کیا ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کی معاونت نہیں کررہے؟ رانا ثناء یہ کہنے پر مجبور کیوں ہوئے؟

کیا ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کی معاونت نہیں کررہے؟ رانا ثناء یہ کہنے پر مجبور کیوں ہوئے؟

لاہور (نمائندہ تہلکہ ٹی وی) تہلکہ ٹی وی کو ذرائع نے بتایا کہ 20 اکتوبر کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہونے والے خفیہ اجلاس میں تحریک انصاف کے دھرنے کو روکنے کے حوالے سے حکمت عملی طے کی گئی۔ پولیس کے استعمال کی باری آئی تو آر پی او گوجرانوالہ کا یہ کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد سپاہ (پولیس فورس) بہت ڈی مورال ہوچکی ہے، جس پر رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول یہ سب کچھ کہنے پر مجبور ہوگئے۔

رانا ثناء اللہ نے آئی پنجاب کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ ان سے پوچھیں کیا ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے ذمہ داروں کیساتھ معاونت نہیں کررہے ؟ کیا ہم ان کی مالی امداد نہیں کررہے ؟ ہم نے کیا ذمہ دار پولیس افسروں کو بیرون ملک نہیں بھیجا؟ کیا اتنی زیادہ سٹیٹ مشینری استعمال کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ؟ لہذا ایسی بات نہیں ہے۔ اور اسی طرح آئندہ بھی حکومت ایسے افسروں اوراہلکاروں کیساتھ کھڑی ہوگی۔

خفیہ اجلاس کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے یہ پڑھیئے : تحریک انصاف دھرنا روکنے کیلئے رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں خفیہ اجلاس

رانامقبول نے کہا کہ ہم نے سو گنا پولیس کی تنخواہیں بڑھائی ہیں، انہیں نوکریاں دی ہیں ۔ پولیس کو یہ باور کرایا جائے کہ عمران خان جو کام کرنے جارہے ہیں وہ غیرآئینی ہے۔  پولیس کا مورال بلند کریں اور انہیں عمران خان کیخلاف موٹیویٹ کریں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ حکومت کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ یہ سب کچھ ملکی مفاد کے تحت کیا جارہا ہے۔ عمران خان غیر آئینی اقدامات کرکے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔