خبردار، کوئی پش اپس نہیں لگائیگا

خبردار، کوئی پش اپس نہیں لگائیگا

تحر یر : کنول زہرا
آمریت کو جمہور ( عوام ) کا دشمن کہا جاتا ہے. کیونکہ آمر اپنی مرضی پوری قوم پر مسلط کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے کہ اس کے کسی بھی عمل کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جائے بلکہ اس کے ہراقدام پر تحسن کے کلمات کی ادا ئیگی کی جائے. اگر ہم پاکستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو یہاں آمریت نے وقتا فوقنا پنجہ آزمائی کی ہے . میں زیادہ دور نہیں ماضی قریب کی بات کرونگی. ہم سب  پرویز مشرف کی آمریت کے دور سے باخو بی واقف ہیں. کیسا خطرناک امر تھا جس کے دور میں مہنگائی نہیں تھی. کیسا خطرناک آمر تھاجو مسجد میں براجمان گھس بھٹیے اور حقیقی عالم دین  کے مابین تمیز ر کھتا تھا . کیسا برا آ مر تھا اس کے دور میں ہر جمعہ کے روز ” وردی اترو ‘” احتجاجی دھرنا ہوتا تھا. اور وہ اس احتجا ج پر کسی قسم کی بند ش عائد نہیں کرتا تھا. کوئی روکا ٹ حا ئل نہیں کرتا تھا نہ ہی ہاتھ نچا کر بو لتا تھا کہ خدا کے لئے ہماری ٹا نگیں نہ کھنچو.  کیسا خطرناک آ مر تھا جس نے نشر و اشاعت کے مراکز کو فروغ دیا تھا. کیسا برا آ مر تھا جسے  صحافی برداری کے روز معاش کی فکر تھی جس نے کسی میڈیا ہاؤس پر پابندی عائد نہیں کی تھی. پرویز مشرف کتنا برا انسان تھا جس نے عالمی برداری کے سامنے بھارت سے دوستانہ مراسم میں پہل کرتے ہوے مصحافہ کیا اور ہندوستان کا خفت سے بھرا چہرہ دنیا کے سامنے لایا. پرویز مشرف کتنا خطرناک آ مر تھا جس نے پاکستان کو شرمندہ نہیں ہونے دیا اور بھارت جاکر ان کی حکومت کو اس طر ح سے لر ز یا جیسےمرکز کی حکومت کے آ نے پر صوبائی حکومت کے ہاتھ پیر پھو ل جاتے ہیں.پرویز مشرف کیسا برا آ مر تھا جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کیساتھ وطن عزیز کی جیت کا جشن مناتا تھا. قومی ٹیم کےکھلاڑیوں کو ایوان صدر میں مدعوکر کے ان کی حوصلہ افزائی کرتا تھا. ہاں پرویز مشرف بہت برا انسان تھا کیو نکہ اس کے دور میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا . کتنا برا آدمی تھا ‘ پاکستان فرسٹ ‘ کہا کرتا تھا۔ پھر یوں ہوا اس برے آ مر کا دور  چلا گیا. جمہوریت آ گی. جمہوری دور کے شر وع ہوتے ہی مہنگائی کا جن بے قا بو ھو گیا . ڈا لر بلندیوں کی سطح پر جانے لگا. اگر کوئی صحافی مزاج کے خلاف سوال پوچھ لے تو اس کو بد تمیز ی اور غیر اخلاقی حرکت کہا جانے لگا. ان نیوز چینلز کا با ئیکاٹ کیا جانے لگا جو جمہو ر کا خیا ل کرتے ہوے سچ کی پاسداری کرتے ہیں. ان صحافیوں کے لئے روزگار کے دروازے بند کیے جانے لگے جو جیالے یا لیگی نہیں ہوتے صرف صحافی ہوتے ہیں . اس کے علا و ہ  ہم نے یہ بھی دیکھاکہ پاکستان کے آ مر سے خوف زدہ ہندوستان، جمہو ری دور میں پاکستان کو آ نکھیں دکھانے لگا یہ ہی نہیں بلکہ چشم فلک نے دیکھا کہ  بھارت کا وزیراعظم  اپنی کا بینہ کے ہمراہ پاکستان بنا ٹکٹ کے اس طرح آ یاجیسے  (خاکم بدہن) وطن عزیز اسکی صوبائی ریاست ھو. مگر اس ساری صورت حال پر کسی کو ایک لفظ بولنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جمہوریت کو خطر ه ھو سکتا ہے . سنو ! اپنے حق کے لئے کبھی آواز نہ ا ٹھنا کیونکہ جمہوریت کی تعظیم متا ثر ہوگی اور ہاں خبر دار جو پش اپس لگا ئے یہ بھی غیرجمہو ری عمل ہے. اب ذرا دیکھو تو جمہو ریت نے اپنے نور نظر صحافی کے ہاتھ میں پاکستان کرکٹ کا مستقبل اس لئے تھوڑی  تھمایا  ہے کہ پاکستان جیت سے ہمکنار ھو . مگر یہ فوجی یہاں بھی آ گئے  اور پاکستان کرکٹ ٹیم دنیا بھر کے میدانوں میں وطن عزیز کا پر چم سر بلند کرنے لگی . خبر دار پاکستان کر کٹ کے لئے آرمی ٹریننگ مناسب نہیں کیونکہ اس سے پاکستان کرکٹ کی پر فارمنس میں بہتری آ رہی ہے. اور پھر  جیت کے بعد کھلا ڑ ی  پاک فوج کو پش اپس کے ذ ر یعہ سلامی دیتے ہیں لہذا یہ پش اپس جمہو ریت کے لئے خطر ہ ہیں . خبردار اگر کسی نے پش اپس لگائے ….