لاہور کی ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعدد 3لاکھ سے تجاوز کرگئی

لاہور کی ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعدد 3لاکھ سے تجاوز کرگئی

لاہور (شہزادہ خالد) صوبائی دارالحکومت لاہور میں سپریم کورٹ رجسٹری، ہائیکوٹ کے علاوہ درجنوں ماتحت عدالتیں موجود ہیں جن میں مقدمات کی تعدد میں بڑی تیزیسے اضافہ ہورہا ہے. جبکہ ان میں سائلوں کیلئے سہولیات کی کمی ہو گئی ہے۔ لاہور کی ماتحت عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کی تعدد 3لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

لاہور کی ماتحت عدالتوں میں سیشن کورٹس، ماڈل ٹاؤن اور کینٹ، کچہری کی عدالتیں، وفاقی سپیشل کورٹس، ڈرگ کورٹس، گارڈین کورٹس، فیملی کورٹس، انسداد منشیات کی عدالتیں، اینٹی کرپشن کورٹس، ایف آئی اے کی سپیشل عدالتیں، صارف عدالتیں، محتسب کی عدالتیں، سروس ٹربیونلز، بنکنگ کورٹس و دیگر شامل ہیں ۔ چو دھری ولائت ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، طارق عزیز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، پاکستان بار کونسل کے کوارڈ ینیٹر مدثر چو دھری، لاہور بار کے صدرارشد جہانگیر جھوجہ و دیگر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرالتوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کیلئےعدالتوں کی تعداد اور ججوں کی تعداد میں اضافہ نا گزیر ہو گیا ہے۔ سول ججوں کی مقررہ سیٹیں 267ہیں جبکہ صرف 150کے قریب جج مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں ۔ ایک جج کو روزانہ 200تک مقدمات کی سماعت کرنا پڑتی ہیں ۔

رواں برس کے آغاز تک صرف سول عدالتوں میں 99ہزار900مقدمات زیرے سماعت تھے جن میں 50ہزار سے زائد مقدمات ایسے ہیں جو 80سال سے زائد عرصہ سے زیرسماعت ہیں ۔ جوڈیشل مجسٹریٹس کی عدالتوں میں 79518کیس زیر سماعت ہیں۔ سول عدالتوں میں ایک لاکھ 93ہزار 463مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ زیرالتوامقدمات میں 17375فیملی ،2794جانشینی ،8969اجراء ڈگری،1338 رینٹ کنٹرولر ،3920گارڈین اور 326لینڈ ایکوزیشن سے متعلقہ ہیں ۔

دیوانی مقدمات کے دائرہونے کی ماہانہ شرح 2000مقدمات ہے ۔ فرسٹ کلاس سول ججوں کی تعداد 53،گارڈین جج 4رینٹ کنٹرولر 6،فیملی جج 29،سول جج کلاس تھری 8سول جج کم جوڈیشل مجسٹریٹ 22،جوڈیشل مجسٹریٹ ماڈل ٹاؤن 14اور جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ کی تعداد 11ہے ۔ چار انسداددہشت گردی کی کورٹس ہیں ۔ ماتحت عدالتوں میں برسا برس سے مقدمات زیرالتوارہنے کی بڑی وجہ پولیس کی طرف سے زیر سماعت مقدمات میں فوری چلان پیش نہ کرنا،گواہان کو پیش نہ کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔