سٹیٹس کو کیخلاف جنگ کے دعویدار، تقسیم کا شکار، تجزیاتی رپورٹ

سٹیٹس کو کیخلاف جنگ کے دعویدار، تقسیم کا شکار، تجزیاتی رپورٹ

لاہور (رضی طاہر) ملک میں سٹیٹس کو کے خاتمے کے خلاف جنگ کرنے کی دعویدار، دو بڑی جماعتوں میں اس وقت دوریاں دکھائی دے رہی ہیں، پاکستان تحریک انصاف اس وقت اپنی30اکتوبر کی کال پراسلام آباد بند کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہے جبکہ پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے 3ستمبر کے بعد دوسرے مرحلے کا اعلان ابھی باقی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 21اکتوبر کو ڈاکٹر طاہرالقادری کی کینیڈا سے لندن واپسی ہے جہاں سے وہ پریس کانفرنس کے ذریعے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور اسی ماہ کے آخر ی ہفتے میں پاکستان واپس آئیں گے۔

سال2014ء میں یہ دو جماعتیں میدان میں نکلیں تو پاکستان تحریک انصاف بڑی اپوزیشن جماعت جبکہ پاکستان عوامی تحریک پارلیمنٹ سے باہر بڑے پریشر گروپ کے طور پر ابھری ، جس کے قائد اور کارکنان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ کسی بھی وقت حکومت کیلئے بڑے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں اور حکومت کو بھی زیادہ پریشانی تحریک انصاف کی تحریک سے نہیں بلکہ عوامی تحریک کے لائحہ عمل سے ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ جب عمران خان نے رائیونڈ مارچ کا اعلان کیا تو عوامی تحریک کے قائد جو کہ 3ستمبر کو عوام سے رائیونڈ مارچ کی رائے لے چکے تھے نے رائیونڈ نہ جانے کا اعلان کردیا، جس کے بعد یہ واضح ہوگیا تھا کہ حکومت ا ب کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گی ۔ ایسا ہی ہوا عمران خان نے30ستمبر کو تاریخ ساز جلسہ کیا جس میں ملک بھر سے لاکھوں لوگوں نے شرکت کرکے حکومت کیلئے اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے عیدالضحیٰ سے پہلے ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن حسب وعدہ وہ ملاقات کیلئے نہیں گئے ۔ طے یہ پایا تھا کہ رائیونڈ مارچ کا اعلان دونوں جماعتیں اکٹھے ایک پلیٹ فارم پر کریں گی لیکن کراچی جلسے میں عمران خان نے تنہا اس جلسے کااعلان کردیا جو عوامی تحریک کی دوری کا سبب بنا۔ دوسری جانب عوامی تحریک کے انکار کے بعد عمران خان نے اپنے 30ستمبر کے خطاب میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذکر کرنا گوارہ نہیں کیا، جس پر میرے سمیت ہر شخص نے سوال اٹھائے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے تھا ۔ عوامی تحریک کو بھی جزوی شرکت سے انکار نہیں کرنا چاہیئے تھا بلکہ علامتی طور پر شرک ہوکر تحریک احتساب کی حمایت کرنی چاہیئے تھی۔ یہ بنیادی طور پر دونوں جماعتوں کے مدنظر ہونا چاہیئے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کیلئے انصاف کا حصول اور وطن عزیز کی دولت لوٹنے والوں کا احتساب کسی قائد کی انا سے بڑھ کر نہیں ہے۔

جوں جوں 30 اکتوبر قریب آرہی ہے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس بار حکومت کی جانب سے سختی سے نمٹا جائے گا اور اسلام آباد داخلے سے روکا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا بھی یہ کہنا ہے کہ ریڈ زون میں عمران خان کا داخلہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے بغیر ناممکن ہوگا، میرے اپنے خیال میں اب ایسا نہیں ہے، تحریک انصاف کے کارکنان نے کافی تربیت حاصل کرلی ہے۔ اگر عمران خان ایک لاکھ لوگ لے کر بھی اسلام آباد داخل ہوجاتے ہیں تو وہ باآسانی اسلام آباد کو بند کرسکیں گے تاہم تعداد اس سے زیادہ متوقع ہے۔

تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک دو علیحدہ جماعتیں ضرور، علیحدہ حکمت عملی بنانے کی مجاز ضرور ، علیحدہ سمتوں پر چلنے کا فیصلہ لینے کے حقدار ضرور ۔۔۔ مگر جہاں بات ہو انصاف اور احتساب کی تو علیحدہ علیحدہ سے تحریک چلانے کے بجائے دو دریاؤں کو ایک سمندر میں گرنا چاہیے اور ساتھ ساتھ ندی نالوں کو بھی ملانا چاہیے یہ سب کچھ وہ خود کرلیں برسات کا اہتمام خود ہی ہوجائے گا۔ قائدین کو پاکستان کا سوچنا چاہیے اور ایک دوسرے کی خامیوں اور کوتاہیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہیے تاکہ کارکنان بھی اپنی بھرپور توانائیوں کے ساتھ نکلیں اور تحریک اپنے انجام کو پہنچے۔