لاہورمیں خناق کی وبا، 139 بچے شکار، 12 جاں بحق، کیسے چھٹکارا ممکن؟ خصوصی رپورٹ

لاہورمیں خناق کی وبا، 139 بچے شکار، 12 جاں بحق، کیسے چھٹکارا ممکن؟ خصوصی رپورٹ

لاہور (رضی طاہر) خناق کا مرض کیسے پھیلتا ہے ؟ حفاظتی تدابیر کیا ہیں؟ لاہور میں بچوں میں بڑھتے ہوئے خناق کا مرض تشویش ناک، گزشتہ روز مزید 16 بچے خناق کا شکار ہوئے، جس کے بعد مجموعی تعداد 139 ہوگئی ہے۔ 12  بچوں کی موت کی تصدیق، تہلکہ ٹی وی تفصیلات سامنے لے آیا۔

خناق کے مرض میں گزشتہ چند ہفتوں سے اضافہ ہورہا ہے ۔ مختلف ہسپتالوں میں خناق کے شکار16 بچوں کو علاج کیلئے داخل کیا گیا ہے۔ خناق کے مرض کا شکار ہونے والے بچوں کی مجموعی تعداد139 ہوچکی ہے اور اب تک 12اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر منیر احمد کا کہنا ہے کہ خناق کے مرض میں مبتلا بچوں کے علاج کیلئے اینٹی دفتھیریا سیرم کا وافر سٹاک موجود ہے تاہم اس کے باوجود اینٹی دفتھیریا سیرم کی اڑھائی ہزار مزید وائلز خریدنے کا آرڈر دیدیا ہے اور نیا سٹاک بھی نومبر میں دستیاب ہوجائے گا۔

خناق کیا ہے ؟

خناق ایک تکلیف دہ اور خطرناک مرض ہے۔ یہ ایک چھوت کی بیماری ہے۔ خناق( diphtheria ) کا شکار چھوٹے بچے بڑی آسانی سے ہو جاتے ہیں۔ یہ دراصل آواز کی بخش اور سانس کی نالی میں پیدا ہونے والے خطرناک انفیکشن کا نام ہے سرد موسم اور گندگی مےں Corynebacterium diptheria جراثیم اےک خاص قسم کا زہر پیدا کرتا ہے جسے exotoxinکہتے ہیں۔ یہ ایگزوٹاکسن گلے مےں حملہ آور ہو کر انفےکش پےدا کرتا ہے اور اس کے بعد خون میں شامل ہو کر دل اور دماغ پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اس انفیکشن سے گلے میں سوزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور بہت قلیل مقدار میں ہوا اندر جاتی ہے۔

خناق ویکسین کی اہمیت کیا ہے ؟

چائلڈ سپیشلسٹ اور سابق ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود احمد نے اس حوالے سے بتایا ”خناق کی ویکسین بچوں کو بچپن میں ہی دینے سے اس کی بےماری پر کافی قابو پایا جا چکا ہے۔ اس کی ویکسین بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے کورس میں شامل ہوتی ہے خناق کی ویکسین کی خوراک 14ہفتوں کی عمر تک کے بچوں کو تین مرتبہ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد جب بچہ ڈیڑھ سال کا ہو جائے تو اس کو اس ویکسین کی بوسٹر خوراک دی جاتی ہے جو کہ بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔

خناق کن بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے ؟

خناق کا جراثیم ان بچوں پر حملہ آور ہوتا ہے جنہوں نے حفاظتی ٹیکوں کا کورس نہ کیا ہو یا پھر وہ بچے جن میں قوت مدافعت کم ہو اور ان بچوں میں خناق کا جراثیم گلے میں حملہ آور ہو کر انفیکشن کرتا ہے۔

خناق کی علامات کیا ہیں ؟

اس مرض کی علامات دو سے سات دنوں کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، گلا خراب، سانس لینے میں دشواری اور کھانسی ہوتی ہے۔ اگر خناق کا مرض پیچیدگی اختیار کر لے تو اس کے جراثیم دل اور اعصاب پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔

احتیاط علاج سے بہتر ہے  !!

سردیوں میں چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ کریں۔ ان کو صاف ستھرے ماحول کے ساتھ ٹھنڈ سے بھی بچا کر رکھیں اور اگر بچے کو بخار اور گلا خراب کے ساتھ سانس میں دشواری ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بر وقت علاج سے اس بیماری کے جراثیم کے مضر اثرات سے بچوں کو بچایا جا سکے۔