بحریہ ٹاؤن کراچی، اربوں کی سرکاری اراضی کوڑیوں میں، پس پردہ کہانی سامنے آگئی

بحریہ ٹاؤن کراچی، اربوں کی سرکاری اراضی کوڑیوں میں، پس پردہ کہانی سامنے آگئی

کراچی (تہلکہ ٹی وی خصوصی رپورٹ) ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) اور بحریہ ٹاؤن کو سندھ حکومت کی اربوں روپے مالیت کی ہزاروں ایکٹر اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ و ایکسچینج کے سٹیٹ لینڈ کی بندر بانٹ کے میگا سکینڈل میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے برعکس، سندھ حکومت اور نیب ملزموں کیخلاف کارروائی سے گریزاں، سست روی کے ساتھ ساتھ مرکزی ملزمان اور چہیتوں کے نام نکالنے اور سیاسی آقاؤں کی خوشنودی کے کیلئے باغی پارٹی رہنماؤں اور غیر قانونی احکامات نہ ماننے والے افسران کے نام نیب انویسٹی گیشن میں شامل کرنے کے حوالے سے تہلکہ ٹی وی چونکا دینے والی تفصیلات سامنے لے آیا ۔

بحریہ ٹاؤن کو سرکاری اراضی کی غیرقانونی الاٹمنٹ ؟ ملوث کون ؟ 

تہلکہ ٹی وی کو ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی 13 ہزار ایکٹر سے زائد سرکاری اراضی کی ایم ڈی اے اور بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی الاٹمنٹ کے سکینڈل کی انکوائری کا حکم مارچ 2016ء کو دیا تھا۔ جس میں پہلی انکوائری رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اورپراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی فیملی کے ڈائریکڑز کے نام بھی شامل تھے، جبکہ سابق صوبائی وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل انعام میمن اور اس وقت کے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو(ایس ایم بی آر) ڈی ایم جی آفیسر احمد بخش ناریجو کے نام انکوائری میں نہیں تھے تاہم اسکے بارے غیر ضروری طور پر بغیر شواہد اور محض تصوراتی و تخیلاتی طور پر مذکورہ بالا دونوں افراد کے نام شامل کردیئے گئے، جس کا مقصد نیب حکام کی جانب سے مبینہ طور پرسیاسی آقاؤں کی خوشنودی کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیئے : بحریہ ٹاؤن کراچی کا مستقبل داؤ پر، سپریم کورٹ کا 45 روز میں ریفرنس دائرکرنے کا حکم

نیب کے تفتیشی افسر کی دوستوں کو کلین چٹ

دوسری جانب مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جن ملزمان کا اس سکینڈل میں اصل اوراہم کردار اس وقت تھا وہ کاآج بھی ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر براجمان ہیں جس کی مثال ڈی سی ملیر محمد علی شاہ ہیں ، جن کا نام تفتیشی آفیسر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب کراچی انویسٹی گیشن ونگ II قمر عباس نے گہری دوستی کے باعث انتہائی چالاکی و ہوشیاری سے مکھن سے بال کی طرح نکال دیا اور کسی کو کانوں کان خبر تک بھی نہ ہونے دی ۔

نیب کی ذمہ داروں کیخلاف پراسرار خاموشی 

اسکے علاوہ اس کیس میں اور اہم کردار وہ افسرو اہلکار، ڈیلر یا ایجنٹ ہیں، جنہوں نے ملک ریاض یا بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ سے ہاتھ کیا اور زمینوں کے ریکارڈ کے ہیر پھیر اور ردوبدل میں بے تحاشا رقم بٹوری، ان سے بھی کسی قسم کی ریکوری عمل میں لائی گئی اور نہ ہی ابھی تک نیب نے ان کا نام انکوائری یا انویسٹی گیشن میں شامل کیا ہے۔ دریں اثناء اب تک نیب نے سوائے الاٹمنٹ ،ایکسچینج اور زمین کی خریداری کے ریکارڈ کے، کوئی اور ناقابل تردید دستاویزی یا دیگر ٹھوس شواہد حاصل نہیں کئے، بالخصوص ایسے کیسز میں جہاں صرف یہ الزام لاگو ہو کیونکہ کسی پرائیویٹ کمپنی یا ہاؤسنگ سکیم کو کمرشل مقاصد کیلئے سرکار کی زمین نہ تو مل سکتی ہے اور نہ ہی ایکسچینج ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : نیب کا قائم علی شاہ اورملک ریاض فیملی کو ’’پختہ کلین چٹ‘‘ دینے کا انکشاف

نیب ملزموں کیخلاف شواہد اکٹھے کرنے کے بجائے بچانے کیلئے سرگرم

حیران کن امر یہ بھی ہے کہ مذکورہ زمین اب تک ریکارڈ میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے نام پر بھی منتقل نہیں ہوئی۔ نیب ذرائع نے تہلکہ ٹی وی کو بتایا شواہد اکٹھے کرنا لازمی ہوتا ہے کیونکہ قانون کے مطابق یہ ایک آئینی مسئلہ ہے جس کی تشریح کا حق صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے اور وہی واحد فورم ہے جو اس معاملے کی تشریح کرسکتی ہے۔ حال ہی میں پنجاب میں بھی ایک ایسے ہی سکینڈل جو احباب ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے مشہور ہے، میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ چیف جسٹس آف پاکستان سے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی ہے۔ دوسری جانب نیب کا ٹھوس اور مضبوط شواہد اکٹھے نہ کرنا بھی سوچی سمجھی سازش اور ملزموں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ نیب ملزموں کا ٹرائل کرنے کی بجائے ان کو کلین چٹ دینے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے۔

بحریہ ٹاؤن کو اربوں روپے مالیت کی ہزاروں ایکڑ اراضی کس کے اشارے پر الاٹ کی گئی، فائدہ اٹھانے والے کون؟

سندھ حکومت بھی ملزموں کو کریمنیل پروسیڈنگ سے بچانے کیلئے نیب کے شانہ بشانہ ہے کیونکہ یہ بات اب کون نہیں جانتا کہ سندھ میں حکومت کس پارٹی کی ہے اور اس پارٹی کے رہنماء کے بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض سے کیا معاملات ہیں اور اس سکینڈل کے اصل یا مین Beneficiaries کون ہیں ؟

غیر قانونی کام جاری، لوگوں کےاربوں لگ گئے 

13ہزار ایکڑ سرکاری زمین سندھ حکومت نے پہلے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام ٹرانسفر کی بعد میں بحریہ ٹاون نے کنسولڈیشن کے ذریعے اوردیگر زمینوں کے ایکسچینج کی مد میں حاصل کی ۔ یہ وہی زمین ہے جہاں اب بحریہ ٹاون کراچی موجود ہے جو سپرہائی وے سے ملحقہ ہے گزشتہ سماعت کے دوران نیب سندھ نے سپریم کوٹ نے جو رپورٹ جمع کراوئی اُس کے مطابق 12ہزار ایکڑ سراکاری زمین پر بحریہ ٹاون کا قبضہ ظاہر کیا گیا سندھ حکومت نے ایم ڈی اے کو 17ہزار ایکڑ زمین ہاوسنگ سکیم بیوٹیفیکیشن کیلئے دی ۔

جن جن لوگوں کے پاس زمینیں ہیں وہ ہمیں دیں اس کے بدلے میں زمینیں دیں ۔ ملک ریاض کے ایجنٹوں نے زمینیں خریدیں اور بعد میں ام ڈی اے سے روڑ کے قریب شیئر کیں ۔ ملک ریاض بحریہ ٹاون کی وجہ سے لوگوں نے اربوں لگا دیے اور کام کی تیزی کے باعث ایریا 40 %تعمیر ہو گیا ۔

گزشتہ سماعت پر نیب سے سپریم کو ٹ نے جب دریافت کیا کہ زمین کی آن گراونڈ پوزیشن کیا ہے تو نیب نے 12ہزار ایکڑ زمین بحریہ ٹاون کے قبضے میں دکھائی اور بتایا کہ سروے آف پاکستان نے سروے کر کے دیا ہے۔ جس پر سپریم کوٹ نے مزید دریافت کیا کہ کتنا رقبے پر کام جاری ہے یا کام ہو چکا ہے تو سروے آف پاکستان کے نمائندے نے بتایا کہ 9ہزار ایکڑ پر کام ہو چکا ہے یا جاری ہے جس پر سپریم کورٹ نے 9ہزار ایکڑ رقبہ کے علاوہ باقی پر بحریہ کو کام کرنے سے روک دیا ۔

حکومت سندھ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

گزشتہ روز جب گورنمنٹ آف سندھ نے رپورٹ جمع کروائی ، اس میں 12کی بجائے 13ہزار ایکڑ پر قبضہ دکھایا ہے اور یہ بتایا ہے کہ 13ہزار ایکڑ زمین جو بحریہ کے قبضے میں وہ ایم ڈی اے کو دی تھی اور ایم ڈی اے مارکیٹ ویلیو کے فرق کے ( سروے اینڈ سیٹل مینٹ ڈیپارٹمنٹ ) حساب 8ارب 30کروڑ روپے پارٹی سے لے کر سندھ گورنمنٹ کو دینے کا پابند ہے ۔

سندھ حکومت کی انوکھی منطق، ملک ریاض کیلئے خصوصی رعایتی نرخ ؟ 

یاد رہے کہ ایم ڈی اے نے پہلے ہی 2ارب سندھ حکومت کو جمع کروا دیئے ہیں، سندھ گورنمنٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نیب نے 12 ہزار ایکڑ میں سے جن 3 ہزار ایکڑ کا ذکر بھی کیا وہ بھی بحریہ ٹاون کے قبضہ میں ہے، اس کی مالیت 26 ارب لگائی تھی وہ نہ تو بحریہ ٹاون کے قبضے میں ہے اور نہ ہی بحریہ ٹاون نے خریدی ہے بلکہ سندھ حکومت کے پاس ہے ۔ اور آج بھی اُن کے قبضے میں ہے ۔
سندھ گورنمنٹ کی رپوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن 9ہزار ایکڑ میں بحریہ ٹاون نے کام کیا ہے اُس کی رقم اگر سندھ حکومت کو دی جائے تو وہ پانچ ارب ساٹھ کروڑ روپے ہیں ۔

بحریہ ٹاؤن کا موقف

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے حوالے سے منسوب ہے کہ ہم نے قبضہ کر رکھا ہے وہ سند ھ حکومت کی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی موروثی زمینیں تھیں جن کے ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔ رشید اے رضوی اور فاروق ایچ نائیک بحریہ ٹاؤن کے وکیل تھے ۔