مصلحِ قوم سرسید احمد خان کا 199واں یوم پیدائش

مصلحِ قوم سرسید احمد خان کا 199واں یوم پیدائش

لاہور (انعم جاوید) سرسیداحمدخان سترہ اکتوبر اٹھارہ سو سترہ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کےآباؤ اجدادشاہ جہاں کے عہد میں ہرات سے ہندوستان آئے تھے۔ سر سید احمد خان نےابتدائی تعلیم اپنے نانا خواجہ فرید الدین احمد خان سے حاصل كی۔

اٹھارہ سو سینتیس میں آگرہ میں كمشنر كے دفتر میں بطور نائب منشی فرائض سنبھالے اورمحنت اور ایمانداری سے ترقی كرتے ہوئے اٹھارہ سو چھیالیس میں دہلی میں صدر امین مقرر ہوئے۔ دہلی میں قیام كے دوران اٹھارہ سو سینتالیس میں انہوں نے اپنی مشہور كتاب ٫٫ آثار الصنادید٬٬ لكھی۔، جنگ آزادی كے دوران وہ بجنور میں قیام پذیر تھے۔اس كٹھن وقت میں سرسید نے بہت سےانگریز مردوں، عورتوں اوربچوں كی جانیں بچائیں۔

جنگ آزادی كے بعد ان کی خدمات كے عوض انہیں انعام دینے كیلئے ایک جاگیركی پیشكش بھی ہوئی جسے انہوں نے قبول كرنے سے انكار كر دیا۔ اٹھارہ سوستترمیں انہیں امپریل كونسل كاركن نامزد كیا گیا۔ اٹھارہ سواٹھاسی میں آپ كو سر كا خطاب دیا گیا اوراٹھارہ سونواسی میں انگلستان كی یونیورسٹی اڈنبرا نے سرسید احمد خان کوایل ایل ڈی كی اعزازی ڈگری دی۔اٹھارہ سو باسٹھ میں غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔ علی گڑھ گئے تو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نکالا۔ انگلستان سے واپسی پررسالہ تہذیب الاخلاق جاری کیا جس کے مضامین میں سرسید نے مسلمانان ہند کے خیالات میں انقلاب عظیم پیدا کردیا اورادب میں علی گڑھ تحریک کی بنیاد ڈالی۔ سرسید احمد خان کا کارنامہ علی گڑھ کالج ہے۔ انہوںنے اکیاسی سال کی عمر میں اٹھارہ سو اٹھانوے میں وفات پائی ۔