فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ایندھن میں تبدیل کرنے کا آسان طریقہ

فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہ راست ایندھن میں تبدیل کرنے کا آسان طریقہ

ٹینیسی (ٹیکنالوجی )  امریکی ماہرین نے فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہِ راست ایندھن میں تبدیل کرنے کا ایک آسان طریقہ دریافت کرلیا ہے۔

’’کیمسٹری سلیکٹ‘‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، اس طریقے کے تحت صرف ایک عمل انگیز (کیٹالسٹ) استعمال کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ’’ایتھانول‘‘ (ethanol) نامی ایندھن میں کامیابی سے تبدیل کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ توانائی کی اوک رِج نیشنل لیبارٹری میں ڈاکٹر یانگ سونگ کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے یہ عمل انگیز تیار کیا ہے جو کاربن، کاپر (تانبے) کے نینومیٹر جسامت والے ذرات (کاپر نینو پارٹیکلز) اور نائٹروجن پر مشتمل ہے۔ تجربات کے دوران سب سے پہلے پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ حل کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ عمل انگیز اس محلول میں شامل کردیا گیا۔

اس کے بعد جب اس پورے آمیزے میں سے صرف 1.2 وولٹ پر بجلی گزاری گئی تو عمل انگیز نے بڑی خوبی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہِ راست ایتھانول میں تبدیل کردیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل انگیز کی کارکردگی 63 فیصد رہی؛ جو تجرباتی پیمانے کے اعتبار سے زبردست ہے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایتھانول یا دیگر اقسام کے ایندھنوں میں تبدیل کرنے کی کامیاب کوششیں کی جاچکی ہیں لیکن ان سب میں ایک سے زیادہ عمل انگیز درکار تھے جبکہ ان کی کارکردگی بھی کاربن، کاپر اور نائٹروجن پر مشتمل مذکورہ عمل انگیز کے مقابلے میں بہت کم تھی۔