محکمہ خزانہ پنجاب میں گروپ بندی، جونیئرز افسران کا راج، اندرونی کہانی سامنے آگئی

محکمہ خزانہ پنجاب میں گروپ بندی، جونیئرز افسران کا راج، اندرونی کہانی سامنے آگئی

لاہور (حسن رضا) محکمہ خزانہ پنجاب میں سینئر افسران کو کھڈے لائن لگانے، صوبے کا خزانے کا کنٹرول سنبھالنے، افسران کے تقروتبادلے کےلئے جونیئرز افسران کا گروپ بے نقاب ہوگیا۔

صوبے میں خزانہ سے متعلقہ معاملات پر کنٹرول رکھنے کےلئے علی اختر خالد گروپ کا سربراہ وزیراعلی پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد علی عامر ہیں۔ ڈسٹرکٹ اکاﺅنٹس آفیسر اور لوکل فنڈز آڈٹ جو ضلع کونسل، کارپوریشنز میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر ز ہیں ان عہدوں پر کس کو تعینات کرنا ہے، فنڈز کس کو جاری کرنے ہیں، کس کو نہیں کرنے، یہ سب معاملات یہ گروپ ہی اپنی مرضی سے لگاتا ہے، باقی افسران بھی اس گروپ سے بلیک میل ہونے لگے۔ بجٹ کی تیاری میں بھی شدید مشکلات کا سامنا، بعض جونیئرز افسران نے ورلڈ بنک کی ٹیم کا سہارا لیکر بجٹ تیار کیا، سیکرٹری خزانہ بھی تعینات نہ ہونے اسی جونیئرافسران کا گروپ کا کارنامہ ہے۔

ذرائع نےبتایا کہ سپیشل سیکرٹریزکو اپنے کنٹرول میں رکھنے کےلئے نئی نئی پالیسیوں کے بارے آگاہی شروع ، افسران نے معاملات کوسمجھ کر کرنے کی بجائے جان چھڑاتے ہوئے جونیئرافسران کی سفارشات پر ہی عملدآمد کرنے پر لگ گئے۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہواہے کہ محکمہ خزانہ پنجاب میں کئی عرصے سے سیکرٹری خزانہ پنجاب تعینات نہ ہونے کی بڑی وجہ بھی یہی گروپ ہے جس کا نام علی اختر خالد گروپ ہے، اور یہ تین وہ افراد ہیں جنہوں نے وزیراعلی پنجاب شہبازشریف کے آگے پیچھے بہتر رپورٹس اور افسران کے خلاف بھڑکانے سے متعلقہ معاملات کرتے ہوئے اپنی پوزیشن بنائی ہے، یہ وہی گروپ ہے جس نے گزشتہ سال 2015-16کے بجٹ کو غلط قرار دیدیا، وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا بھی تمام تر معاملات کو جاننے کے باوجود معاملات کو سمجھ نہ سکی اور درست بجٹ کو بھی غلط قرار دیدیا گیا، اور اگر یہ بجٹ درست نہ تھا تو اس کی بھی تمام تر ذمہ داری صوبائی وزیر عائشہ غوث پاشا پر عائد ہوتی ہے لیکن علی اختر خالد گروپ نے معاملات کو اپنے قبضے میں لینے کےلئے سپلیمنٹری گرانٹ کو بجٹ کا حصہ پہلے ہی قرار دیا اور کہا گیا کہ یہ بجٹ کی منظوری کے وقت استعمال ہوتا ہے، جبکہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری گزشتہ کئی برسوں سے استعمال کرنے کے بعد منظوری لی جاتی رہی ہے۔

اس گروپ کے ممبران محمد علی عامر جو کہ ایڈیشنل سیکرٹری برائے وزیراعلی پنجاب ہیں، جنہوں نے ایڈیشنل سیکرٹری ترقیاتی و منصوبہ بندی اور محکمہ خزانہ کے چارج اپنے پاس لے رکھے ہیں، محمد علی عامر کے کلاس فیلو خالد جن کو بجٹ سمیت محکمہ خزانہ کے کئی ٹیکنیکل اور فنانس سے متعلقہ معلوما ت ہی نہیں ہیں ان کو خصوصی نوازشات کرتے ہوئے اور اس وقت کے سیکرٹری شوکت علی پر دباﺅ بڑھاتے ہوئے خالد کو ڈائریکٹربجٹ پنجاب تعینات کر وا لیا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسی گروپ کا ایک افسر جس کا نام اختر ہے جو کہ ٹریژرآفیسر لاہور رہا ہے، اس پر پہلے کئی معاملات میں اس پر الزامات لگتے رہے کہ وہ معاملات کو درست سمت میں نہیں چلا رہا، لیکن ان تمام تر معاملات کے باوجود سابق سیکرٹری خزانہ پنجاب یوسف خان ایک پراجیکٹ میں خیبرپختوانخواہ گئے جہاں محمد علی عامر نے اپنے گروپ کے تیسرے فرد کو یوسف خان کے ساتھ پراجیکٹ میں دس لاکھ روپے پر تعینات کرو الیا جو کہ روزانہ ڈائریکٹربجٹ خالد سے رابطے میں ہے اور وہ ہی خیبرپختوانخواہ بیٹھ کر معاملات کو ڈیل کر رہے ہیں، اور یہ تینوں افسران ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، جس کو فنڈز جاری کرنا ہوتے ہیں پہلے محمد علی عامر وزیراعلی سے منظوری کروالیتا ہے اور پھر خالد اپنے کلاس فیلو جو کہ ڈائریکٹر بجٹ محکمہ خزانہ ہے اس کو بھیجواتا ہے اس کے بعد اختر کو احکامات دئیے جاتے ہیں جن کے حکم پر خالد ڈائریکٹر بجٹ اس پر مزید اقدامات کرتے ہیں،واضح رہے کہ اختر یہ راشد محمود لنگڑیال اور احمد رضا سرور تینوں کلاس فیلو ہیں، اور راشد محمود لنگڑیال محمد علی عامر کا دوست ہے، یہ سب معاملات ایک دوسرے سے ملکر چلائے جا رہے ہیں۔

ڈائریکٹر خالد سے سے متعدد بار مختلف ایشوز پر بات کی گئی تو وہ کسی کا تسلی بخش جواب ہی نہ دے سکے، وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے اور وہ کوئی بھی ٹیکنیکل سوالات کے جوابات نہ دے سکے جبکہ دیگر افسران پر ملبہ ڈالتے رہے۔ اسی گروپ نے ایک افسر منیب احمد ہے اسے ڈپٹی سیکرٹری لوکل فنڈز اینڈ ٹریژریز کا چارج بھی دے رکھا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق سیکرٹری خزانہ شوکت علی نے ایک میٹنگ میں اس وقت آگاہ کیا کہ معاملات کو کنٹرول کرنا اور کس کو کہاں تعینات کرنا ہے ، اس معاملے کےلئے محمد علی عامر کا پریشر ضرورہوتا ہے، لیکن اب یہ ضروری نہیں کہ ہم کوئی سفارش دے سکیں، جبکہ محکمہ خزانہ میں افسران کے تبادلے سمیت تحصیل سطح کے تبادلے تک محمد علی عامر کی جانب سے یہ زور دیا جاتا ہے، جبکہ محمد علی عامر کی مرضی کے مطابق کام نہ ہو تو محمد علی عامر جو کہ انتہائی جونیئر افسر ہے یہ وزیراعلی کو میٹنگ کے دوران اور بعض میں افسران کے خلاف بھڑکتا ہے، جس کی وجہ سے مجبورا یہ کام کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے سابق سیکرٹری خزانہ شوکت علی نے ایک سوا ل کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ وزیراعلی سیکرٹریٹ سے پریشر آتا ہے، لیکن میری کوشش ہوتی ہے میں معاملات کو میرٹ پر کر سکوں، یہاں سب گروپنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری وزیراعلی محمد علی عامر نے بتایا کہ میں کیا کرتاہوں، کسی کو بتانے کا ذمہ دارنہیں ہوں، میرے پاس وقت نہیں کہ ہرکسی کو سوالات کے جوابات دے سکوں، میں جو بھی کرتا ہوں ٹھیک کرتا ہے۔ جبکہ ڈائریکٹر بجٹ خالد نے بتایا کہ ہمارے سب دوست ہیں، اور معاملات چلتے رہتے ہیں، بجٹ کے معاملات کو میں اچھے انداز سے سمجھتا ہوں۔

ترجمان پنجاب حکومت زعیم حسین قادری نے بتایا کہ خزانہ کے معاملات بہتر انداز میں چل رہے ہیں، اور سب معاملات وزیراعلی اور صوبائی وزیر خزانہ خود دیکھتی ہیں، حکومت میرٹ اور شفافیت کو ترجیح دیتی ہے، جبکہ ہمارے علم میں ایسا کوئی گروپ نہیں ہے۔