عمران خان سے وہ سوالات جو پہلے کسی نے نہیں کیے

عمران خان سے وہ سوالات جو پہلے کسی نے نہیں کیے

لاہور (محمد اکرم چوہدری) 30اکتوبر کو کیا ہونے جا رہا ہے اور اس کے بعد کیا کیا ہوگا؟ کون کون عمران خان کے ساتھ ہوگا؟ اور کون کون مخالفت میں کھڑا ہوگا؟ کیا واقعی حکومت مفلوج ہوجائے گی؟ کیا عوام عمران خان کے ساتھ ہوں گے یا وہی کارکن ہمراہ ہوں گے جو ملک بھر سے لائے جاتے ہیں ؟ کیا پانامہ لیکس کے حوالے سے حکومت گھٹنے ٹیک دے گی یا تحریک انصاف کو مزید ٹف ٹائم ملنے کی توقع ہے؟ بنی گالا میں عمران خان کے سامنے یہ سوال رکھے جس پر سیر حاصل تبادلہ خیال ہوا جو قارئین کیلئے پیش کیا جارہا ہے۔

ملاقات کا ایجنڈا موجودہ حالات پر محض ’’گپ شپ ‘‘ ہی تھا لیکن عمران خان کی پاکستان کے لیے فکر انگیزی کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ پورے پاکستان کا درد اپنے اندر سمو چکے ہیں اور کئی دہائیوں سے براجمان کرپٹ حکمرانوں کے خلاف انہوں نے ’’بغاوت‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔میں اس عمران خان کو بھی جانتا ہوں جو سنگل سیٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھا ہوتا تھا ۔۔۔میں کرکٹر عمران خان کو بھی جانتا ہوں، آج جو عمران خان زندہ ہے وہ عمران خان کرکٹر نہیں بلکہ سرمایہ داروں، سیاسی حلقوں سے دھتکارے ہوئے سیاستدانوں اور چلے ہوئے کارتوسوں کے گرد گھرا ہوا ہے۔میں نے موجودہ حکومت کے حوالے سے تھوڑی سی ہمدردی وصول کرنا چاہی لیکن مجھے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر میں نے ’سولوفلائٹ ‘ کے حوالے سے گذارش کی تو عمران خان نے کہا کہ قوم اس نظام سے تنگ آ گئی ہے پارلیمنٹ میں کرپشن مافیا بیٹھا ہوا ہے، یہ لوگ آپس میں نورا کشتی کر کے پانامہ کے معاملے کو 2018 تک لے جانا چاہتے تھے اس لئے سولو فلائٹ لی۔۔۔ ہم 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک پانامہ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 30 اکتوبر کو اتنے لوگ آئیں گے کہ اسلام آباد بھر جائے گا اور اسلام آباد بند ہو جائے گا پاکستانی قوم ، مہنگائی ، بے روزگاری ، غربت ان کی مکاری اور چالاکی سے تنگ آ چکی ہے اسلام آباد میں رائیونڈ سے چار گنا زیادہ لوگ آئیں گے حکومت برداشت نہیں کر پائے گی۔۔۔ عمران خان کے ہمراہ نعیم الحق اور علی زیدی بھی موجود تھے ۔۔۔ ماحول روایتی گپ شپ سے آگے نکل رہا تھا اس لیے نعیم الحق نے بھی درمیان میں ایک دو بار لقمے دیے اور احتجاج کے حوالے سے بریف بھی کیا۔۔۔ مگر میری کوشش تھی کہ صحافیانہ ’’قابلیت ‘‘ کو استعمال کرکے عمران خان سے اندر کی کوئی بات نکلوائی جائے۔۔۔ مگر مجھے لگا کہ وہ آج کل کے حالات میڈیا سے خاصے محتاط ہو چکے ہیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم سے جواب مانگ رہے ہیں یہ قوم کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں اور جواب نہیں دے رہے میں نے لوگوں کو موبلائز کرنا شروع کر دیا ہے یہ روک نہیں سکیں گے ۔۔۔ اعتزاز احسن اور قمرزمان کائرہ پانامہ پر جواب لینے کی پوری کوشش کر رہے تھے ان کی کوشش ہے کہ پانامہ پیپرز پر نواز شریف کو نہ نکلنے دیا جائے لیکن زرداری کو اپنی فکر ہے ان کا اپنا پیسہ باہر پڑا ہے انہیں پتہ ہے کہ نواز شریف کے بعد ان کی باری ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کرپشن کا مافیا بیٹھا ہوا ہے یہ آپس میں نوراکشتی کر رہے ہیں مجھے پتہ تھا کہ یہ لوگ معاملے کو 2018 تک لے جا رہے ہیں اس لئے سولو فلائٹ لی ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں فوج واحد ادارہ ہے جسے نواز شریف تباہ نہیں کر سکا باقی تمام ادارے نواز شریف نے تباہ کر دیئے ہیں اگر بلوچستان میں فوج نہ ہو تو بلوچستان جا سکتا ہے کراچی میں رینجرز نہ ہو تو آگ لگ جائے گی نواز شریف راحیل شریف کے دباؤمیں کشمیر پر بات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں طے ہوا تھا کہ کوئی اچھا اور برا طالبان نہیں ہے سب کے خلاف یکساں کارروائی ہونی ہے اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہے لیکن پنجاب میں ایکشن نہیں لیا گیا انہوں نے کہا کہ حکمران پنجاب میں پولیس کو ٹھیک کریں یا پھر یہاں بھی فوج کو آنے دیں۔ میری کوشش تھی کہ عمران خان کو ’’ڈی ٹریک ‘‘ کروں لیکن ان کی سوئی ’پانامہ ‘ لیکس پر اٹکی ہوئی تھی، وہ کہتے ہیں کہ پاناما لیکس سے میں حیران نہیں بلکہ خوش ہوا ہوں، کتنے شرم کی بات ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے حکمران عوام کا پیسہ بیرون ملک جمع کرتے ہیں جب کہ وہاں کی عوام کو بنیادی سہولیات بھی مسیر نہیں ہوتیں۔

پاناما لیکس نواز شریف کی سیاست کی تباہی کا آغاز ہے، وزیراعظم اب مصیبت میں ہیں اور میرے خیال میں ان سے اب پاکستان چلانا ممکن نہیں رہا، میڈیا اور عوام حکمرانوں کی کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے یکجا ہیں، آمر اور بادشاہ طاقت کے بل بوتے پر حکومت کرتے ہیں لیکن جمہوری لوگ اخلاقیات کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں اور جب اخلاقی اقدار کھو دیں تو وہ یہ لوگ حکومت نہیں کر سکتے۔۔۔ آف شور کمپنیاں بنانے کا مقصد چوروں کو تحفظ دینا ہے، پاکستان میں ٹیکس چوری نہیں بلکہ حکمران طبقہ عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالتا ہے، کرپٹ حکمرانوں کا اتحاد ایک دوسرے کو بچانے کے لئے ہے حالانکہ یہ لوگ ایک دوسرے کی مخالف سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں۔ اگر ہمارے حالات کے تناظر میں اس مسئلے پر نظر ڈالیں تو ہم ڈوب رہے ہیں۔ ہماری 50 فیصد آبادی کے پاس کھانے کو خوراک نہیں ہے اور حکمران طبقہ نہ صرف پیسہ چوری کر کے بیرون ملک اکاؤٹس میں جمع کرا رہا ہے بلکہ ٹیکس چوری بھی کر رہا ہے تو ایسے میں ان لوگوں کے پاس حکومت کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

کشمیر کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ میرا یہ ماننا ہے کہ کشمیری دلیری سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں، پاکستانی قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے ، مقبوضہ کشمیرکے عوام کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، بھارت کشمیرمیں جتنافوج کااستعمال کریگا،اتنی نفرت بڑھے گی،کشمیری عوام بھارت کی فوج کامقابلہ کررہی ہے،دعا ہے کہ اللہ کشمیریوں پر ظلم کا دور ختم کرے، کوئی بھی اختلاف ہو ہم ملک کے لیے اکٹھے ہیں ۔۔۔ سیاسی جماعتوں میں کرپشن سے نفرت نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہی نمایاں ہے کہ کوئی بھی یہاں گنگا نہا ہوا نہیں۔قومی منظر نامہ میں چھائے ہوئے بیشتر رہنماوں کے دامن کرپشن کے الزمات کے سبب داغ دار ہیں۔ درست کہ ملکی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں دی جاسکتی جب مبینہ طور پر خردبرد کے الزمات پانے والی کوئی بھی شخصیت عبرتناک سزا کی مسحق قرار پائی۔ دراصل رائج نظام عدل ایسی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہا ہے جو اس کے فرائض منصبی کا بنیادی تقاضا ہے۔ باشعور پاکستانیوں میں اس پر بڑی حد تک اتفاق رائے ہے کہ ملکی قانون صرف کمزور کو سزا دینے کے لیے متحرک ہے۔ طاقتور کے سامنے موم کی ناک بن جانے والا جوڈشیل سسٹم اپنا بھرم کسی طور پر بھی قائم نہیں رکھ سکا۔ یقیناًعمران خان نے مشکل محازکا انتخاب کیا ہے۔ آج پاکستان ہی نہیں تیسری دنیا کا ہر ملک بدعنوانی میں لت پت ہے۔ بھارت ،بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان جنوبی ایشیاء کی ایسی تاریک مثالیں ہیں جہاں سیاسی اشرافیہ پر لوٹ کھوسٹ کے الزمات کسی طور پر حیران کن نہیں رہے۔عملاََ ترقی پذیر ملکوں کی عوام میں بدعنوانی سے شدید نفرت کا رجحان بھی قابل رشک نہیں چنانچہ اہل اقتدار کی ماردھاڈ سے متاثر ہوکر تیسری دنیا کے بیشتر سرکاری وغیر سرکاری ادارے بدعنوانی میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔جمہوریت بارے یہ دعوے سوفیصد درست ہے کہ یہ ترقی پذیر نہیں ترقی یافتہ ملکوں کا نظام ہے۔ مغربی ملکوں میں شرح خواندگی کا معیاربلند ہونے کا ہی نتیجہ ہے کہ عوام اپنے حقوق وفرائض سے بڑی حد تک آگاہ ہیں۔ ان معاشروں میں ایسے کرپٹ عناصر کی ہرگز کوئی جگہ نہیں جو سیاست کو ذاتی اور گروہی مفادات کی تکمیل کے لیے سیڑھی بناتے ہیں۔ اہل اقتدار کے خاندانی کاروبار کی دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ حکومتی اختیارات کے حامل ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ عوام نہیں لیڈر ہوتے ہیں جو ملکوں کا مسقبل روشن کرکے اخلاص اور بصیرت دونوں کا ثبوت دے ڈالتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بدعنوانی سے پاک پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہیں چنانچہ یہ معجزہ ہوجانا یقیناًناممکن نہیں اگر خیبر تا کراچی پاکستانیوں کی اکثریت کرپشن کے ناسور کے بدترین اثرات سے پوری طرح آگاہ ہوجائے۔ہم نے کچھ تجاویز بھی عمران خان کے سامنے رکھیں انہوں نے تجاویز کو سراہا۔ ہم نے عمران خان سے عرض کیا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی سیاسی تربیت کیلئے سٹڈی سرکل ونگ تشکیل دیجئے۔ پڑھے لکھے باشعور کارکنوں کو ہر شہر میں تحریک انصاف سٹڈی سرکل کا انچارج بنائیے جو سیاسی تربیت کے کام کا آغاز کرکے سیاسی کلچر میں مثبت تبدیلی لائیں