگام میں بھی اسلام کے خود ساختہ ، جھوٹے اور جاہل دعویدار دہشت گردی اور خود کش حملوں سے بے گناہ انسانوں اور معصوم مسلمانوں پر ظلم وبربریت اور سفاکیت کے یزیدی وار کرتے چلے جارہے ہیں ۔ آج بھی اِسلام کی مُقدس تعلیمات سے کھلم کھلا انحراف کرکے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سرگرم گروہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے مقاصد پورے کررہا ہے۔ سچ و جھوٹ اور حق و باطل کی ایسی آمیزش کی جارہی ہے جوکہ یزید لعین کی پیروی کہی جاسکتی ہے ۔ ان حالات میں ضروری ہوچکا ہے کہ فکرِحسین ؑ اور پیغامِ حسینؑ کو عام کیا جائے مقصدِحسینؑ اور مشن حسین ؑ سے ہر عام وخاص کو روشناس کرایا جائے تاکہ عصر حاضر کے یزیدوں اور یزیدیوں کو بے نقاب کیا جاسکے اور اسلام کی صراطِ مستقیم کی تبلیغ و تلقین کا فریضہ ادا کیا جاسکے۔ درسِ کربلا اور مقصدِحسین ؑ کو دنیا بھر کے علماء و محقق صدیوں سے بیان کرتے چلے آرہے ہیں اور آئندہ بھی درسِ کربلا سے ہدایت پاتے رہیں گے ۔

؛؛ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ ؛؛
حضرت امام حسین ؑ اور ان کے باوفا اصحاب راہِ حق میں شہادت پا کر اس دنیا سے تو چلے گئے مگر ہم لوگوں کے لیے ایک درس گاہ قائم کرگئے ۔ جو تاقیامت قائم رہے گی۔ ایک کتاب معرفت کھول گئے جو تاقیامت کھلی رہے گی ۔ حُسینی درس گاہ ایک ایسی درس گاہ ہے جس میں مقصد کی حفاظت ، فدا کاری ایثار اور بہادری کا سبق ملتا ہے ۔ اس درس گاہ میں انسان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ قرآنی تعلیم کو قائم رکھنے کیلئے اپنی جان کیونکر دی جائے ۔ اور شجرِا سلام کو سرسبزوشاداب و تناور رکھنے کے لیے کس طرح جہاد کیا جائے ۔ یہ درس گاہ کہتی ہے کہ اگر ضرورت پڑجائے تو اپنی گردن بھی زیر تیغ رکھ دی جائے تاکہ دنیا سے قتل و غارت وجرم وعصیان کا خاتمہ ہوجائے ۔ اور دنیا کے درماندہ و افسردہ لوگوں کے زرد ولاغر چہروں پر سُرخی دوڑانے کے لیے اگر ضروری ہوتو اپنا خون بہادیا جائے ۔ کربلاکی درس گاہ انبیاء ، مصلحین ومجاہدین اور ہمیشہ زندہ رہنے والوں کی درسگاہ ہے ،درس کربلا مکتب معرفت ہے ،مکتب عشق ومحبت ہے ،مکتب عدالت طلبی ہے ،یہ ظلم وجور کے خلاف جنگ ہے ،اسلام سے منحرف ہونے والوں کے مقابلہ میں جہاد ہے ۔کربلا مکتب حریت وآزادی ہے، کربلا مکتب حق پرستی ہے ۔۔۔ مکتب اہل صفا ہے ۔ اس مکتب میں یہ سبق دیا جاتا ہے کہ ظلم وستم کو کبھی قبول اور برداشت نہ کرو ،حق کی خاطرجان دے دو مگر آہ نہ کرو ۔
؛؛ قتل حسینؑ اصل میں مرگ یزید ہے ۔۔۔۔۔ اسلام زندہ ہو تا ہے ہر کر بلا کے بعد  ؛؛ حضرت امام حسینؑ کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا صحیح راستہ یہی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالیں۔ انسانیت کی حفاظت کریں ۔ اور حضرت امام حسین ؑ کے مشن اور مقصد کو یاد رکھیں۔ کربلا والے شہیدوں کے نصب العین کو زندہ رکھیں اور اس کی حفاظت کریں ۔کربلا والے شہیدوں کاخون مسلسل جوش میں ہے اوراللہ ان شہیدوں کی سنت کو برقرار رکھے۔ درس کربلا یہی ہے کہ ہم ہر حالت میں اسلام کا علم سر بلند رکھیں اور قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اللہ تعالیٰ اور اس کے ہادی برحق نبی آخرالزمان ؐکی بتلائی ہوئی صراط مستقیم پر خود بھی چلیں اور دوسروں کو بھی اس کی تبلیغ وتلقین کریں ۔ اے روشن دماغ انسانواور دینِ اسلام کی سربلندی کے داعی مسلمانو! آئیے خلوص نیت کے ساتھ حضرت امام حسینؑ اور ان کے باوفااصحاب کے ساتھ یہ وعدہ کریں کہ ہم رسول اللہ اوراسلام کے پیغامات اور تعلیمات کو عام کریں گے ۔ ہماری خواہش اور دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ پورے عالم اسلام کو امن وسلامتی اور حقیقی خوشیاں عطا کرے ۔ اور ہمیں امن وسلامتی کے لیے پیغامِ حق کے پرچارکی توفیقات عطا کرے ۔۔۔۔۔۔ اسلام زندہ باد حسینیت پائندہ باد