چھوٹی عمر کے بڑے لوگ

چھوٹی عمر کے بڑے لوگ

تحریر : زوریا نواز

آپ نے عموماً ہوٹلوں،ورکشاپز اور فیکڑیوں میں 8 سے 15 سال تک کے کم سن بچوں کو کام کرتے دیکها هوگا. کبهی یۂ هوٹلوں اور ڈهابوں پر آنے والے لوگوں کو کهانا پیش کرتے نظر آئیں گے تو کهیں ورکشاپز پر گاڑیوں کے ٹائر تبدیل کرتے هوئے  اور کبهی فیکٹریوں اور ملوں میں پتهر توڑتے یا بهاری سامان اُٹهاتے هوے. یا سڑکوں کے کو نے میں بیٹھ کر جوتے پالش کرتے هوے.  آپ نے انهیں کئی بار لوکل بسوں میں کهانے پینے کی چیزیں بیچتے بهی دیکها هو گا اور ان سے خریداری بهی کی هو گی.

اِن ننهے پهولوں سے کهیلنے کودنے کی عمر میں کام کرنے کی وجہ دریافت کریں تو کچھ یوں وجوہات سامنے آتی ہیں کہ پیسے کی تنگی ہے یا بابا کے پاس روزگار نہیں، یہی نہیں بلکہ گهر گهر کام کرنے والی کم سن بچیوں کی تعداد بهی مسلسل بڑھ رهی ہے۔ جہاں پر وه ابنِ آدم کی میلی نگاہوں اور ناپاک ارادوں سے خود کو بچا نہیں پاتی جسکی وجہ سے انکو جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بعض والدین غربت کے ہاتهوں تنگ آ کر اپنے بچوں کو یا تو بیچ دیتے ہیں یا کسی امیر گهر میں تمام عمر ملازمت کے لیے چهوڑ آتے ہیں۔

گزشته روز کی بات هے میں کام سے فارغ هو کر گهر کی طرف لوٹ رہی تهی کہ راستے میں ایک تقریباً 8 سال کا لڑکا میری طرف لپکا۔  لڑکے نے هاتھ میں ناریل کی چهوٹی چهوٹی گِریوں سے بهری ٹوکری اٹهائی هوئی تهی وه مجهے 10 روپے میں ایک گری بیچ رها تها۔ اس نے کندهوں پے اسکول کا بسته لٹکایا هوا تها معلوم هوتا تها کے ابهی اسکول سے آیا هے۔ میں نے پوچها اچهے گهر کے دکهتے ہو یہ کام کیوں کر رہے ہو تو بولا بابا کے پاس کام نہیں۔ میں نے اسکول کے لیے نئی کتابیں لینی ہیں امی سلائی کرکے گهر کا خرچه چلاتی ہے۔ بچے کی باتیں سن کر میرا دل موم پڑگیا۔ میری گنجائش نے جتنی اجازت دی میں نے اسکی مدد کر دی لیکن کیا صرف میری ایک کی مدد کوئی تبدیلی لا سکتی ہے؟ حب تک اس مسئلے کو حکومتی سطح پر لا کر حل نہیں کیا جائے گا۔

بات کرنے کا مقصد دراصل یه پوچهنا تها کہ صاحب یہ ملک کس سمت کو جا رها ہے؟ ہماری حکومت جہاں اورنج لائنز کے منصوبے پر 170 ارب لگا چکی ہے وہاں ایسے بچوں کی تعلیم اور انکے گهر کی مالی حالت کے سدهار کے لیے اقدامات کیونکر نهی کرتی؟

کہا تو یہ جاتا ہے کہ ایک ملک کا مستقبل اس ملک کے بچوں کے ہاتهوں میں ہوتا هے لیکن جس ملک کا مستقبل قلم اور کاغذ سے محروم ہوکر سڑکوں پے مزدوری کرنے لگ جائے کیا ایسا ملک جہالت اور پسماندگی  کے گہرے اندهیروں سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی شمع روشن کر پائے گا ؟

دیکهیں گے !