وطن میں کاروبار زندگی رواں دواں رکھنے کیلئے امن و امان کی اشد ضرورت

وطن میں کاروبار زندگی رواں دواں رکھنے کیلئے امن و امان کی اشد ضرورت

تحریر : سجاد اظہر پیرزادہ

خوبصورتی کے معیار پر پوری اترتی ہوئی دُکان اپنی تمام تر معاشی خوبیوں کے ساتھ سجی ہو۔ روزمرہ کی کھانے اور پینے کی سب اشیاء بھی اِس میں رکھی ہوں۔ سلیقے کے ساتھ ہر شے اپنی جگہ پر موجود ہونے کے ساتھ ساتھ کاؤنٹر پر بیٹھے دوکاندارخریداری کے لئے آنے والے تمام شہریوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے بھی چشم براہ ہوں۔ سامنے والی سڑک پر مگرتوڑ پھوڑ کرتے ہوئے نفرتوں پر مبنی نعرے لگانے والا ہجوم ایک بارپھر آجائے۔ ساتھ والی دُکان میں پچھلی شب ایک مرتبہ پھرڈاکہ زنی ہو چکی ہو ‘بھتے اور رشوت مانگنے والا سرکاری و غیر سرکاری کارندہ ایک دفعہ پھر آدھمکے ‘ تو ایسے میں کوئی بتا ئے کہ اُس جگہ‘ اُس ملک میں پھر کوئی کاروبار کیا خاک چلے گا؟پھلنے اور پھولنے کی بات تو الگ‘ اُن خریداروں اور اُن دوکانداروں پر کیا گزرے گی ہنسی اورخوشی کے ساتھ جو اپنی زندگیاں بسر کرنا چاہتے ہیں؟ پھر تو ایسی ہی خبریں آئیں گی ’’کراچی میں بدامنی سے لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں‘‘۔۔’’ پنجاب سے یہ خبر کہ اکثر علاقوں کا ہر چوتھا فرد کاروبار زندگی کیلئے بیرون ملک جاچکا ہے‘‘۔ ’’کے پی کے سے یہ اطلاع کہ شاید ہی یہاں کوئی ہو اسلحہ لے کر جو اپنے ساتھ نہ چلتا ہو ‘‘۔بلوچستان سے یہ سندیسہ کہ علاقے کا وڈیرہ زندگی بہتر طریقے کے ساتھ گزارنے کا ’’اپنے بندوں‘‘ کو تصور بھی کرنے تک نہیں دیتا‘‘!!۔۔

8سال قبل مکے لہرانے والے حکمران کی طرف سے شہریوں کو ایسے بھاشن اکثر اوقات ملا کرتے تھے کہ فکر کرنے کی ،تلملانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی ملکی صورتحال پر سٹپٹانے کی۔۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب انسانی حقوق معطل تھے اور جمہوریت نہ ہونے کے باعث مملکت پاکستان میں کاروباری زندگی کو رواں دواں رکھنے کیلئے امن و امان ناپید۔ سوال اٹھانے کی آزادی تھی اورنہ ہی عوام کو آزادی کے ساتھ سانس لینے کی اجازت۔ شہریوں کو یاد ہے کہ کاروباری حضرات کو بھتہ کی پرچی ملنا روز مرہ کا معمول تھا۔یہ دور ایک آمر کا تھا ۔ پرویز مشرف کی آمریت کا ۔ آمریت میں مارکیٹوں میں اشیاء خوردونوش بہت مہنگی ہوجاتی ہیں‘ بڑی بڑی منڈیوں میں مگرملکی سلامتی بڑی سستی بیچ دی جاتی ہے!۔آخر آمریت کے 53سالہ مجموعی دور میں پاکستان کو معیشت کی اُجڑی مانگ کے سوا اور ملا بھی کیا ؟
خوش قسمتی سے آج ملک میں بسنے والے شہریوں کی دعا رنگ لے آئی۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ پہلی بار ایک جمہوری جماعت سے دوسری جماعت کو اقتدار منتقل ہونے کے بعد اب پاکستان میں کاروبار زندگی نہ صرف پھل پھول رہا ہے ‘ بلکہ امن او ر امان کی صورتحال بھی پہلے کی نسبت بہتر ہو تی نظر آرہی ہے۔شہریوں کے چہرے پہ مگر فکر کے آثار اب بھی نمایاں ہیں۔ نمایاں ہونے والی اس فکر کا تعلق ملک میں امن و امان کی صورتحال ہی کے متعلق ہے۔

شہری چاہتے ہیں کہ کاروباری زندگی رواں دواں رکھنے کیلئے اُنہیں پاکستان میں فرقہ واریت اور نفرتوں سے بھی چھٹکارا دلا دیا جائے۔پڑھے لکھے شہری ہر طرح کی نفرت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اپنے وطن کو اب دنیا میں نئی شان کے ساتھ ابھرنا دیکھنا چاہتے ہیں۔شہریوں کے چہرے پراُبھرنے والی فکر کی لہر تقاضا کرتی نظر آتی ہے کہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ ایک کمرے میں بیٹھ جانا چاہئیے۔ اُنہیںیاد ہے کہ وہ ایک مرتبہ جنوری 2015 میں بھی بیٹھے تھے، جس کے بعددہشتگردوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کا اعلان ہوا تھا۔

اب وہ چاہتے ہیں کہ ایک نشست اِن 4نکتوں پر عمل درآمد کرنے کیلئے بھی ہوجائے‘ کسی بھی ملک میں کاروبارِ زندگی کو روں دواں رکھنے کیلئے جو لازم و ملزوم ہوتی ہے۔۔

(1)لااینڈ آرڈر کا انتظام ، لوگوں کی زندگیاں،جائیداد اور انکے عقیدے کی ریاست کی طرف سے حفاظت ممکن بنائی جائے۔

(2)کرپشن کا خاتمہ کیا جائے

(3)بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ

(4)ریاست کو گریٹ پاکستان بنانے اور ملکی کاروبار کو دنیا بھر میں پھلتا پھولتا دیکھنے کیلئے حکومت اپنے شہریوں کے تمام حقوق پورے کرے اور بہترین خارجہ پالیسی تشکیل دیتے ہوئے ہمسایوں اور دنیا بھر کے تمام ملکوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کوفروغ دے۔