پہلا ایسگارڈیا ’خلائی قوم‘ تشکیل دینے کا منصوبہ

پہلا ایسگارڈیا ’خلائی قوم‘ تشکیل دینے کا منصوبہ

پیرس ( ٹیکنالوجی) یہ ایک ایسا تصور ہے جو سائنس فکشن سے لیا گیا معلوم ہوتا ہے، مگر یہ جلد  ہی حقیقت میں بدل سکتا ہے۔  یہ تذکرہ ہے ’ اسپیس نیشن‘ یعنی ’ خلائی قوم ‘ کا۔ ’خلائی قوم‘ سے مراد ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت خلا میں ملکیت اور قومیت کا نیا فریم تشکیل دیا جائے گا۔ یہ تصور سائنس دانوں کے ایک بین الاقوامی گروپ نے پیش کیا ہے۔

چند روز قبل اس گروپ نے اعلان کیا ہے کہ ’خلائی قوم‘ کی بنیاد آئندہ  برس ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیج کر رکھی جائے گی۔ سائنس دانوں نے خلائی قوم کو Asgardia کا نام دیا ہے۔ ابتدائی طور پر ’قوم‘ کے افراد کی تعداد ایک لاکھ تک محدود رکھی جائے گی۔ اگر آپ بھی اس قوم کے فرد کہلانا چاہتے ہیں تو Asgardia کی ویب سائٹ پر جاکر سائن اپ ہوسکتے ہیں۔

اس عجیب وغریب منصوبے کے روح رواں ایرواسپیس انٹرنیشنل ریسرچ سینٹر کے بانی ڈاکٹر ایغور اشوربیلی ہیں جو معروف روسی سائنس داں اور کاروباری شخصیت ہیں۔ گذشتہ دنوں پیرس میں کانفرنس کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ ’خلائی قوم‘ کی تشکیل کے ابتدائی  مرحلے میں بنی نوع انسان کی حفاظت کے لیے جدید ڈھال تخلیق کی  جائے گی۔

یہ ڈھال کرۂ ارض پر حیات کو خلا سے ’ نازل‘ ہونے والے قدرتی اور انسانی خطرات سے  بچائے گی۔ ان خطرات میں ناکارہ مصنوعی سیاروں، خلائی راکٹوں کے ٹکڑوں وغیرہ پر مشتمل خلائی کچرا، شمسی طوفان، اور زمین سے سیارچوں کے ٹکرانے کے خطرات شامل ہیں۔

خلا میں انسانی ساختہ  بیس ہزار سے زائد ناکارہ مصنوعی سیارے، پرانے خلائی جہاز، راکٹ اور اسپیس وہیکلز شامل ہیں۔ خلائے بسیط میں گھومتے اجرام فلکی بھی سطح ارض پر پائی جانے والی حیات کے لیے کسی بھی لمحے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2013ء میں ایک روسی قصبے میں گرنے والے جسیم حجر شہابی نے تباہی مچادی تھی۔ اس واقعے میں گیارہ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے اور چار ہزار کے لگ بھگ مکانات اور عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔