ڈگری : نادرآفیس عوام کے لیے عذاب بن

ڈگری : نادرآفیس عوام کے لیے عذاب بن

ڈگری ( فرحان منہاج ) نادرآفیس عوام کے لیے عذاب بن گیا۔ دس سال سے یوسی آفیس کے دو چھوٹے سے کمروں میں بنا ہوا یہ آفیس عوام کے ناکافی ہوگیا۔ روزانہ سینکڑوں خواتین و مرد نادرا آفیس اپنے شناختی کارڈ بنوانے۔

تجدید کرانے اور درستگی کے لیے آتے ہیں۔ رش کے باعث نادرا آفیس میں کھڑا ہونا بھی دشوار ہوجاتا ہے۔ باپردہ خواتین کے لیے شناختی کارڈ بنوانا عذاب سے کم نہیں۔ چھوٹی سے جگہ میں عورتوں اور مردوں کو ایک ہی لائن میں کھڑا ہونا پڑتا ہے اور باپردہ خواتین کے تصویر بنوانے کے لیے کوئی بھی پردے کا انتظام نہیں۔ نادرا کے عملے کا رویہ عوام کے ساتھ انتہائی غیر اخلاقی ہے۔ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے کوئی بھی اہلکار سیدھے منہ سے بات کرنے کوتیار نہیں ہوتا۔ شناختی کارڈ میں درستگی کے حوالے سے کوئی بھی مناسب گائیڈ لائن نہیں دی جاتی۔

زرائع سے معلوم ہواہے کہ ٹاؤن کونسل کے پہلے اجلاس میں ایک کونسلر ندیم احمد نقشبندی نے نادرا کی آفیس کی جگہ کم ہونے کا مسٗلہ اٹھا یا تھا۔ جس پر چئیرمین میر علی محمد ٹالپور نے بتایا تھا کہ نادرا کی جانب سے دس سال پہلے جب وہ یوسی ناظم تھے صرف تین ماہ کے لیے یہ جگہ دینے کا کہا گیا  تھا کہ وہ بعد میں اپنے لیے دوسری جگہ کا بندوبست کرلیں گے۔لیکن ابھی تک نادرا نے دوسری جگہ لینے کی کوشش نہیں کی اسی چھوٹی سی جگہ میں کام چلارہے ہیں عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا آفیس کو کسی بڑی اور کشادہ جگہ شفٹ کیا جائے۔ خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کیا جائے اور عملے کی جانب سے غیر مناسب رویے کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے