عوام کے لئے بری خبر پی ٹی اے نے موبائل کنکشن کی اہم ترین سروس کو بند کردیا

عوام کے لئے بری خبر پی ٹی اے نے موبائل کنکشن کی اہم ترین سروس کو بند کردیا

اسلام آباد(تہلکہ ٹیکنالوجی ڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر وارد موبائل فون کمپنی کو فورجی سروسز فراہم کرنے کی اجازت دیدی جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا

وارد موبائل فون کمپنی کے پاس نہ تو این جی ایم ایس لائسنس ہے نہ ہی اس نے پہلے اس حوالے سے کسی بولی میں حصہ لیا، آڈٹ جنرل نے معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے تعین اور سخت سزائیں دینے کی سفارش کردی ۔پیر کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے موبائل کمپنیوں کے حوالے سے ایک آڈٹ رپورٹ 2015-16جاری کی جس میں انکشاف کیاگیاکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر وارد موبائل فون کمپنی کو فورجی کی سروسزعوام کو فراہم کرنے کی اجازت دی اس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سفارش کی ہے کہ وارد موبائل فون کمپنی کو غیر قانونی طور پر فورجی سروسز فراہم کرنے کی تحقیقات کی جائیں

ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے ،رپورٹ کے مطابق وارد فورجی ایل ٹی ای سروسز فراہم کر رہی ہے جبکہ اس حوالے سے قانونی طورپر کوئی اجازت نہیں لی گئی جسکی وجہ سے قومی خزانے کو 51692ملین روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔ رپورٹ میں اس بات کابھی انکشاف کیاگیا کہ لائسنس شر ط نمبر پانچ کے مطابق لائسنس کے حصول کے وقت تھری جی کو سپورٹ کرنے والے نظام سمیت دیگر ضروریات پوری ہونی چاہئیں ۔اس حوالے سے درخواست پی ٹی اے ، ایف اے بی بورڈ یاکسی متعلقہ اتھارٹی کے طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہئے ۔شق 5.1 کے مطابق موبائل سیلولر پالیسی 2004میں کہاگیاہے کہ لائسنس سپیکٹرم میں تفویض کردہ عالمی معیار کی حامل ٹیکنالوجی کا حامل ہونا چاہئے ۔

تاہم وارد اس پر پورا نہیں اترتا تھا ۔رپورٹ کے مطابق وارد نے این جی ایم ایس آکشن میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی پی ٹی اے نے اس سے تھری جی اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کے استعمال کالائسنس حاصل نہیں کیا۔وفاقی حکومت پالیسی ہدایات جاری کرنے کے لئے اعلیٰ اتھارٹی ہے ا ور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو اعتماد میں نہ لیاگیا بلکہ پی ٹی اے نے وارد کو چارجی ایل ٹی ای سروس کے ا ستعمال کی غیرقانونی اجازت دیدی ۔ ڈی اے سی نے معاملہ پی اے سی میں اٹھانے کا فیصلہ کرلیا ۔