شام کے مسئلے پرامریکہ اور روس کا دوبارہ مذاکرات

شام کے مسئلے پرامریکہ اور روس کا دوبارہ مذاکرات

روس،امریکہ ( فارن ڈیسک) روس اور امریکہ نے شام کے مسئلے پر رواں ماہ معطل ہونے والے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نو دن پہلے امریکہ نے یہ کہتے ہوئے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا کہ روس جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کو پورا نہیں کر سکا۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سنیچر کو سوئٹزرلینڈ میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری اور دیگر علاقائی طاقتوں کے حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ شام کے مسئلے پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب دو دن پہلے شامی شہر حلب میں دوبارہ شروع ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 75 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جان کیری مسئلے کے خاتمے کے لیے کثیر فریقی حل پر بات چیت کریں گے جس میں تشدد کا پائیدار خاتمہ اور امدادی سامان کی ترسیل کو دوبارہ بحال کرنا شامل ہے۔

توقع ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں ہونے والی بات چیت میں سعودی عرب، ترکی اور ایران بھی شامل ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ شامی شہر حلب میں فوری جنگ بندی کی جائے تاکہ وہاں محصور شہریوں تک امداد پہنچائی جا سکے۔ خیال رہے کہ ایک دن پہلے ہی بدھ کو روسی طیاروں نےحلب میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بمباری شروع کر دی تھی جسے کئی روز کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔ بمباری کی اس تازہ لہر کے دوران شامی حکومت کے کہنے پر ایک عارضی وقفہ دیا گیا ہے تاکہ عام شہری حلب سے نکل جائیں۔ گذشتہ ماہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدے ٹوٹ جانے کے بعد حلب پر متعدد بار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔ یہ بمباری ایک ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں فرانس کا دورہ منسوخ کیا۔