شہادت امام حسینؓ، طرزِعمل وفکر میں تبدیلی کی ضرورت

شہادت امام حسینؓ، طرزِعمل وفکر میں تبدیلی کی ضرورت

تحریر : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

حسنین کریمین رضی اللہ عنھما سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والہانہ محبت کا اظہار فرماتے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حسنین کریمین سے محبت کا والہانہ و بے ساختانہ اظہار بغیر کسی مقصد کے تھا؟ نہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ اس والہانہ اندازِ محبت میں بھی امتِ مسلمہ کے لئے ایک پیغام ہے۔ آیئے سب سے پہلے ایک حدیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر اس میں موجود پیغام پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ

کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم حَامِلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلٰی عَاتِقِهِ فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْکَبُ رَکِبْتَ يَا غُـلَامُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم : وَنِعْمَ الرَّاکِبُ هُوَ.

(جامع ترمذی، ابواب المناقب، 5: 661، رقم: 3784)

آقا علیہ السلام ایک روز سیدنا امام حسین کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر چل رہے تھے تو ایک شخص نے دیکھا تو دیکھتے ہی اُس نے کہا اے بیٹے مبارک ہو، کتنی پیاری سواری تمہیں نصیب ہوئی ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سواری کا اچھا ہونا نظر آرہا ہے مگر یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنا پیارا، خوبصورت اور اعلیٰ ہے۔

یہاں ایک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ حدیث مبارکہ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہ واقعہ گھر کے اندر کا نہیں ہے۔ یعنی گھر کی چار دیواری کا نہیں بلکہ باہر کا ہے، اسی لئے ایک غیر شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عملِ مبارک پر اظہار خیال کررہا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو گلی میں لے کر چل رہے تھے۔

اب ایک طرف آقا علیہ السلام کے مرتبہ، شان، عظمت، جلالت اور قدر بھی ذہن میں رکھیں اور یہ عمل بھی دیکھیں۔ ہم یہ کام نہیں کرتے، اپنا بیٹا ہو، پوتا ہو، نواسا ہو، نواسی ہو، جس سے بہت پیار ہو، اسے کندھے پر اٹھا کر گلی میں نہیں چلتے بلکہ شرماتے ہیں حالانکہ یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ آقا علیہ السلام نے یہی پیار اگر فقط اپنی ذات تک رکھنا ہوتا تو یہ عمل گھر کے اندر چار دیواری میں کرتے، کندھوں پر بٹھاکر اس طرح گلی میں نہ چلتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل تمام لوگوں کے سامنے کرنا، آقا علیہ السلام کا امام حسین رضی اللہ عنہ سے پیار کرنے کا یہ طرز عمل، وطیرہ اور ادا کا سبب دراصل یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دیکھو یہ ہے میرے پیار کا عالم حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔۔۔ یہ ہے میرا انداز اُن رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا۔ لہذا اے امت مسلمہ تم بھی حسنین کریمین رضی اللہ عنھما سے اسی طرح ٹوٹ کر محبت کرنا تاکہ تمہیں اسی واسطہ و وسیلہ سے میری محبت نصیب ہوجائے۔

  • حضرت یعلی العامری روایت کرتے ہیں کہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دعوت پر گئے۔ گلی سے گزر رہے تھے، راستے میں بچے کھیل رہے تھے اور

وَحُسَيْنٌ مَعَ غِلْمَانٍ يَلْعَب.

اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بھی ان بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آقا علیہ السلام نے جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو کھیلتے دیکھا تو ہر چیز کو نظر انداز کرکے یہ ارادہ کیا کہ دوڑ کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑیں۔

فَطَفِقَ الصَّبِيُّ يَفِرُّ هٰهُنَا مَرَّةً، وَهٰهُنَا مَرَّة.

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پکڑنے کے لیے دوڑے، امام حسین رضی اللہ عنہ کبھی دوڑ کر اِدھر چلے جاتے اور کبھی دوڑ کے اُدھر چلے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی انہیں پکڑنے کے لئے کبھی ایک طرف بھاگتے ہیں اور کبھی دوسری طرف بھاگتے ہیں۔ صحابہ کرام اور دیگر لوگ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔

آقا علیہ السلام حضرت امام حسین کو ہنساتے جا رہے ہیں اور انہیں پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور انہیں خوش کررہے ہیں۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پکڑ لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اٹھا لیا، اپنی زبان مبارک اُن تمام صحابہ کے سامنے اُن کے منہ میں ڈال دی۔ پھر انہیں چوما اور چوم کر آقا علیہ السلام نے فرمایا:

حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ۔أَحَبَّ اﷲُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا.

(احمد بن حنبل، المسند، 4: 172)

’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اللہ اُس سے محبت کرے اور کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے‘‘۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس فرمان میں ایک حقیقت بھی بیان فرمائی اور ایک دعا بھی دی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے، اللہ اُس سے محبت کرتا ہے اور اِس میں آقا علیہ السلام نے دعا بھی کی کہ اللہ اُس سے محبت کر جو میرے حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کرے۔

امام احمد بن حنبل اور امام ترمذی اور دیگر آئمہ نے تو اس حدیث کو حدیث صحیح لکھا ہی ہے مگر سعودی عرب میں سلفی مکتب فکر کے نامور عالم محدث علامہ البانی ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے مختلف کتب حدیث کے اوپر تخریجات اور تحقیقات کی ہیں۔ وہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ یعنی اِس حدیث کی صحت کا عالم یہ ہے کہ علامہ البانی جیسے شخص بھی اِس حدیث کے صحیح ہونے کا انکار نہیں کرسکے اور اپنے السلسلہ الصحیحہ میں اِسے درج بھی کیا اور صحیح بھی کہا ہے۔

یاد رکھ لیں! آقا علیہ السلام کا کوئی عمل غیر ارادی نہیں ہوتا۔ لہذا یہ عمل بھی غیر ارادی نہیں ہے، بغیر کسی مقصد کے نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا عمل غیر ارادی صادر ہوتا ہو تو ایسا کام ہم کیوں نہیں کرلیتے۔ ہم باہر نکلیں اور ہمارا پوتا، نواسا، پوتی، نواسی، جس سے ہمیں پیار ہے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہو اور ہم اپنے دوست احباب کے ساتھ جارہے ہوں تو کیا ہم اُن کو چھوڑ کر، نظر انداز کرکے اس بچے کے ساتھ گلی میں کھیلنے لگ جائیں گے، انہیں پکڑنے کے لئے پیچھے پیچھے دوڑیں گے؟ نہیں، ہم ایسا نہیں کرتے اس لئے کہ ہمیں اپنے مقام و مرتبہ کا خیال رہتا ہے، اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے کہ ہم کیا ہیں۔۔۔؟ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔؟ ہم سوسائٹی کی respectable figure ہیں۔۔۔ honourable figure ہیں۔۔۔ ایک سنجیدہ مزاج شخص ہیں۔۔۔ لوگ ہمارے بارے میں ایک امیج رکھتے ہیں۔ ہم تو اِن چیزوں میںگھرے رہتے ہیں اور یہ کام نہیں کرتے۔ اِس طرح کے کام اگر کرنے ہوں تو گھر کے اندر کریں گے، باہر کوئی نہیں کرتا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آقا علیہ السلام کیوں کر رہے ہیں؟ کیا معاذا للہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر ارادی طور پر ایسا فعل صادر ہو جاتا تھا کہ کبھی نماز پڑھا رہے ہیں، صحابہ کرام بھی موجود ہیں، حالتِ نماز میں امام حسین رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر چڑھ جاتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ طویل کر لیتے ہیں، سجدہ سے اٹھتے وقت انہیں اٹھا کر بٹھا لیتے ہیں، پھر چڑھا لیتے ہیں، کیا یہ غیر ارادی فعل ہے۔۔۔؟ کیا اِس عمل سے دین اور ایمان کی کوئی تعلیم اخذ نہیں کی جائے گی۔۔۔؟ کیا اِس سے آقا علیہ السلام کا کوئی پیغام امت کے نام اخذ نہیں کیا جائے گا۔۔۔؟کیا اِس عمل سے آقا علیہ السلام ہم پر کچھ فرض نہیں کرنا چاہ رہے۔۔۔؟ کیا اس عمل مبارکہ سے ہمارے لئے کچھ سنت نہیں بنانا چاہ رہے۔۔۔؟ کیا ہمیں کسی امر کے کرنے کی کوئی نصیحت نہیں فرمانا چاہ رہے۔۔۔؟ کیا اپنا طرز عمل امت کو دکھانا نہیں چاہ رہے۔۔۔؟

اس سوال کا جواب ہمیں اِس فرقہ بندی اور صف بندی سے نکالتا ہے جس نے معاشرے کے لوگوں کے عقائد کو راہ اعتدال سے ہٹا دیا ہے۔

طرزِ عمل و فکر میں تبدیلی کی ضرورت

شہادت امام حسین علیہ السلام کی یہ تمام احادیث آقا علیہ السلام کی نگاہ پاک میں اس شہادت اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت کی اہمیت کو واضح کررہی ہیں کہ آقا علیہ السلام کی آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کتنی ہے اور اِس رتبہ شہادت کا عالم کیا ہے؟ دوسری طرف آج اہل سنت والجماعت کا ہر مکتبہ فکر اور محبت اہل بیت کا نام لینے والے بطور خاص اپنے گریبانوں میں جھانکیں کہ وہ محبت اہل بیت کا کتنا دم بھرتے ہیں؟ شہادت امام حسین کی عظمت کا ذکر کتنا کرتے ہیں کہ جس سے آپ رضی اللہ عنہ کی محبت دلوں میں پیدا ہو؟ جس سے دل امام عالی مقام اور اہل بیت اطہار کی محبت اور مودت کی طرف راغب ہوں؟ یاد رکھیں! ہمارا دین روکھا دین نہیں ہے۔ اُس میں ہر جگہ جہاں ذات آئی ہے وہاں تعلیمات بھی آئی ہیں اور تعلیمات کے ساتھ ذات کو بھی جوڑا ہے۔ ذات سے محبت، ادب، تعلق قلبی، تعلق روحی، تعلق عشقی، ادب اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے، دل جھکتے ہیں، اُس سے فیض ملتا ہے، ایمان کی تقویت ہوتی ہے جبکہ تعلیمات عمل، اُسوہ اور سیرت کو سنوارتی ہیں۔ پیغام سے زندگی کا اُسوہ اور طریقہ ملتا ہے، باطل سے ٹکرانے کی جرات ملتی ہے۔ ہر چیز کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے، مگر ہم نے تعلیم اور پیغام پر زور دے کر بڑی عیاری و مکاری یا نادانستگی و نادانی کے ساتھ امام عالی مقام اور شہداء کربلاء معلی اور اہل بیت اطہار کے ساتھ محبت اور مودت کے رشتے کو کمزور کر لیا ہے۔ اُن کا ذکر کرنا، کثرت سے اُن کا بیان کرنا، ہم نے شیعہ حضرات کے کھاتے میں ڈال دیا ہے کہ یہ اُن کا مسلک ہے۔

سوسائٹی میں ایک غلط سوچ پیدا کر دی گئی ہے کہ جو اُن کا بہت ذکر کرے گا وہ شیعہ ہے۔ چونکہ محرم کو وہ اپنے خاص طریقے کے ساتھ مناتے ہیں، اُن کا اپنا طرز عمل، طرز فکر، طریق اور مسلک و انداز ہے، اس کا اہتمام وہ اپنے طریقے سے کرتے ہیں۔ ہم اُس طریق سے نہیں کرتے، ہمارا اپنا عقیدہ و مسلک ہے، ہمارا اپنا اندازہے، ہم اُس طریق سے بعض چیزیں نہیں کرتے جو اہل تشیع اپنے مسلک کے اندر کرتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ وہ اپنے انداز اور طریق سے شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کو یاد کرتے اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں لیکن اِس کا مطلب یہ کہاں سے پیدا ہو گیا کہ ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی چھوڑ دیں، شہادت حسین کی عظمت کا بیان ہی چھوڑ دیں، مؤدت و محبت اہل بیت بھی چھوڑ دیں، حسنین کریمین رضی اللہ عنھما کا ذکر اور اُن کی محبت کا تذکرہ ہی چھوڑ دیں کہ کیونکہ یہ شیعہ کرتے ہیں لہذا ہم نہیں کریں گے۔ یہ رویہ کہاں سے آگیا؟ یہ ظلم ہے۔ یہ ایک ایسا عجیب پہلو ہے کہ اِس سے ہم اپنے ایمان اور اُس کی جڑ پر چھری چلا رہے ہیں،اپنے ایمان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یاد رکھ لیں اہل بیت کی محبت کسی ایک مسلک کا شعار ہے نہ کسی ایک مسلک کی وارثت ہے۔ یہ عین ایمان ہے اور عین اسلام ہے۔ امت مسلمہ کے ساتھ نادانستہ طریقے سے یہ ظلم ہوتا جارہاہے کہ چونکہ شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کی مجالس اہل تشیع کرتے ہیں، لہذا جو سنی ہیں، وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر چھوڑ دیں، وہ محبت و مودت اہل بیت کا نام لینا چھوڑ دیں۔ تو کیا محبت حسنین رضی اللہ عنہما، محبت علی رضی اللہ عنہ، محبت فاطمہ رضی اللہ عنہا، مودت اہل بیت، آپ نے ایک مسلک کا ورثہ بنا دیا؟ یہ سوچ خارجیت کا اثر ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ اگر مودت اہل بیت نکل گئی تو آپ ایمان سے محروم ہوگئے۔ محبت اہل بیت نہ رہی تو آپ کا رشتہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کٹ گیا۔ آپ خود ہی ایمان سے محروم ہورہے ہیں۔