’’دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے‘‘ہم ہر صورت پاکستان کے ساتھ ہیں!!

’’دنیا اِدھر سے اُدھر ہو جائے‘‘ہم ہر صورت پاکستان کے ساتھ ہیں!!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چین کی وزارت خارجہ برائے چین ایشیاء تعلقات کے قونصلر یووان نے کہا ہے کہ چین کسی بھی صورتحال چین پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ،چین پاک بھارت تعلقات بہتر ی کیلئے مصالحتی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

یووان نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ چین ہر حالت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے لئے مصالحتی کردار ادا کرنے کو بھی تیار ہیں،، امید ہے بھارت اور پاکستان میں مزید کشیدگی نہیں ہو گی ، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے ، امید کرتے ہیں بھارت کشیدگی کو مزید نہیں بڑھا ئے گا۔ جنوب ایشیائی خطے میں طاقت کا عدم توازن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چین سے پیک منصوبے کو مکمل کرنے میں پر عزم ہے

 سی پیک منصوبے پر بہت تیزی سے کام ہورہاہے، اب تک 17ارب ڈالر کے کام شروع ہو چکے ہیں ،سی پیک منصوبے کا مقصد جنوبی ایشیا میں اقت کا توازن بہتر کرنا ہے ، پاکستان نے مذاکرات کی بات کر کے اچھا عمل کیا کشمیر سمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں۔واضح رہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ نا معقول قرار دے دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے مقامی اخبار نے چینی ریسرچ فیلو ہوڑیونگ کا انٹر ویوکیا جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں اڑی واقعے کی اب تک جامع تحقیقات نہیں ہوئی جبکہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اڑی واقعے کے پیچھے پاکستان نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ نامعقول ہے اور یہ پاک بھارت باہمی تعلقات کے لیے دھچکا ثابت ہو گا۔ہوڑ یونگ نے مزید کہا کہ سرحد سیل کرنے کا بھارتی فیصلہ سرد جنگ کی ذہنیت کا عکاس ہے

دوسری جانب پاکستان سے سرحدی کشیدگی کے باعث بھارتی فوج پر اسلحے اور لاجسٹکس کے حوالے سے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔ وزارت دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی یونٹس کو چھوٹے اسلحے اور گولہ بارود کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بعض معاملات میں تو سرحدی یونٹس کے پاس اتنا اسلحہ اور گولہ بارود بھی نہیں کہ بھرپور سرحدی کشیدگی کے دوران تین چار دن بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ ایسے میں اگر فل سکیل جنگ چھڑجائے تو بھارتی فوج کے لئے انتہائی مشکلات پیداہوسکتی ہیں۔ٹائمز آف انڈیا گروپ آف پبلی کیشنز کے تحت شائع ہونیو الے ’’اکنامک ٹائمز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ حکام اور وزارت دفاع کیا یگزیکٹوز نے بتایا کہ حکومت نے اسلحہ تیار کرنے والے اداروں اور سپلائرز کو اضافی اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کرنے کے لئے بھرپر الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔