میڈیا سے میڈیا گردی تک

میڈیا سے میڈیا گردی تک

تحریر: سید فیاض علی

کل سے خاتون رپورٹر صائمہ کنول کو نادرا کے سیکیورٹی گارڈ کی طرف سے تھپڑ مارے جانے کی وڈیو سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنی ہے جس پر عوام کا مِلا جُلا رجحان دیکھنے کو ملا۔ کسی نے خاتون رپورٹر کی حمایت میں حقوقِ نسواں کے راگ الاپے اور کوئی سیکیورٹی گارڈ کو دُرست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں وجوہات پیش کر رہا ہے لیکن بہت کم افراد ایسے تھے جنہوں نے اس افسوسناک واقعے کے محرکات کی نشاندہی کی۔

خاتون رپورٹر کا سیکورٹی گارڈ کو گریبان سے پکڑنا اور مائیک لے کر ہراساں کرنا اور پھر ردِ عمل میں سیکیورٹی گارڈ کا تھپڑ مارنا دونوں ہمارے معاشرے کے انتہا پسند رویے ہیں اور یہ دونوں رجحانات قابلِ مذمت اور انتہائی افسوسناک ہیں جس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن کیونکہ صحافی ایک سیکیورٹی گارڈ کی نسبت ہمارے معاشرے کا زیادہ پڑھا لکھا اور مہذب طبقہ ہے اس لیے میرے نزدیک اس واقعے کی زیادہ ذمہ داری خاتون صحافی پر عائد ہوتی ہے۔ یہاں بہت سے لوگ مجھ پر اعتراض کریں گے کہ میں خاتون سے بدتمیزی کے واقعے کی حمایت کر رہا ہوں جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں اس واقعے کی حمایت نہیں کر رہا بلکہ آپ سب کی توجہ ان وجوہات کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جس کے باعث ایسے واقعات کی نوبت آتی ہے۔

میڈیا کو ریاست کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا نے اپنی اہمیت اور ذمہ داری کو ہمیشہ نظر انداز کیا ہے۔ میڈیا مالکان نے پیسے، ریٹنگ اور ٹی آر پی کی دوڑ میں اُصولِ صحافت اور حرمتِ صحافت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ریٹنگ کی اس دوڑ میں صحافت کا جو جنازہ نکلا سو نکلا لیکن اخلاقی اقدار کو بھی بری طرح پامال کیا گیا۔ “سب سے پہلے” کی کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ میں صحافت جیسا مقدس پیشہ “ہیجان” کی نظر ہو گیا ہے۔ اور اسی ہیجان کی جھلک ہمارے معاشرے کے عمومی رویوں میں بھی نظر آنے لگی ہے۔ عدم برداشت کا رجحان بہت عام ہو گیا ہے۔ اگر آپ ان مسائل پر بات کرنے کی گُستاخی کر بیٹھیں تو اس کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر خودکش حملہ تصور کر کے آپ کو “قدامت پسند” اور “جاہل” کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے مثالیں پیش کی جاتی ہیں اور ہر طرح سے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ ممالک آج ترقی یافتہ اس لیے ہیں کیونکہ وہاں  سی این این اور بی بی سی کو آزادی حاصل ہے۔ میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن اس آزادی کی بھی کچھ حُدود و قیود ہونی چاہئیں۔ حدود و قیود کا تعین کا مطالبہ کسی طرح بھی غلط نہیں ہے لیکن اس کو ہمیشہ غلط رنگ دیا جاتا ہے اور جب اچھے خاصے معقول لوگوں سے ایسے ناپختہ دلائل سننے کو ملتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ جس چیز کا خیال رکھا جاتا ہے وہ سوشل رائیٹس یا عوامی حقوق ہیں۔ اس کی آسان مثال میں یہ دوں گا کہ اگر کرکٹ کھیلتے گیند بھی پڑوسیوں کے لان میں گر جائے تو آپ بغیر اجازت وہاں نہیں جا سکتے۔ حتیٰ کہ اگر آپ نے اپنے گھر کے سامنے کلوزسرکٹ کیمرہ بھی لگایا ہے تو اس کی حد صرف آپ کے ڈرائیو وے تک ہونی چاہیے۔ اگر کیمرہ میں کسی پڑوسی کا ڈرائیو وے آ گیا تو آپ کو سزا اور جرمانہ ہو سکتا ہے۔ آپ بغیر اجازت کسی کی بھی نجی ملکیت پر قدم نہیں رکھ سکتے۔ پولیس بھی اگر جائے گی تو ان کے پاس عدالتی حکم نامہ یا وارنٹ ہونا لازمی ہوتا ہے۔ یہ ہیں ان ممالک کے سماجی اور معاشرتی حقوق جن کا ہر حال میں خیال رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ازراہ مذاق ایک جملہ اکثر بولتے ہیں کہ مغرب میں کُتوں کے حقوق ہمارے ملک میں عوام کے حقوق سے زیادہ ہیں۔

پاکستانی میڈیا جب آزادی صحافت کی بات کرتا ہے تو ایسے میں سماجی حقوق اور لوگوں کی نجی زندگی کے وہ حقوق جو پاکستانی قانون بھی دیتا ہے انکو کیوں یکسر نظراندار کر دیتا ہے؟ کیمرہ اور مائیک کے بل بوتے پر میڈیا نمائندگان کہیں بھی بغیر اجازت زبردستی گُھس سکتے ہیں اور روک ٹوک پر دُھونس اور بدتمیزی بہت عام سی بات ہے۔ ہمارے پاکستانی معاشرے میں چار دیواری کے تقدس کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے لیکن پاکستانی میڈیا اس کی دھجیاں اڑاتے عام نظر آتا ہے۔ کسی بھی افسوسناک واقعے کے بعد رپورٹنگ انتہائی غیر ذمہ داری سے کی جاتی ہے۔ لاشوں اور دھماکے کی فوٹیج بھی بغیر کسی تصویری تادیب (گرافکس وارننگ) کے دکھائی جاتی ہے جبکہ اصولاً اور قانوناً یہ جرم ہے۔

جیسے “خود کش حملہ آور کے سر کی ایکسلیوزیو فوٹیج سب سے پہلے ہم آپکو دکھا رہے ہیں” “مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی فلاں لڑکی کے گھر والوں کے تاثرات سب سے ہمارے چینل پر” “قتل کی واردات کی کلوز سرکٹ کیمرا فوٹیج ہمارے چینل کو موصول ہو گئی ہے جس میں قاتل صاف گولی چلاتے نظر آ رہا ہے”

ایسی بےشمار مثالیں ہیں جو ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خبر اب صرف خبر نہیں رہی۔ میڈیا نے صحافت کو صحافت کم اور سنسی خیز کرائم سیریز زیادہ بنا دیا ہے۔

امریکہ میں ہر سال گن وائیولینس میں مرنے والے افراد کی تعداد دہشتگرد حملوں میں مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اس کی بڑی وجہ امریکہ میں تشدد، جنگ اور گن فائیٹس پر بننے والی فلمیں اور وڈیو گیمز کو قرار دیا گیا ہے۔ ایک 15 سالہ لڑکا گن لے کر کسی کلب یا سکول میں جاتا ہے اور بیس تیس افراد کو موت کی نیند سُلا دیتا ہے۔ امریکہ میں ایسے واقعات عام ہیں۔ یہ وہ رجحان ہے جو کسی معاشرے کو ہیجان خیزی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کا کردار بھی پاکستان میں بالکل ایسا ہی ہے۔ میڈیا نے عوام کا مزاج بدل دیا ہے۔ ہمیں بھی اب تشدد، سسنی اور ایسی ڈرامائی نیوز اچھی لگنے لگی ہیں جبکہ دوسری طرف بحیثیت مجموعی معاشرہ تنزلی کی طرف گامزن ہے۔

پاکستانی میڈیا کی غیر ذمہ داری اور بچگانہ پن کی موجودہ مثال پاکستانی “چائے والا” ہے۔ ایک وہ نوجوان جو محنت سے رزق حلال کما رہا تھا اس کو اس لیے اتنی شہرت دی گئی کہ اس کی آنکھیں نیلی ہیں اور وہ گُڈ لکنگ ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس کے ظاہری شکل و صورت کو معیار بنانے کے بجائے یہ معیار رکھا جاتا کہ یہ محنت کر کے دو وقت کی روٹی کماتا ہے، مگر اس سے میڈیا کو ریٹنگ کیسے ملتی؟ ہم اگر اپنی آنکھیں کُھلی رکھیں تو کراچی سے خیبر تک آپ کو ایسے لاکھوں ارشد خان محنت کرتے نظر آئیں گے جن کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ رزقِ حلال کماتے ہیں وہ بھی محنت سے۔ ہمیں وہ لوگ کبھی نظر نہیں آتے کیونکہ میڈیا نے  ہمارا معیار محنت نہیں بلکہ ظاہری شکل و صورت بنا دیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ میڈیا میں اچھے لوگ بھی ہیں جو صحافتی ذمہ داریوں کو پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیتے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے لوگ اب آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں یا یوں کہیں کہ “سب سے پہلے” کی دوڑ میں وہ لوگ کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ان مسائل اور بےقائدگیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے پیمرا جیسے اداروں پر جن کا کام میڈیا کے کام کی نگرانی کرنا اور اس کی حدود و قیود کا خیال رکھنا ہے۔ بدقسمتی سے ہر دورِ حکومت میں پیمرا کو غیرفعال ادارہ بنا کر سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اسعتمال کیا گیا ہے۔ اگر ادارے آزاد اورسیاسی اثر و رسوخ سے پاک اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں سرانجام دیں تو معاشرے میں یقینی انقلاب آ سکتا ہے۔

قصہ مختصر اگر پاکستانی میڈیا کو قوائد و ضوابط کا پابند نہ کیا گیا تو وہ وقت دُور نہیں جب میڈیا گردی دہشتگردی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ اربابِ اختیار کو ابھی سے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا اور عملی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ تشدد اور عدم برداشت کےایسے واقعات معمول بن جائیں گے۔

Email: [email protected]

Twitter: @BhaijaFry