واقعہ کربلا اورعلی کی بیٹی زینب سلام اللہ علیہ

واقعہ کربلا اورعلی کی بیٹی زینب سلام اللہ علیہ

تحریر : عائشہ نور

کربلا جاتے ہوئے امام حسین کو پتہ تھا کہ واپس نہیں آئیں گے۔ناناکا دین جو آج مغرب میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ اسکو بچانے کیلئے آقا کے پیاروں کو ہر چیز لٹانی پڑے گی۔ امام حسینؓ ایک ایک ہیرے کے لاشے کو اپنے ہاتھوں پہ اٹھا کر خیموں میں لاتے رہے۔ اور علیؓ کی بیٹی ان چہروں کو اپنی آنکھوں میں سموتی رہی کہ آج کے بعد انکو نہیں دیکھ سکوں گی۔امام حسینؓ کے پاس غم بانٹیے کیلئے بہن تھی۔ شہیدوں کو اٹھا کر خیموں میں لاتے تو بہن حوصلہ دے کر دوبارہ بھیجتی، لیکن جب حسینؓ بھی چلے گئے تو حضرت زینبؓ اکیلی رہ گئیں۔ کیا سماء ہو گا کہ جت کی نہروں کے وارث پانی کی ایک ایک بوند کو ترسے ہوں گے۔ جانے والے چلے گئے۔ اپنے نانا سے ملنے کے شوق نے شہادت کا مزہ دوبالا کر دیا۔ وہ سب تو اپنی آخری آرام گاہ کو پہنچ گئے۔

یزیدیوں نے بھی پوری کوشش کی کہ اس حق کے لہو کو وہیں کربلا کے میدان میں دفنا دیا جائے۔ لیکن سلام علیؓ کی بیٹی حضرت زینبؓ کو کہ انہوں نے جنت کے وارثوں کے خون کو چھپنے نہیں دیا۔ یہ وہ زینب ؓ تھیں کہ جب بھائی حسینؓ بھی چلے گئے۔ چاروں طرف دشمن کی فوج، خاندانِ جنت کی سب عورتوں کو قیدی بنا لیا گیا کہ جس خاندان کی بیٹی کا ایک بال ننگا ہونے پر سورج نہ نکلے۔ اپنے بھائی ، بھتیجوں لختِ جگر، اور خاندان کے 73 جوانوں کے لاشوں کو دیکھ کر بھی ہمت نہیں ہاری اور قید میں بھی یزید کو للکارنا نہیں چھوڑا۔ وہ حضرت زینبؓ تھیں جنہوں نے کربلا سے دربارِ یزید تک ایسے خطابات کئے کہ اگر وہ نہ ہوتے تو آج شائد ہم اس کرب و بلا میں ہونے والے ظلم کی حقیقت تک نہ پہنچ سکتے۔وہ دور جس میں نہ کیمرے نہ میڈیا اور ہر طرف دشمن کے ہوتے ہوئے بھی بہادری سے ظالموں کی ظا لمیت کو آشکار کیا۔ اگر ہم یہ کیہں کے اگر آج ہم کربلا کے واقع کو جانتے ہیں تو وہ حضرت زینبؓ کی ہستی تھی۔اپنے پورے قافلے کو سنبھالا جب کوئی یارو مددگار نہیں تھا، اور لوگ باغیوں کا قافلہ سمجھ کر آوازیں کستے تھے تو وہ حضرت زینبؓ تھیں جنہوں نے بتایا کہ یہہ لٹا ہوا قافلہ انکے نبی ؐ کی شہزادیوں کا ہے۔ اپنے بھائی کے سر مبارک کو نیزے پر دیکھ کر جنت کی شہزادی پر کیا گزرتی ہو گی۔ دربار یزید میں بھی کھڑے ہو کر یزید کو اتنی جرئت سے للکارا کہ لگتا تھا امام حسینؓ بول رہے ہیں۔ ابنِ زیاد کو ایسے جواب دئیے کہ دربار میں موجود لوگوں کو سانپ سونگ گیا۔

جب دربار یزید میں سرِ حسینؓ پیش کیا گیا تو سیدہ زینب بغیر کسی ڈر کے یزید کو للکارتے ہوئے خطاب کیا کہ شروع کرتی ہوں اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے۔ساری تعریف رب کیلئے میں ستم دیدہ سہی مگراے اب تعریف تیری ، میرا گھر تباہ سہی لیکن حمد تیری۔درود سلام میرے نانا کیلئے، بْرا انجام ہے ان لوگوں کا جو اللہ کو آیات کا غلط استعمال کریں اور انکا مذاق اڑائیں، یزید تو نے اللہ کے قول کو بھلا دیا ۔ اللہ کا قول یہ ہے کہ کافر یہ گمان نہ کریں کہ ہم نے انکو جو مہلت دی وہ اس لئے دی کہ انکا زمانہ ہمیں پسند آیاہے یا نہیں، یہ مہلت اس لئے ہے کہ وہ گناہ پر گناہ کئے جائیں تاکہ عذاب زیادہ ہو۔ کیا یزید تو گمان کرتا ہے کہ یہ تیرا ملک ہے تیری حکومت ہے اور ہمارے لئے کوئی راہ نہیں اور تو نے ہمیں در بدر پھیرا کر اپنے جبرکا اعلان کیا؟ یہ غلط ہے۔ ہاں یزید ایسا ہوا کہ ہم شہر بہ شہر پھیرائے گئے، ہمیں لوگوں نے دیکھا کہ ہمارے سروں پر چادریں نہیں تھیں لیکن تم سے اور کیا امید کی جا سکتی تھی اور تو کیوں جلدی نہ کرتاہماری شہادت پر کیونکہ تیری نگاہِ بغض ہمارے گھرانوں پر لگی ہوئی تھی۔ کس کا لشکر کمزور ہے یہ تو جان لے گا۔ میں دیکھ رہی ہوں کہ تو میرے خطبے کو روکنا چاہتا ہے، جتنی تجھ میں ہمت ہے اور ستم کر لے۔ یزید تو ہمکو ڈراتا ہے۔ اسکی قسم جس نے ہمارے گھرانے کو نبوت دی اور کتاب سے سرفراز کیاتو ہمارے مقصد کو پا نہ سکا تو ہمارے ذکر کو قیامت تک مٹا نہ سکے گا۔ اب تیرے دن گنے جا چکے۔ تیرا یہ مجمع منتشر ہو جائے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ آپکی یہ پیشین گوئی کچھ دن بعد ہی پوری ہو گئی۔ پھر یہ قافلہ جب حضرت زینبؓ کی قیادت میں مدینہ پہنچا تو وہ لمحہ بھی قیامت خیز تھا۔ ان گلیوں میں دوبارہ جانا جہاں نبی کے گلشن کے سب پھول کھلا کرتے تھے۔ آقا کی قبر پر حاضری ، کربلا کی قیامت کے بعد ایک اور قیامتِ صغریٰ تھی جو آقا کی شہزادیوں پر گزری۔

زینبؓ نے اس طرح اجاڑا یزید کو
خطبوں کی ذوالفقار سے مارا یزید کو