کون سے چار لوگوں کے ذریعے خبر ڈان تک پہنچی، جاوید چوہدری کا بڑا انکشاف

کون سے چار لوگوں کے ذریعے خبر ڈان تک پہنچی، جاوید چوہدری کا بڑا انکشاف

اسلام آباد (تہلکہ ٹی وی مانیٹڑنگ ڈیسک)  سینئر کالم نگار واینکرپرسن جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ ڈان نیوز کی جو خبر بھارتی میڈیا میں بریکنگ نیوز اور لیڈ سٹوری بن گئی‘ بھارت نے واویلا شروع کر دیا‘ اس واویلے نے پاکستانی حکومت اور پاک فوج دونوں کو پریشان کر دیا اور سول ملٹری دراڑ بڑھ گئی‘ فوجی حکام نے حکومت سے پوچھا‘ انتہائی حساس معلومات باہر کیسے آئیں اور یہ سرل تک کیسے پہنچیں؟ حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں تھا‘ چار لوگوں پر شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ پہلے صاحب وفاقی وزیر ہیں‘ خیال ہے ان کے منہ سے بات نکلی اور چلتی چلتی سرل المیڈا تک پہنچ گی‘ دوسرے صاحب وزیراعظم کے پریس سیکرٹری محی الدین وانی ہیں‘ یہ میڈیا کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں‘ یہ ماضی میں بھی ایسی خبریں اور تصاویر میڈیا کو جاری کرتے رہے جن کی وجہ سے سول ملٹری ریلیشن شپ خراب ہوئی لیکن وانی کا کہنا ہے‘ میں اس میٹنگ میں موجود ہی نہیں تھا‘ میں زندگی میں کبھی سرل المیڈا سے ملا اور نہ ہی میرا کوئی ٹویٹر اکاﺅنٹ ہے‘ تیسرے صاحب سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری ہیں‘ یہ خبر ان کے زاویہ نظر کو زیادہ فوکس کر رہی ہے چنانچہ یہ بھی شک کے دائرے میں ہیں لیکن اعزاز چودھری منجھے ہوئے سفارت کار ہیں‘ یہ انجانے میں ”لیک“ نہیں کر سکتے اور شک کی زد میں آنے والے چوتھے صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر ہیں‘ یہ سابق صحافی اور اینکر پرسن ہیں اور یہ آج کل پنجاب میں ن لیگ کےلئے ٹیلی ویژن بنانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ پالیسی شفٹ کی بھنک ان کے کان میں پڑ گئی اور یہ خبر ان سے سرل المیڈا تک پہنچ گی‘ شک کے دائرے میں ایک اور شخصیت بھی ہے لیکن ابھی تک اس شخصیت کا نام سامنے نہیں آیا‘ سرل کو اطلاع کس نے دی اور یہ خبر صرف انگریزی اخبار اور ڈان تک کیوں پہنچی؟ اس پر بھی تحقیقات جاری ہیں اور ٹویٹر اکاﺅنٹس‘ واٹس ایپ اور سکائپ کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے اور ان لوگوں کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے جو ماضی میں سرل المیڈا سے ملتے رہے ہیں‘ فوج اس خبر پر خاصی ناراض ہے‘۔

جاوید چوہدری کے مطابق فوجی حکام نے آئندہ اعلیٰ سطحی میٹنگز میں بھی محتاط رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ یہ تحقیقات اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ ماننا ہوگا‘ یہ خبر پاکستان کی ان چند نیوز سٹوریز میں شامل ہے جنہوں نے سسٹم کو ہلا کر رکھ دیا‘ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی خبر پر سول اور ملٹری لیڈر شپ اکٹھی ہوئی اور حکومت نے ایف آئی آر اور شکایت کے بغیر کسی صحافی کا نام ای سی ایل میں ڈالا‘ سرل اس وقت ای سی ایل پر ہیں‘ فوج ناراض ہے‘ حکومت پریشان ہے اور پوری صحافتی برادری سرل المیڈا کے ساتھ کھڑی ہے‘ حکومت کے فوج سے تعلقات پہلے ہی خراب ہیں اور اگر نزلہ سرل المیڈا پر گرا تو حکومت میڈیا جنگ بھی شروع ہو جائے گی یوں حکومت کو فوج اور میڈیا دونوں کی مخالفت برداشت کرنا پڑے گی اور ہماری تاریخ بتاتی ہے‘ یہ دونوں طاقتیں جب بھی کسی حکومت کے خلاف اکٹھی ہوئیں وہ حکومت 12 اکتوبر کا شکار ہو گئی لہٰذا مجھے خطرہ ہے سرل المیڈا کہیں اونٹ کےلئے آخری تنکا نہ بن جائیں‘ یہ کہیں وہ نہ کر دیں جو آج تک عمران خان نہیں کر سکا۔