ڈونلڈ ٹرمپ نے خاتون اول کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

ڈونلڈ ٹرمپ نے خاتون اول کو تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

امریکہ (فارن ڈیسک ) امریکہ میں رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے خاتون اول مشیل اوباما کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ ان کی حریف کے لیے مہم چلانا چاہتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مشیل اوباما پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے وائٹ ہاؤس چلانے کے معاملے میں ہیلری کلنٹن کی صحت پر سوال اٹھایا تھا۔ گذشتہ انتخاب میں اوباما کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے اس بات کی تردید کی تھی کاور کہا تھا کہ مشیل کا اشارہ مسز کلنٹن کی جانب نہیں تھا۔ دریں اثنا مسز کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر’جمہوریت کو خطرات سے دو چار کرنےکا الزام لگایا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے امریکی ریاست اوہایو کے شہر کلیولینڈ میں مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمیں قیادت اور آمریت کا فرق معلوم ہے اور اقتدار کی پرامن منتقلی ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہنے سے انکار کیا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے۔ ایسا کر کے وہ ہماری جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا ہمیں معلوم ہے کہ (مشیل اوباما) ہلیری کو کتنا پسند کرتی ہیں۔ کیا انھوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر آپ اپنے گھر کی دیکھ بھال نہیں کر سکتیں تو پھر آپ وائٹ ہاؤس یا ملک کی دیکھ بھال کیسے کریں گی؟ نیویارک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اُن اشارہ اس جملے کی جانب تھا، جو مسز اوباما نے سنہ 2007 میں ہلیری کلنٹن کے خلاف اپنے شوہر کی انتخابی مہم کے دوران ادا کیا تھا۔ مشیل اوباما نے کہا تھا اگر آپ اپنا گھر نہیں چلا سکتے تو آپ وائٹ ہاؤس تو بالکل ہی نہیں چلا سکتے۔

مسز اوباما نے سنہ 2007 میں اپنے اسی خطاب میں مزید کہا تھا اس طرح ہم اپنے کام کو ترتیب دیتے ہیں جس میں پہلے ہماری بچیاں آتی ہیں۔ جب وہ سفر کر رہے ہوتے ہیں تو میں دن میں دورہ کرتی ہوں۔ یعنی میں صبح اٹھتی ہوں۔ بچیوں کو تیار کرتی ہوں، انھیں روانہ کرتی ہوں اور پھر اپنا دورہ کرتی ہوں اور سونے سے قبل گھر واپس آ جاتی ہوں۔ خیال رہے کہ نیویارک میں آلفریڈ ای سمتھ میموریل فاؤنڈیشن کے عشائیے کے بعد مسٹر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم پر واپس آ گئے ہیں۔ لیکن آلفریڈ ای سمتھ پنجم نے سی این این کو بتایا کہ مسٹر ٹرمپ نے ‘حدِ ادب پار کی‘ اور وہاں موجود لوگ ‘قدرے بے چینی محسوس کر رہے تھے۔