کشمیر میں روز ایک قیامت ہوتی ہے، مشال ملک سے تہلکہ ٹی وی کی خصوصی گفتگو

کشمیر میں روز ایک قیامت ہوتی ہے، مشال ملک سے تہلکہ ٹی وی کی خصوصی گفتگو

انٹرویو و تحریر : کنول زہرا

کنول زہرا : کشمیر کی آزادی کے سلسلے میں پاکستان کے کردار سے کتنا مطمئن ہیں۔
مشال ملک : پاکستان نے ہمیشہ بڑے بھائی کا ثبوت دیا ۔ہمارے ذخموں پر ہمیشہ مرہم رکھا اور ہماری آواز کو دنیا بھر میں عام کیااگرچہ اس کی وجہ سے پاکستان نے عالمی سطح پر نقصانات بھی اُٹھاے ۔آجکل جیسا کہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ پاکستان کو تنہا کردیا جائیگا ۔یہ بھی بھارت کا عالمی پروپگنڈہ ہے ۔کیونکہ پاکستان کشمیر پر ہونیوالی بھارتی جارحیت کو دنیامیں عام کر رہا ہے لہذا دشمن زخمی بھٹریے کی مانند تلملا رہا ہے۔ بہرحال ہندوستان کی دیگر چالوں کی طرح یہ چال بھی ناکام ہوگی ۔

کنول زہرا : یعنی پاکستان عالمی تنہائی کا شکار نہیں ہونے والا ؟
مشال ملک : کیا دنیا صرف امریکہ اور بھارت ہے ؟ دنیا میں یہ دو ممالک تو نہیں ہیں نا! دیکھیں چونکہ پاکستان مظلوم کیساتھ ہے ۔تو یہ مشکلات توآئینگی ۔میں سمجھتی ہوں پاکستان کی مشکلات کی وجہ بھارت کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لانا ہے ۔مگر پاکستان پھر بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔اس پر سارے کشمیری پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

کنول زہرا : کشمیر میں آزادی کے حصول کے لئے مختلف تحریکیں فعال ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔جب موقف سب کا ایک ہے ؟
مشال ملک : دیکھیں پاکستان میں بھی تو اتنی ساری تنظیمیں ہیں مگر سب ہیں تو پاکستانی نا!

کنول زہرا : مگر پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے آپس میں نظریاتی اختلافات ہیں ۔
مشال ملک : نہیں ہمارے یہاں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے ۔سب کا موقف کشمیر کی آزادی ہے ۔سب کا نکتہ نظر ایک ہی ہے ۔اور یہ تو اچھی بات ہے ۔جتنی زیادہ تحریکیں ہونگی ۔اتنی زیادہ بہترین جدوجہد ہوگی ۔

کنول زہرا : جب آپ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تو کشمیر میں کچھ لوگوں نے آپ کے لباس پر تنقید کی تھی ۔وہ کون عناصر تھے؟
مشال ملک : وہی تھے جو پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنے کے خواہاں ہیں۔دیکھیں چونکہ میں پاکستانی ہوں ۔میری اور یاسین ملک کی شادی کے بعد قیاس آرائیاں کرنے والوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یاسین ملک پاکستان کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں میرابیک گروانڈ کبھی سیاسی نہیں رہا ۔میں کشمیر میں بھی سیاسی شخصیت نہیں ہوں ۔ہاں البتہ کشمیر کی آزادی کی خواہش مند ہوں اور اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی ہوں۔میں چونکہ فائن آرٹسٹ کی اسٹوڈنٹ تھی اور کم عمر بھی تھی تو میرا لباس بھی اپنی عمر کے حساب سے تھا ۔جب میرے سسرال کو کوئی اعتراض نہیں تو کسی اور کو کیوں ؟ ۔ بس یہ ناپختہ کی باتیں ہیں ۔جس طرح وہ اپنے ڈراموں میں عجیب عجیب سی باتیں کرتے ہیں اسی طرح انہوں مجھے نشانہ تنقید بنایا۔بہرحال میرا کچھ نہیں گیا ۔اُن کی ہی اصلیت سامنےآگئی ۔

یہ بھی پڑھیئے : ہم سرینگر میں نابینا ہونے والے کشمیریوں کامفت علاج کرنا چاہتے ہیں : المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ

کنول زہرا : 70سال سے کشمیر آزادی کا خواہاں ہے اور بڑی سخت قیمت بھی ادا کر چکا ہے ۔روزمرہ زندگی کیسے بسر کرتے ہیں ؟
مشال ملک : انتہائی مشکل سے ، یقین مانیں ، آپ سوچ بھی نہیں سکتی ہیں ۔کشمیر میں روزانہ کیسی کیسی قیامتیں بپا ہوتی ہیں۔باپ ، بھائیوں کے سامنے بیٹی ، بہن کی عزت تار تار کی جاتی ہیں ۔ہندوستان کی آرمی وہ وہ قیامتیں ڈھاتی ہے جس کے بیان سے روح تک کانپ جاتی ہے ۔کشمیر میں بھارتی سورماوں کی نفرت کی ناقابل بیان مثالیں موجود ہیں۔ جوانوں کو مار کر اُن کی لاشوں کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں ۔خواتین کی عصمت ریزی ہی نہیں کی جاتی بلکہ اُن کو مارا پیٹا بھی جاتا ہے ۔بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ۔جوان اولادوں کو اُن کے بوڑھے والدین کے سامنے مارا جاتا ہے ۔وہاں روزمرہ زندگی نہیں ہے ۔وہاں روزمرہ موت کا راج ہے ۔مگر ہم ڈٹے ہوئے ہیں ۔اور آزادی حاصل کر کے ہی رہے گے ۔

کنول زہرا : بچوں کی تعلیم کا کتنا حرج ہوتا ہوگا ۔غذائی ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں؟
مشال ملک : دیکھیں وہاں یہ ہے کہ مختلف گھروں میں اسکول قائم کیے ہوئے ہیں جہاں بچوں کو بنیادی تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔بچوں کو اسکول لانے لیجانے کا مرحلہ بھی انتہائی خطرناک ہے کیونکہ بھارتی فوج بچوں اور جوانوں کو نشانہ بناتی ہے ۔غذائی ضرویات کے لئے مختلف مساجد سے اعلان کروایا ہے کہ خواتین گھروں میں اضافی کھانا پکائیں اور مسجد میں دیں جائیں تاکہ ضرورت مند وہاں سے آکر لیجائیں ۔مگر آخر یہ کب تک ہوگا۔یہ کوئی حل تو نہیں ہے ۔میری صحافی برادی سے اپیل ہے کہ ہمارے حالت پر لکھیں اور بولیں ۔کشمیر کے مسلمان آپ کی سوچ سے زیادہ مشکل میں ہیں۔

کنول زہرا : وزیراعظم نوازشریف شریف کی حالیہ یو این او میں تقریر پر آپ کیاس کہنا چائیے گی ۔
مشال ملک : میں نوازشریف صاحب کی شکر گزار ہوں ۔انہوں اپنے کشمیری بھائیوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا مگر برہان وانی کی شہادت کا انتظار کیوں کیا گیا۔کشمیر میں تو بہت پہلے سے ظلم ہو رہا ہے ۔میں آپ کے اخبار کے ذریعے سے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے اپیل کرتی ہوں کہ آپ اتنے ممالک میں آتے جاتے رہتے ہیں خدارا کشمیر کا مقدمہ ہر فارم پر اُٹھائیں ۔پاکستان کوئی کمزور ملک نہیں ہے۔ماشااللہ ایک طاقتور ریاست ہے ۔ آپ کی ہمارے حق میں بلند آواز ہمارے لیئے باعث تقویت ہیں ۔جبکہ نواز شریف صاحب تو بذات خود کشمیری ہیں۔

کنول زہرا : کشمیر کا مقدمہ کس نے پاور فل لڑا ؟ پرویز مشرف یا نواز شریف ؟
مشال ملک : دیکھیں پرویز مشرف آرمی سے تھے تو انہوں نے اپنے طریقے سے لڑا جبکہ نوازشریف سویلین ہیں تو وہ اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں ۔بہرحال دونوں نے ہمارے لئے آواز بلند کی ہے ۔

کنول زہرا : بھارت الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کشمیری مجائدین کو فنڈنگ کرتی ہیں ۔ آپ اس الزام پر کیا کہنا چاہے گی ۔
مشال ملک : بھارت کی تو الزام تراشی کرنے کی پرانی عادت ہے ۔اُن کی سرحدوں پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تو کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کو کوئی بھی بندہ کشمیریوں سے رابطہ کر لے ۔بھر کشمیر کے داخلی اور خارجی راستوں پر تو چیکنک کے انتہائی سخت انتظامات ہیں۔تو فنڈنگ والی بات تو مضحکہ خیز ہے۔ اگر اس میں صداقت ہے تو بھارت ثبوت کیوں نہیں پیش کرتا ۔ بلوچستان اور کراچی میں بھارتی مداخلت کا ثبوت تو پاکستان کے پاس ’کل بھوشن یادیو ‘ کی صورت میں موجود ہے ۔بھارت کے پاس ہے کوئی ثبوت تو منظر عام پر لائے ۔

کنول زہرا : آپ پاکستان کو اتنا ڈی فنڈ کر رہی ہیں۔ہندوستان اس میں بھی شک وشبہات کے پہلوں نکال کر کوئی کہانی تخلیق کر سکتا ہے ۔
مشال ملک : کر کیا سکتا ہے وہ کرتا ہی یہ ہے ۔اس کام میں تو بھارتی سیاستدان ، حکمران اور اُن کا میڈیا بہت ماہر ہے ۔کرے بلکہ کرے ۔میں پیدائشی پاکستانی ہوں ۔پاکستان میرا وطن ہے۔ اور میں حقیقت بیان کر رہی ہوں۔

کنول زہرا : کشمیر کی آزادی پر پاکستان کے علاوہ اور ممالک کیوں خاموش ہیں جبکہ مسلم تنظمیں بھی چپ ہیں۔ یو این او اور ہیومن راٹئس کا کردار بھی آپ کے سامنے ہے ۔
مشال ملک : نہیں ایسا نہیں ہے او آئی سی کا کشمیر پر بڑا سخت موقف ہے ۔پاکستان سمیت دیگر مسلم و غیر مسلم ممالک بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔تاہم بھارت کی ہٹ دھرمی ختم نہیں ہو رہی ہے ۔آپنے دیکھا یو این اومیں پاکستانی وزیراعظم کی تقریر کے جواب میں اُن کی وزیر خارجہ نے تقریر کی ۔مودی وہاں آیا تک نہیں جبکہ اُس کو بہت شوق ہے ۔غیر ملکی دورے کرنے کا اور سیلفیاں بنوانے کا۔

کنول زہرا : سارک کانفرنس کا بائیکاٹ بھی اسی کی کڑی ہے ؟
مشال ملک : جی بالکل ، کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔انہوں نے سوچا ہمیں ایک بار بھی خفت کا سامنا کرنا پڑئیگاکیونکہ پاکستان سارک میں بھی کشمیر کا موضوع زیر بحث لائیگا تو کہا کہ جی ہم نہیں آتے ان کے بزدلانہ اقدام پر ان کے پیروکاروں نے بھی لیبک کہا۔

کنول زہرا : آپ ہندوستان کے دوسرے شہروں میں بھی گئی ہونگی ،آپ نے وہاں کے مسلمانوں کو کیسا پایا ؟
مشال ملک : میں زیادہ تو نہیں گئی ۔میرا سری نگر ہی جانا ہوتا ہے البتہ دہلی ضرور گی ہوں۔وہاں مسلمان ڈرے ڈرے رہتے ہیں جبکہ پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں مسلمان آباد ہیں مگر پھر بھی خوفزدہ ہیں۔ہندوستانی حکومت مسلمانوں کو ہر میدان میں پیچھے رکھتی ہے ۔کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا ’جناح‘ پیدا ہو۔

کنول زہرا : کیا میں آپ کی ذاتی زندگی کے بابت پوچھ سکتی ہوں ؟
مشال ملک : جی بالکل

کنول زہرا : آپ نے جانتے بوجھتے ایسے شخص سے شادی کی جس کی زندگی بہت کٹھن ہے۔کیا فزرت وقت کیساتھ آپ یہ سوچتی ہیں کہ آپ نے جذباتی فیصلہ کیا تھا یا کل کا بہتر فیصلہ آپ کو آج بہترین لگتا ہے؟
مشال ملک : میں سمجھتی ہوں میرا فیصلہ کل بھی بہترین تھا اور آج بھی بہترین ہے ۔ہاں میں جانتی تھی کہ ان کی زندگی بہت سخت ہے مگر میرے شوہر میرے آئیڈیل ہیں۔ان کی جدوجہد کو میں کل بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتی تھی اور آج مجھے فخر ہے کہ میں ان کی جدوجہد کا حصہ ہوں۔یاسین کی خدمات میرے قابل تحسین ہیں۔میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں کہ اُس نے اتنے اچھے زندگی کے ساتھی کا ہم سفر بنایا۔

کنول زہرا : آپ کی اور آپ کے شوہر کے درمیان عمر کا خاصا فرق ہے تو کبھی مشکل پیش نہیں آئی ؟
مشال ملک : بالکل نہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری انڈاسٹنڈنگ بہت اچھی ہے ۔میری اور ان کی ملاقات ایک تقریب میں ہوئی ۔بات چیت ہوئی ۔ہم ایک دوسرے کو پسندکرنے لگے ۔ان کی جانب سے رشتہ آیا مگر میں جب پڑھ رہی تھی یاسین نے 4سال تک میری تعلیم مکمل ہونے کا انتظار کیا۔اس دوران ہماری اور زیادہ اچھی انڈاسٹنڈنگ ہوگئی۔گھروالوں کو بھی یقین ہوگیا کہ بندہ ہماری بیٹی کو بہت چاہتا ہے لہذاانکار کرنا مناسب نہیں ہے ۔

کنول زہرا : آپ نے تحریک آزاد ی کے سلسلے میں حقوق آزادی کے مناظر اور صعبتیں بہت قریب سے دیکھی ہیں جبکہ آپ خود بھی اس کا حصہ ہیں۔کشمیر میں شہید ہونے والے جوان کو پاکستانی پرچم بظورکفن دیا جاتا ہے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں اس کے برعکس پاکستان میں ’مردہ باد ‘ کی گردان ہوا کرتی ہے ۔اس قسم کی ذہنیت رکھنے والوں کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے ؟

مشال ملک : آپ نے بہت اچھی بات کی ۔دیکھیں میں اس ذہنیت کو یہ پیغام دونگی کہ آزادی حاصل کرنا اس کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا کوئی مذاق نہیں ہے ۔پاکستان ہمارے بزرگوں کی قربانی وانتھک جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا ہے ۔یہ ہمارے بزرگوں کی جانب سے ہمیں عطا کردہ تحفہ ہے ۔اچھی اولاد کا ثبوت دیتے ہوئے ۔اس کی حفاظت کرنا اور اس کی ترقی میں اپنا کردار اد ا کرنا ہی خلف اولاد کی ذمے داری ہے۔میں نے جوانوں ، بچوں ، بوڑھوں کی لہولہان لاشے دیکھی ہیں۔میں نے آزادی کی حرمت پر اپنی حرمت تار تار ہوتی دیکھی ہے میں جانتی ہوں آزادی حاصل کرنے کے لئے کیا کیا قربان کرنا پڑتا ہے جبکہ 1947میں یہ سب ہوا تب کہیں کاکر پاکستان معرض وجود میں آیا لہذا خدارا اپنی آزادی کی قدر کریں اور اُن عناصر سے دوری اختیار کریں جو ’مردہ باد‘ ذہین کی پرورش کرناجاہتے ہیں۔