لاہور، پولیس کی سربراہی میں فحاشی کا کاروبار جاری، ہزاروں قحبہ خانوں کا انکشاف

لاہور، پولیس کی سربراہی میں فحاشی کا کاروبار جاری، ہزاروں قحبہ خانوں کا انکشاف

لاہور (اعجاز بٹ) لاہور میں 2314 گیسٹ ہاؤسز، قبحہ خانے، ہوٹل، موٹلز اور کوٹھی خانے اس دھندے میں ملوث ہیں۔ ہزاروں قبحہ خانے پولیس کی سربراہی میں چلائے جا رہے ہیں۔ جدید گیسٹ ہاؤسز اور قبحہ خانوں کا کاروبار کرنے والے افراد نے پکڑے جانے پر تھانوں اور عدالتوں سے کال گرلز کو چھڑانے کیلئے وکلاء کے پینل بھی بنا رکھے ہیں۔

تھانہ اقبال ٹاؤن کے علاقے میں قبحہ خانوں کے بارے میں پولیس کو تمام معلومات ہونے کے باوجود پولیس لاروائی نہیں کرتی۔ ان میں نیلم بلاک میں شبنم پٹھانی اور نرگس بلاک میں رؤف احمد کے ڈیرے شامل ہیں۔ علامہ اقبال روڈ پر شیخ ندیم کے قبحہ خانے میں بھی کئی اہم شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ بند روڈ پر شکیلہ اور نصیبو کے قبحہ خانوں سے لڑکیوں کو کال گرلز کے طور پر بھجوایا جاتا ہے۔ جوائے شاہ روڈ پر ثریا بنٹی ریواز گارڈن میں ثمر کھسرے کے ڈیرے پولیس کی سرپرستی میں قبحہ خانے بنے ہوئے ہیں۔ ملت پارک کے علاقے میں ظفر کالونی بلال سٹریٹ نمبر4میں شہزاد اصغر اور اس کی بیوی خالدہ کے کئی پولیس اہلکاروں اور افسران سے تعلقات ہیں۔ ان کے ڈیرے پر کئی مقامی شخصیات بھی مستفیج ہوتے رہتے ہین۔ بسطامی روڈ پر غزالہ قیوم اور شکیل عرف جگو کی رہائش گاہیں قبحہ خانوں کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ بسطامی روڈ پر کھجور والی مسجد کے قریب کوثر اور انعم کی کوٹھی بھی قحبہ خانے کے طور پر معروف ہے۔

روزنامہ جہاں پاکستان کے مطابق سوڈیوال کے علاقے میں صائمہ بجلی کا قبحہ خانہ بھی درجنوں لڑکیوں کی زندگی برباد کرنے کا باعث بن رہا ہے۔لاہور پولیس کی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ شبلی ٹاؤن میں اسدالرحمان عرف اسد بڑی رقم لیکر بگڑے امیر زادوں کو ان کے ٹھکانے پر کال گرلز فراہم کرتا ہے۔ اقبال ٹاؤن کی کرن ناز مین بلیوارڈ میں چل پھر کر دھندا کرتی ہے۔ ثمن آباد کی جناح کالونی میں میڈم طاہرہ رانی، مسلم روڈ پر میڈم سونیا اور انعم کے قبھۃ خانوں میں بھی کال گرلز کی سپلائی مقامی پولیس کی سربراہی میں ہوتی ہے۔ جن ہوٹلوں میں قبحہ خانے چلائے جاتے ہیں ان میں نیازی اڈا کے قریب ملک ہوٹل، بند روڈ پر وسیب ہوٹل، رہبر اڈا نواں کوٹ کے پاس لاہور فورٹ، چٹخارہ ہوٹل، نیو مکھن ہوٹل میں کال گرل کا کاروبار کیا ھؤجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : لاہور، بکیوں کے پیچھے اہم حکومتی شخصیات کی پشت پناہی، 150 جواخانوں کا انکشاف

ریلوے سٹیشن کے متعدد ہوٹلوں میں ایک ہزار روپے سے پانچ ہزار روپے میں کال گرل سپلائی کرنے والے ایجنٹوں کو تھانہ نو لکھا اور ریلوے سٹیشن کی سر پرستی حاصل ہے۔ لاہور پولیس کے افسران کا کہنا ہے کہ جب کسی قبحہ خانے سے لڑکے اور لڑکیاں پکڑی جاتی ہیں توان کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 371کی شق اے او بی کے تحت خواتین کی غلط کاموں کیلئے خرید و فروخت کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ یہ جرم نا قابلِ ضمانت ہے تاہم ویمن پروٹیکشن بِل کے آ جانے کے بعد وکلاء پہلے ایک دن کیلئے ملزمہ کو نوٹس کرواتے ہیں اور اگلے روز ضمانت کروا کر لے جاتے ہیں۔ اس طرح پکڑی جانے والی خواتین کی 95فیصد سے زائد تعداد ضمانت پر رہا ہو جاتی ہے ۔اور پرانے دھندے میں ملوث ہو جاتی ہے۔

ماڈل ٹاؤن لاہور سے تعلق رکھنے والی (س) نے بتایا کہ ماضی میں لاہور میں ایک بازارِ حسن تھا اور اب لاہور کے سیکڑوں مقامات پر قبحہ خانے اور کال گرلز سنٹر بن چکے ہیں۔ ان سیکڑوں قبحہ خانوں اور گیسٹ ہاؤسز کیلئے سیکڑون کال گرلزکی ضرورت پڑتی ہے۔ کئی کالجون اور یونیورسٹیز کی طالبات کو انٹرنیٹ، ٹویٹر، فیس بک اور دوسرے جدید ذرائع سے اپنی چنگل میں پھنسا کر ان کو کا گرل بنانے والی کئی گروہ بھی لاہور میں متحرک ہیں۔ کئی میڈیکل کالجز کی طالبات کوبھی مجبور کر کے لانے والے مجرموں کو بھی کؤجانتی ہوں۔

ڈی ایس پی حیدر اشرف کا کہنا ہے لاہور کی جس تھانے میں قبحہ خانوں میں یا گیسٹ ہاؤسز میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کا پتا چلتا ہے وہاں کاروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ اگر کوئی بھی پولیس افسر یا اہلکار ان قبحہ خانوں کی سرپرستی کرتا ہوا پکڑا گیا تو ان کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گا۔