فوج کی کردارکشی، ن لیگ کس کے ایجنڈے پر، 1997ء سے 2016ء تک، تحقیقاتی رپورٹ

فوج کی کردارکشی، ن لیگ کس کے ایجنڈے پر، 1997ء سے 2016ء تک، تحقیقاتی رپورٹ

لاہور (رضی طاہر) وزیراعظم پاکستان نوازشریف کے سیاسی استاد کون ؟ فوج کے خلاف اتنا زہر کیوں ؟ سال1999ء میں فوج کے خلاف کردار کشی کے پیچھے کون تھا ؟ حکومت کے زیراثر میڈیا سیل کا 99میں کردار کیا تھا ؟ آج کیا ہے ؟ سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کی کتاب ’’رائیونڈ سازش‘‘ میں 90کی دہائی کی سازشوں کو کیسے بے نقاب کیا گیا؟ تہلکہ ٹی وی تفصیلات سامنے لے آیا۔

نوازشریف کے سیاسی استاد کون ؟

سینئر صحافی ارشد شریف نے نوازشریف کے استادوں کے بارے میں تاریخی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جنرل جیلانی نے نوازشریف کو متعارف کروایا،جنرل ضیاء الحق نے شاگردی میں لیا، جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے مالی معاونت کی۔

یہ بھی پڑھیئے : نوازشریف کے سیاسی استاد کون ؟ ارشد شریف کی زبانی

فوج کیخلاف ہرزہ سرائی ۔۔ چہرے نئے ۔۔۔ سکرپٹ رائٹر وہی ؟

فو ج کے خلاف کردار کشی اور ہرزہ سرائی کی رسم نئی نہیں ہے بلکہ مسلم لیگ نواز کے دوسرے دور اقتدار میں بھی کچھ اسی قسم کے حربے استعمال کیے گئے ۔سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کی کتاب ’’رائیونڈ سازش‘‘ میں دیئے گئے ایک مضمون میں مکمل تفصیل کیساتھ 99ء میں ہونی والی سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

روگ آرمی کے اشتہار کس نے چھپوائے ؟

مختلف اشتہاری مہمات کے ذریعے1999ء میں وطن عزیز کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کا قصور وار افواج پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے ’’روگ آرمی‘‘ کے اشتہارات عالمی میڈیا میں چھپوائے گئے۔ نوازشریف نے یہ اشتہاری مہم واجپائی اور کلنٹن کے موقف کو ثابت کرنے کیلئے کی، جن کا موقف تھا کہ سویلین حکومت کی کارگل وار میں رائے یا مرضی شامل نہیں تھی، یہ سب فوج نے بغیر بتائے کیا۔

army

یہ بھی پڑھیئے : قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی، سینئر صحافی اسد کھرل نے اہم سوالات اٹھادیئے

ڈان نیوز کی خبر ۔۔۔ روگ آرمی اشتہار کا تسلسل ؟

روگ آرمی کے اشتہارات کی طرح ڈان نیوز کے صفحہ اول پر خبرلگوانے کا مقصد بھی یہ معاملہ انٹرنیشنل میڈیا میں لاکر قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کرنا ہے۔ پاک بھارت، امریکہ تعلقات کے حوالے سے سویلین حکومت کی بے بسی کا یہ رونا 1999ء میں بھی رویا گیا، اس وقت بھارتی وزیراعظم واجپائی اورامریکی صدر کلنٹن کو خوش کیا گیاجبکہ اب اس خبر کے ذریعے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور امریکی صدر اوباما کو راضی کیا گیا ہے۔تاہم یہ لیک رپورٹ ملکی سلامتی کیخلاف گہری سازش کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : خبریں اور تردیدیں، کون کس کے مقاصد پورے کررہا ہے؟

قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف پروپیگنڈا، بھارتی میڈیا اور ڈان نیوز ایک پیج پر ؟  دیکھئے یہ ویڈیو

پاک فوج کے خلاف تقریر لکھنے کیلئے کس کو 30لاکھ روپے دیئے گئے ؟

تہلکہ ٹی وی کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق1999ء میں انٹیلی جنس بیورو ( IB) کے سیکرٹ فنڈ سے معروف کالم نگار نذیر ناجی کو پاک فوج کیخلاف اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کیلئے تقریر لکھنے کیلئے 30لاکھ روپے دیئے گئے ۔ نذیر ناجی اس وقت اکادمی ادبیات کے چیئرمین تھے اورنوازشریف کے تقریر نویس بھی تھے۔ نواز اقتدار کے خاتمے پر جب انہیں آئی بی پنجاب آفس بلا کر دریافت کیا گیا کہ آپ نے آئی بی کے فنڈ سے 30لاکھ روپے لیے تو انہوں نے ڈی جی آئی بی اور آئی بی پنجاب کے سربراہ کرنل احسان الرحمن کے سامنے اعتراف جرم کیا اور نوازشریف کے بارے میں نازیبا کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ رقم مجھے آئی بی کے فنڈ سے ملی۔نوازشریف کے بارے میں نازیبا الفاظ کی ریکارڈ پر پرویز مشرف نے ناجی کو معافی دے دی۔کاروائی کے خوف سے نذیر ناجی نے نواز شریف کیخلاف کے خلاف اور مشرف کے حق میں لکھنا شروع کردیا۔اس یوٹرن پر لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا۔نذیر ناجی کے علاوہ بھی آئی بی کے سیکرٹ فنڈ سے پاک فوج کیخلاف لکھنے والے صحافیوں کو نوازحکومت نے بھاری رقوم دیں۔

یہ بھی پڑھیئے : نوازحکومت آرمی چیف کی مقبولیت سے خائف، منفی پروپیگنڈا شروع

1997ء میں بنائے گئے خفیہ میڈیا سیل کے کارنامے :

فوج کے خلاف مہم جوئی کیلئے 1997ء میں ایک میڈیا سیل قائم کیا گیا تھا ، اس سیل کی سہولیات سینٹر سیف الرحمن (اس وقت احتساب سیل کے سربراہ تھے)نے مہیا کررکھی تھیں، اس کو قائم کرنے کیلئے رقم سابق وزیر اطلاعات ونشریات مشاہد حسین سید کی وزارت نے مہیا کی تھیں ، جبکہ خلیل ملک اس کے انچارج تھے ۔ یہ منظم سیل بلیو ایریا کی ایک بلڈنگ میں بنایا گیا تھا، جہاں افواج پاکستان کے خلاف کالم تحریر کروانے ، فوج کے راز افشاء کرنے کا کام ہوتا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایک ڈائجسٹ میں فوج کے خلاف تحریر لگوانے کیلئے اس کے ایڈیٹر کو 25لاکھ کی خطیر رقم سے نوازا گیا، دو لاکھ رسالے خرید کرکے مفت تقسیم کیے گئے ۔ سابق چیئرمین پی ٹی وی (موجودہ وزیراطلاعات ونشریات) پرویز رشید کو پاک فوج کے خلاف کالم لکھوانے کیلئے میاں نواز شریف کی حکومت کی جانب سے 17لاکھ روپے دیئے گئے ۔ سابق وزیراطلاعات نے ایک سینئر صحافی کو ایک کالم کے70ہزار روپے پی ٹی وی کے فنڈز سے ادا کیے۔

پلاٹ ، ٹھیکے ، پرمٹ صحافیوں کو ، دوسرے نوازدور میں حکومت سرحد کے کارنامے :

سینئر تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کے مطابق نوازشریف کی مدح سرائی کیلئے ایک بڑے اخبار کے مالک کو اس دور میں10کروڑ روپے دیئے ، صوبائی حکومتوں کو پسندیدہ اخبارات کو اشتہارات دے کر فوج کے خلاف مہم جوئی کی ہدایات جاری کی گئیں۔ پشاور کے کچھ بڑے صحافیوں کو 50لاکھ دیئے گئے ،18صحافیوں کو پلاٹ پرمٹ ، ٹھیکے اور دیگر سہولیات دی گئیں۔ وزیراعلیٰ سرحد(موجودہ خیبرپختون خوا) کے حکم پر ایس ایس پی لیاقت خان نے چار مہنگی ترین گاڑیاں جن میں ایک ساتھ لاکھ کی گاڑی اور دو ہائی ایس شامل ہیں ایک قومی اردو اخبار کے بیورو چیف کو دی گئیں۔ انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کے ایک صحافی کو بھی مہنگی ترین گاڑی دی گئی۔ 8صحافیوں کو آٹے کے پرمٹ دیئے گئے ۔ ایک اردو اخبار کے چیف رپورٹر کو تین ائیر کنڈیشنڈ ، ایک ٹی وی اور مہنگا ترین پلاٹ دیا گیا۔ صحافیوں کو استعمال کرنے کیلئے انٹیلی جنس بیورو کا استعمال بھی 90کی دہائی میں ہی شروع ہوا ، خفیہ ایجنسیوں کے دو عہدیداروں کو 14کروڑ روپے دیئے گئے تاکہ وہ ایسے رپورٹروں، کالم نگاروں اور ایڈیٹروں کی معاونت کریں جن سے آگے چل کر کام لیا جاسکے۔

سال 1997ء میں کن کن صحافیوں کورقوم دی گئیں ، نام اور چیک نمبر سامنے آگئے

سال 1997ء میں حکومت نے صحافیوں کو لاکھوں کی بھاری رقوم تقسیم کیں ، جن کی تفصیل یہ ہے۔ روزنامہ جنگ کے کالم نگار عبدالقادر حسن کو80ہزار روپے دیئے گئے جبکہ اسی اخبار کے ایک فوٹوگرافر ایس اے رضا کو ایک لاکھ روپے دیئے گئے ۔ کالم نگار زاہدہ حنا نے 20 مارچ 1997ء کو چیک نمبر09931427کے ذریعے 50ہزار دیئے گئے ۔ تجزیہ کار صالح ظافر کو 15فروری1997ء کو چیک نمبر 672951 کے ذریعے 20ہزار روپے دیئے گئے۔ لاہور کی صحافی خاتون نصرت الیاس کو50ہزار روپے، روزنامہ صداقت کے شہزاد سلیم کو 10ہزار روپے جبکہ عتیق بٹ کو ایک لاکھ روپے دیئے گئے ، روزنامہ رہبر کی ریحانہ چغتائی نے 20ہزار بٹورے ۔ روزنامہ جہاد پشاور کے چیف ایڈیٹر شریف فاروق کو3لاکھ روپے دیئے گئے ۔ کراچی کے مرزا امتیاز حسین کو 20ہزار، ڈیلی رپورٹ کی عابدہ شاہ کو15ہزار، اے پی پی کے محمد مختار کو 50ہزار، روزنامہ امت کے سعود ساحر کو ایک لاکھ ، روزنامہ جنگ کے یونس مرزا کو50ہزار دیئے گئے۔

یہ بھی پڑھیئے : جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کی خبروں کے پس پردہ محرکات کیا؟ چشم کشا حقائق

تیسرا نوازدور۔۔ میڈیا سیل وزیراعظم ہاؤس میں کیا کررہا ہے ؟

نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے میڈیا سیل وزیراعظم آفس میں ہی کھول لیا،اسکی سربراہی انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم صفدر کو سونپ دی۔مریم صفدر کے پاس کوئی سرکاری عہدہ تو نہیں ، لیکن چالیس کے قریب مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین یا ایسے افراد جن کو انہوں نے نے خود منتخب کیا ہے پر مشتمل ٹیم کام کررہی ہے جو تنخواہ اور دیگر مراعات عوام کے ٹیکس سے وصول کرتے ہیں لیکن ن لیگ کی پروموشن ، تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور ن لیگ کی حکومتی پالیسیوں کی تعریفیں اور پاک فوج اور آئی ایس آئی کیخلاف ہرزہ سرائی کرنا ان کا مقصد ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی وفاق اور صوبہ پنجاب میں حکومت ہے اور وزارت اطلاعات ونشریات ، پی آئی ڈی ، اے پی پی ، ریڈیوپاکستان ، پی ٹی وی اور ڈی جی پی آر پنجاب کے ہوتے ہوئے بھی کیا ن لیگ کی حکومت کو غیر قانونی طور پر وزیراعظم ہاؤ س میں میڈیا سیل قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اس با ت کا جواب حال ہی میں رونما ہونے والی لیک رپورٹ کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ ملکی سلامتی کے حوالے سے اہم اجلاس کی خبر وزیراعظم ہاؤس سے ڈان نیوز میں لگوانے کے پیچھے بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ یہی سٹریجیٹک میڈیا کمیونیکیشن سیل کارفرما ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : افواج پاکستان کے خلاف شرمناک پروپیگنڈہ

وزیراعظم ہاؤس سے آئی ایس آئی کے خلاف کیا سازش ہوئی ؟

مورخہ7اگست 2015ء کو مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و وفاقی ووزیر احسن اقبال نے سینیٹر مشاہد اللہ کو وزیراعظم ہاؤس بلا کر اہم پوائنٹس پر بریفنگ دی گئی۔ مشاہد اللہ کو بتایا گیا کہ بی بی سی کے شفیع نقی جامی ، آپ کا انٹرویو کریں گے جس کا موضوع موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات ہوں گے۔ احسن اقبال نے مشاہد اللہ کو مزید بتایا کہ وہ انٹرویو کے پوائنٹس کیلئے وزیراعظم ہاؤس جائیں جہاں پر سینیٹر مشاہد اللہ کے ہاتھ میں ایک بند لفافہ تھمایا گیا جس کے اندر مذکورہ انٹرویو کے پوائنٹس پر مشتمل تھا۔یہ لفافہ وزیراعظم ہاؤس میں خدمات سرانجام دینے والے ایک بیوروکریٹ نے سینیٹر مشاہد اللہ کو شریف فیملی کی ایک اہم شخصیت سے زبانی ہدایات لینے کے بعد تھمایا۔ دس اگست کو بی بی سی کے مقامی نمائندے آصف فاروقی نے سینیٹر مشاہد اللہ سے مجوزہ انٹرویو کیلئے رابطہ کیااور اس حوالے سے انتظامات کیے ۔ شفیع نقی جامی نے سینیٹر مشاہد اللہ سے ماحولیاتی ایشوز کے حوالے سے لندن سے سوالات کیے ، جس کے بعد مشاہد اللہ سے آصف فاروقی نے بالکل وہی سوالات اور اسی ترتیب کیساتھ کرنے شروع کردیئے جو مشاہد اللہ کو ٹاکنگ پوائنٹس کی شکل میں دیئے گئے تھے۔جس پر مشاہد اللہ کو سمجھ میں آگئی کہ جو مواد مجھے دیا گیا ہے اس کی کاپی بی بی سی کے مقامی نمائندے آصف فاروقی کو بھی دی گئی ہے۔ پہلے ٹیک کے بعدسینٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ وہ انٹرویو کا دوسرا حصہ دوبارہ پڑھ کر ریکارڈ کروائیں گے۔ مشاہد اللہ نے دوبارہ وزیراعظم ہاؤس سے موصول ہونیوالے لفافے کے مواد کو دہرایا، اور وہی جواب دیئے جو کہنے کو کہا گیا۔

انٹرویو کیا تھا ؟ تفصیلات اس ویڈیو میں ؟

مذکورہ انٹرویو کے بعد قومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے مشاہد اللہ کو فون کرکے حکومتی فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ استعفیٰ دے دیں ۔ اس وقت سینیٹر مشاہداللہ مالدیپ میں موجود تھے، جب انہیں پیغام ملا۔ انکی واپسی پر وزیراعظم کیساتھ خصوصی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جہاں پر وزیراعظم نے ان کو طے شدہ سکرپٹ کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دینے پر شاباش دی اور ان کے عزیز واقارب کو مزید پرکشش عہدوں کے علاوہ ان کو بھی خصوصی خدمات کے عوض وزیر سے زیادہ حیثیت دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔مذکورہ انٹرویو 10اگست کو کیا گیا لیکن یہ انٹرویو 14اگست 2015 کو نشر ہوا۔

موٹروے پولیس کی آڑ میں فوج کے خلاف مہم

مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل کی جانب سے موٹروے پولیس اور کمانڈوز کے درمیان ہونیوالے ایک واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف ٹرینڈ بنائے گئے اور تذلیل کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیئے : پاک فوج کا گھیراؤ۔۔۔۔ کیوں ؟؟

پاک فوج کے خلاف انڈیا اور امریکہ کے مذموم ایجنڈے کو کون پروان چڑھا رہا ہے؟

امریکہ اور بھارت پر یہ بات اچھی طرح باور ہوچکی ہے کہ وہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کی پیشہ روانہ صلاحیتوں اور اس کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے ، جس کے لئے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کو اس مذموم ایجنڈے کے تحت بدنام کرکے فوج اور آئی ایس آئی کے افسروں و جوانوں میں اپنے کمانڈرز کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے ۔ اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز جنرل مشرف کے اقتدار کے خاتمے کیساتھ ہی شروع ہوگیااور آرمی چیفس جنرل مشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف، اسی طرح آئی آیس آئی کے سربراہان لیفٹیننٹ جنرل (ر) احمد شجاع پاشا، لیفٹیننٹ جنرل(ر)ظہیرالاسلام اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کے خلاف تسلسل سے منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔اور اس ایجنڈے کے تحت آتے وقت ہر آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے بارے میں حکومت اور میڈیا ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اوررخصت ہوتے ہی ان کے اوپر سنگین الزامات لگانے کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔مشاہد اللہ کا انٹرویو اور ڈان کی حالیہ سٹوری اس ایجنڈے کی کڑی ہے۔