جمہوریت کے نام پر بادشاہت، عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے، چیف جسٹس

جمہوریت کے نام پر بادشاہت، عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیئے، چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) سپریم کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کی زد میں آنیوالی گیارہ تاریخی عمارتوں کا دوبارہ سروے کرانے کیلئے آزاد ماہرین کے نام مانگ لئے، سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تاریخی ورثہ تباہ نہیں ہونے دینگے، ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے، غیر جمہوری رویے پر عوام کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔

چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے اورنج ٹرین منصوبے کی زد میں آنیوالی گیارہ تاریخی عمارتوں کی حدود میں منصوبے کی تعمیر پر پابندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس دیئے کہ عوام سے جمہوریت کے نام پر مذاق ہورہاہے ،لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت سوچنا چاہیے ،ایک انگریز جج نے کہا تھا جو لوگ ایسے لوگوں منتخب کرتے ہیں انہیں بھگتنا چاہیے،گڈ گورننس کے نام پر بیڈ گورننس ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عوام کو ایسے غیرجمہوری رویے کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے، یہ کسی ایک شخص کا نہیں، عوامی فلاح کا منصوبہ ہے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں بھی کچھ قانونی تقاضے پورے ہوئے نظر نہیں آتے۔ پنجاب حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میںکہا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں پانچوں رپورٹس کو غلط قراردیا گیا،ہائیکورٹ کے پاس ایساکوئی پیمانہ نہیں تھاجن کی بنیاد پر رپورٹس کو غلط قراردیا گیا،ہائیکورٹ نے ایسے کسی نصاب یاپیمانے کا ذکر بھی اپنے فیصلے میں نہیں کیا، اورنج لائن منصوبے سے متعلق رپورٹس کی نفی بغیر قانونی جواز کی گئی۔

مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ ہائیکورٹ نے یہ نہیں بتایا کہ درست کیا ہے اور نہ کوئی وضاحت کی ،کسی بھی تاریخی شہر میں ترقیاتی کاموں میں توازن رکھنا ہوتاہے،ترقیاتی کام بھی ہوں اور تاریخی ورثہ بھی محفوظ رہے ،اگر اورنج لائن ٹرین بننے سے شالامار باغ یا کوئی تاریخی عمارت گرتی ہے تو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ، لیکن ٹرین چلنے سے چوبرجی کو دیکھنے میں دقت ہو تو عدالت کو نظر انداز کرنا چاہیے۔بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ لاہور کے تاریخی ورثے کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیںگے، اگر اورنج ٹرین کا ٹریک تھوڑا بہت ادھر ادھر ہو جائیگا تو آسمان نہیں گرے گا،سپریم کورٹ نے اورنج ٹرین منصوبے کی زد میں آنیوالی گیارہ تاریخی عمارتوں کا دوبارہ سروے کرانے کیلئے آزاد ماہرین کے نام طلب کرتے ہوئے مزید سماعت کل چودہ اکتوبر تک ملتوی کر دی