بچوں اور خواتین کے تحفظ کیلئے ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟

بچوں اور خواتین کے تحفظ کیلئے ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟

تحریر : سلمان لالی، نیو ٹی وی نیٹ ورک

وحشتوں کے پجاری اورعصمتوں کے بیوپاری ہمارے معاشرے کی ہر سطح  پر پائے جاتے ہیں، نہ صرف پائے جاتے ہیں بلکہ مکمل آزادی اور بے خوف خطر مکروہ دھندہ چلا رہے ہیں، قصور میں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر انکی ویڈیو بنانے کا انکشاف ہوا تو پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ انسانوں میں وحشیانہ جبلت اور مجرمانہ نفسیات نظام عدل و انصاف کی کمزوریوں سے منسلک ہے، کسی کو خوف خدا  مجرمانہ روش  کو ترک کرنے پر مجبور کرتا ہے تو کسی کو سزا کا خوف۔ غور کرنے پر سمجھ میں آیا  کہ  خوف کےمنفی کے ساتھ ساتھ کئی مثبت پہلو بھی ہیں۔ لیکن  جن معاشروں میں عدل انصاف  نہ ہو وہاں مجرم بے خوف اور   عوام  خوفزدہ ہوتےہیں، قصور  کا واقعے نے سارے ملک کو دہلا کے رکھ دیا، ، والدین   اپنے بچوں کی جانب سے عدم تحفظ کا شکار ہوگئے اور حکومت پر  دباؤ ڈالا جانے لگا کہ واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، جیسے جیسے معاملہ آگے بڑھا توقصور کے مقامی سیاستدان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا اور متاثرہ بچوں کے والدین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ مقامی ایم پی اے کی جانب سے ان پر صلح کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس دوران معاملے کو زمین  پر تنازع کا رنگ  دینے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے بھی یہی بیان دیا کہ اصل تنازع زمین کا ہے، لیکن ویڈیوز اور تصاویر خود ناقابل تردید ثبوت تھے  نظرانداز کیسے کیے جاتے، یہ کیس اب بھی قصور کے سیشن کورٹ میں زیر سماعت ہے،، اور تازہ اطلاعات کے مطابق کیس مدعیوں اور وکیل کی پیروی میں عدم دلچسبی کی وجہ سے کمزور پڑتا جارہا ہے۔ بچوں کے والدین کی جانب سے پیروی نہ کرنے کی بہت بڑی وجہ با اثر افراد کا خوف بھی ہے، اور میڈیا کی توجہ ہٹ جانے کی وجہ سے این جی اوز  کو  بھی  تشہیر کی امید نہیں رہی او ر یوں  یہ مسئلہ جو ں کا توں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیئے :  لاہور، بکیوں کے پیچھے اہم حکومتی شخصیات کی پشت پناہی، 150 جواخانوں کا انکشاف

واقعے کو اتنا عرصہ گزر جانے  کے بعد اس موضوع پر لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ  اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان شخصیات کی توجہ پھر سے اس مسئلے پر مبذول کرانا ہے ، اور اس سے بھی زیادہ پریشان کن وجہ یہ ہے کہ ایسے مزید واقعات بھی سامنے آئے ہیں لیکن ان کو میڈیا پر وہ توجہ نہ مل سکی جس کا یہ مسئلہ مستحق ہے، رواں برس جولائی میں مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ اددو میں تین افراد کے بچوں کے ساتھ  زیادتی اور ویڈیو بنانے کا انکشاف ہوا اور رواں ہفتے میں ہی لاہور سے کچھ افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی  جو خواتین کی قابل اعتراض حالت میں ویڈیوز اور تصاویر بنانے  میں ملوث تھا۔ شاید میڈیا  کی عدم توجہی کی وجہ یہ بھی ہے کہ  صحافی بھی عام انسان ہیں، جیسے عوام  متوقع  نتائج نہ ملنے پر  احتجاج اور انتخابی نظام سے مایوس ہوجاتی ہے۔

صحافی  اور نیوز روم میں بیٹھے  خبر کی افادیت جانچنے پر مامور افراد  بھی حکومت کا رد عمل دیکھ کر  خبر کو اہمیت دیتےہیں، آج تو ہر چینل یہ دعویٰ کرتا نظر آتا ہے کہ اس کی خبر پر حکومت نے ایکشن لے لیا،  جب ایکشن نہ لیا جائے تو ارباب الیکٹرانک میڈیا   کی نظر میں بھی خبر کی اہمیت ٹکے کی رہ جاتی ہے، جس کا نقصان یہ ہوتا ہےکہ بے شمار افراد جو قانون اور میڈیا کی نظر سے اوجھل ہوتے ہوئے  مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوتے ہیں مزید بر اعتماد ہو کر اپنا دھندہ جاری رکھتے ہیں جس  سے عوام کا اعتماد اور سکون غارت ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے : لاہور، پولیس کی سربراہی میں فحاشی کا کاروبار جاری، ہزاروں قحبہ خانوں کا انکشاف

 لیکن اہم بات تو یہ ہے کہ ایسے کتنے ہی افراد ہیں تو ایسی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور قانون کی نگاہ سے اوجھل ہیں،اور اگر قصور ، مظفر گڑھ اور لاہور وقعہ کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی  تو یہ ایک غلط روایت کو جنم دیگی ،باالکل ایسے ہی جیسے کرپشن کے خلاف اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ زہر ملک میں سرایت کر چکا ہے، یا دہشتگر د عناصر کو ڈھیل دینے کے نتائج سب کےسامنے ہیں۔ اسلئے ضرور ی ہے ایسے واقعات جس میں بچوں یا خواتین کے خلاف منظم جرائم ہورہے ہیں  کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمات درج کیے جائیں تاکہ لواحقین پر دباؤ نہ ڈالا جا سکے، اور مقدمات کی پیروی بھی سرکاری وکیل کریں۔ خواتین اور بچوں کے تحفظ  کیلئے حکومت ایک جامع پالیسی تشکیل دیتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دے اور  ضروری قانون سازی بھی کی جائے، تاکہ آئندہ ایسے  واقعات کا تدارک ہو سکے۔

جہاں تک مجرموں کا تعلق ہے تو ان کیلئے کڑی سے کڑی سزائیں تجویز کی جائیں ۔ کیوں  کہ دنیا  بھر میں مجرموں کو صدیوں سے پابند سلاسل کرنے کے پیچھے یہ حکمت کارفرما تھی کہ نہ صرف مجرموں سے انکی آزادی صلب کرلی جائے بلکہ انہیں معاشرے سے کاٹ کر چاردیواری میں محصور کردیا جائے تاکہ وہ معاشرے میں اپنا زہر نہ پھیلا سکیں،  کیوں کہ مجرم کی آزادی کا مطلب ہے کہ  معاشرے  میں جرم پھیلتا رہے۔ اس ضمن میں نہ صرف ریاست پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ ہم سب کا بھی فرض ہے کہ ہم ایسے افراد پر نظر رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون میں تامل نہ برتیں تاکہ  کوئی مجرم  سزا سے بچ نہ سکے، اگر یہ احساس ذمہ داری ہم میں نہیں ہے   اسکے نتائج بھی ہماری ماؤں بہنوں اور ہمارے بچے بچیو ں کو بھگتنا ہوں گے۔