فیصل آباد میں جرائم پیشہ عناصر کا راج، 10ماہ کی رپورٹ سامنے آگئی

فیصل آباد میں جرائم پیشہ عناصر کا راج، 10ماہ کی رپورٹ سامنے آگئی

فیصل آباد (گلزیب ملک) فیصل آباد میں اس وقت امن و امان کی صورت حال تشویشنا ک حد تک خرا ب ہو چکی ہے ،روزانہ کی بنیاد پر ضلع بھر میں سر گرم جرائم پیشہ عناصر کی طرف سے کی جا نے والی کارروائیوں کے باعث شہری خوف وہرا س میں مبتلا ہو چکے ہیں ،ضلع بھر میں سرگرم جرائم پیشہ عناصر اس حد تک دلیر ہو چکے ہیں کہ وہ دن دیہاڑے معروف شاہراؤں پر لوٹ مار کر نے سے نہیں کتراتے ہیں ، رواں سال کے دوران شہری ڈاکووں کے ہاتھوں تقریبا بیس کروڑ سے زائد کا نقصان برداشت کر چکے ہیں ،اور ان وارداتوں کے دوران جرائم پیشہ عناصر نے 13 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے ،جبکہ 88 شہری زخمی ہو ئے ہیں۔

ڈکیتی کی ایک سنگین واردات کا واقعہ ڈجکوٹ روڈ پر پیش آ یا ، تھا نہ فیکٹری ایر یا کے علاقہ ڈجکوٹ روڈ ناولٹی پل کے نواح میں واقع یو ناٹیڈ بنک لمٹیڈ کا عملہ حسب معمول اپنے کا م میں مصروف تھا کہ اسی دوران آ نے والے کار سواروں ڈا کووں کے چار رکنی گروہ نے بنک کے با ہر سیکورٹی گارڈ ڈھڈیوالہ کے رہائشی عا مر کو یر غمال بناتے ہو ئے اسلحہ کے بٹ ما ر کر زخمی کر کے اسکی کنپٹی پر اسلحہ رکھ کر بنک کے اندر لے گئے ، جہاں دوسرے سیکورٹی گارڈ ز کو یر غمال بنائے جا نے والے سیکورٹی گارڈ کو قتل کر نے کی دھمکی دیتے ہوئے ان سے بھی اسلحہ چھین کر انکے سروں میں اسلحہ کے بٹ ما ر کر زخمی کر دیا ، بعد ازاں بنک کے تمام عملہ کو یر غما ل بناتے ہوئے کیس کاؤنٹر سے سات لاکھ سے زائد کی نقدی سمیٹ لی ، جبکہ اسی دوران ڈاکووں کے گروہ نے سٹرا نگ روم میں داخل ہو کر سٹرا نگ روم سے بھی نقدی لوٹنا چاہی ، لیکن سٹرا نگ روم کا دروازہ نہ کھلنے کے باعث ڈاکووں کا گروہ مزید لوٹ ما ر نہ کر سکا ، اسی دوران بنک منیجر نے ہنگا می سائرن بجا دیا جسکے بجتے ہوئے ڈاکووں کا گروہ بنک سے راہ فرا ر اختیار کرتے ہوئے بینک کا شٹر گرا گئے ،موقعہ پر آ نے وا لی ریسکیو ٹیم نے مضروب سیکورٹی گارڈز کو طبی امداد دی ، جبکہ بینک ڈکیتی کی واردات کی اطلاع ملتے ہی شہریوں کی بڑی تعدا د جائے وقوعہ پر اکٹھی ہو گئی ،جبکہ شہریوں کی طرف سے اس موقعہ پر بینک ڈکیتی کے متعلق پولیس کو متعدد ہنگا می کالیں بھی کی گئی ، لیکن فیکٹری ایریا پولیس حسب روایت آ دھ گھنٹہ بعد جا ئے وقوعہ پر پہنچی اور روایتی کارروائی کا آ غاز شروع کر دیا ،ڈا کووں کا نشا نہ بننے والے بینک کا سی سی ٹی وی سسٹم خرا ب نکلا ، بینک کا سی سی ٹی وی سسٹم خراب نکلنے پر سی پی او سمیت دیگر سنیئر افسران بینک انتظا میہ پر برہم نظر آ ئے ، جبکہ اس موقعہ پر پولیس افسران کی طرف سے بینک کو سیل کر نے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

رواں سال کے دوران ڈاکووں کے گروہ نے تین نجی بینکوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے ،ڈجکوٹ روڈ پر ڈاکووں کا نشا نہ بننے والا بینک اس سے پہلے بھی لٹ چکا ہے ، 2013 میں اسی بینک میں ہو نے والی ڈکیتی کی سنگین واردات کے دوران ڈاکووں کا گروہ اس وقت بھی دو شہریوں کو زخمی کر کے فرار ہو گیا ، جبکہ پولیس نے واقعہ کا سراغ لگا نے میں روایتی انداز اختیار کرتے ہوئے بینک ڈکیتی کا لا پتہ واقعات کا حصہ بنا دیا تھا ، گذشتہ روز جا ئے وقوعہ پر اکٹھے ہو نے والے شہری پولیس کی نا اہلی پر ان پر طنزیہ فقرے کستے رہے ہیں ، جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہو نے کے باعث پولیس ملازمین کڑھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے ،ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور فیکٹری ایر یا پولیس آ دھ گھنٹہ بعد اکٹھے ہی جا ئے وقوعہ پر پہنچے ،جبکہ اس موقعہ پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن ایس ایچ او فیکٹر ی ایریا اور ماتحت ملازمین پر بر ستے نظر آ ئے ، بینک ڈکیتی کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈا کٹر فرخ رضا اعوان نے جا ئے وقوعہ پر بر وقت نہ پہنچنے والے ایس ایچ او کو معطل کر نے کا عندیہ بھی دیا ، بعد ازاں موصوف آ فسیر بینک عملہ اور مضروب سیکورٹی گارڈز سے تفصیلات اکٹھی کرتے رہے ہیں ، فیکٹڑی ایریا پولیس نے بینک منیجر عدیل احمد کی مدعیت میں بینک سے لو ٹی جا نے والی رقم 6 لاکھ 18 ہزار 346 روپے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کی رو ز بروز بڑھتی ہو ئی کا رروائیوں نے چمنیوں کے شہر میں بسنے والے صنعت کاروں، تا جروں ، محنت کشوں سمیت ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو پریشان کر کے رکھا ہوا ہے ،جبکہ جرائم پیشہ عناصر کی عدم گرفتاری کے خلاف شہریوں کی طرف سے احتجاج کر نے کا سلسلہ معمول بن چکا ہے ، سی پی او سمیت دیگر سنیئر پولیس افسران کو شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں ایسی حکمت عملی تشکیل دینا ہو گی ، جس سے وہ جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کرتے ہو ئے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا سکیں ، کچھ عرصہ قبل ڈکیتی ، رہزنی ، را بری، چوری کی وارداتوں پر کنٹرول کر نے کے سلسلہ میں ٹا ئیگر سکواڈ کا قیام عمل میں لا یا گیا تھا ، لیکن یہ ٹا ئیگر سکواڈ بھی اپنی افادیت ثا بت کر نے میں ناکام رہا ہے ، اور اس سکواڈ سے وابستہ ملازمین بھی چیکنگ کے نام پر شہریوں کو تنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔