زیکا وائرس کے ایشیا میں بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خدشہ

زیکا وائرس کے ایشیا میں بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خدشہ

ڈبلیو ایچ ( ہیلتھ ڈیسک) عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ زیکا وائرس کے ایشیا میں بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خدشہ ہے۔

 اس وائرس کے سینکڑوں کیسز سنگاپور میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں زیکا سے متاثرہ دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس سے قبل ہی سائنس دانوں نے خبردار کیا تھا کہ افریقہ اور ایشیا میں بھی زیکا وائرس کے پھیلنے سے دو ارب افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ مچھر سے پھیلنے والے اس وائرس کی دنیا کے 70 ممالک میں موجودگی کا پتہ چلا ہے جس میں ایشیا کے 19 ممالک شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر مارگریٹ چن کا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے مزید تفصیلات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔

پیر کو منیلا میں ڈبلیو ایچ او کے سالانہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ’ زیکا وائرس کے نئے کیسز کے ساتھ بڑے پیمانے پر خطے میں جاری رہنے کا امکان ہے۔‘ بتایا گیا ہے کہ اس وائرس کا حامل مچھر ایدیس بڑی تعداد میں اس خطے میں پایا جاتا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ یہ بڑی تعداد میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر بھی کرتا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ اس خطے کے لوگوں میں قوت مدافعت کتنی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر مارگریٹ چن کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے سائنس دانوں کو ابھی زیکا وائرس کے حوالے سے بہت سے اہم سوالات کے جوابات معلوم نہیں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ یہ وائرس گذشتہ کئی دہائیوں سے ایشیا میں موجود ہے تاہم کچھ ممالک میں اس کی موجودگی کا ابتدائی طور پر مسافروں کے اپنے ملک واپس لوٹنے پر چلا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ زیکا کہ عموماً ہلکے سے اثرات ہوتے ہیں لیکن حاملہ خواتین کے لیے یہ خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ پیدا ہونے والے بچے کو دماغی طور پر نقصانات ہوسکتے ہیں۔