پانامہ لیکس کیس سماعت، کمرہ عدالت کے اندر کون کون سے وزراء موجود؟ اٹارنی جنرل اور نیب حکام کیا کرتے رہے؟

پانامہ لیکس کیس سماعت، کمرہ عدالت کے اندر کون کون سے وزراء موجود؟ اٹارنی جنرل اور نیب حکام کیا کرتے رہے؟

اسلام آباد (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) پانامہ لیکس کی سماعت کے فوری بعداٹارنی جنرل اور نیب حکام کا سپریم کورٹ کی عمارت میں ہی اکٹھ ، شریف خاندان کو بچانے کیلئے تبادلہ خیال، تحقیقاتی صحافی اسد کھرل کی  درخواست حکومت اور نیب کیلئے درد سربن گئی۔  دوران سماعت کون کون سے وزراء کمرہ عدالت میں موجود، تہلکہ ٹی وی تفصیلات سامنے لے آیا۔

ذرائع کے مطابق پانامہ لیکس کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کی جانب سے سماعت ختم ہوتے ہی ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب اعظم خان اور پروسیکیوٹر جنرل نیب وقاص قدیر ڈار، چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری اور دیگر متعلقہ حکام اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف کے پاس پہنچ گئے۔

یہ بھی پڑھیئے : پانامہ لیکس : اسد کھرل کی درخواست پر اٹارنی جنرل اور چیئرمین نیب کو نوٹسز جاری

حیران کن امر یہ ہے کہ نیب تفتیشی ادارہ ہے جس نے وزیراعظم اور ان کی فیملی کے خلاف تحقیقات کرنی ہیں، جبکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان نیب یا سپریم کورٹ کی معاونت کرنے کے بجائے ملزم پارٹی کو بچانے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ اٹارنی جنرل اور نیب حکام کی اس میٹنگ میں شریف خاندان کو پانامہ لیکس تحقیقات میں کلین چٹ دینے اور سماعت کے دوران کیس کو زیادہ سے زیادہ لمبا کھینچنے کیلئے تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی حکمت عملی تیار کی گئی ۔نیب حکام کی جانب سے حکومت و اٹارنی جنرل کو اس بات کی پیشکش کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ میں وہی جواب داخل کروائیں گے جس کے بارے میں وزیراعظم اور اٹارنی جنرل گرین سگنل دیں گے۔

یہ بھی پڑھیئے : پانامہ لیکس تحقیقات، لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم

واضح رہے کہ پانامہ لیکس کی سپریم کورٹ میں سماعت کی وجہ سے حکومت بے حد پریشان دکھائی دے رہی ہے جس کی واضح مثال آج وفاقی کیبنٹ کے اکثریتی وزراء اور وزیراعظم ہاؤس و شریف خاندان کے ترجمان کا کردار ادا کرنیوالے ارکان قومی اسمبلی کی بڑی تعداد سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود رہی اور حکومتی وزرا ء کے چہروں سے ان کی پریشانی صاف عیاں دکھائی دے رہی تھی ۔ کمرہ عدالت میں وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق، وفاقی وزیر پانی و بجلی و دفاع خواجہ آصف ، وزیر نجکاری محمد زبیر ، وزیر مملکت برائے کیپیٹل ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، ارکان قومی اسمبلی دانیا ل عزیز، طلال چوہدری ودیگر حکومتی ٹیم کے ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیئے : پانامہ لیکس کے بعد تہلکہ ٹی وی لیکس وزیراعظم اور نیب کیلئے درد سربن گئیں

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزیراعظم آف پاکستان نوازشریف کا پانامہ لیکس سے کوئی تعلق نہیں ہے تو حکومتی وزراء کی فوج کمرہ عدالت میں کیوں موجود تھی ؟ کیا حکومتی وزراء اور مشینری نواز خاندان کیلئے کام کررہی ہے؟